سفینۂ نجات اور فرشِ عزا کی فرصت؟

حوزہ/سفینۂ نجات اور فرشِ عزا کی فرصت ایک ایسا عنوان ہے جو روح کی پاکیزگی، معرفتِ الٰہی اور اہلِ بیت (ع) سے متمسک ہونے کے گہرے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسلامی روایات اور شیعی افکار میں "سفینۂ نجات" (نجات کی کشتی) اور "فرشِ عزا" (امام حسین (ع) کی عزاداری کی بساط) دو ایسے اہم استعارے ہیں جو انسان کو دنیاوی آلودگیوں سے نکال کر ابدی کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

تحریر: عامر حسین کشمیری

حوزہ نیوز ایجنسی|

إنَّ الحُسَينَ مِصباحُ الهُدى وسَفينَةُ النَّجاةِ (بیشک حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہیں)

سفینۂ نجات اور فرشِ عزا کی فرصت ایک ایسا عنوان ہے جو روح کی پاکیزگی، معرفتِ الٰہی اور اہلِ بیت علیہم السلام سے متمسک ہونے کے گہرے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسلامی روایات اور شیعی افکار میں "سفینۂ نجات" (نجات کی کشتی) اور "فرشِ عزا" (امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی بساط) دو ایسے اہم استعارے ہیں جو انسان کو دنیاوی آلودگیوں سے نکال کر ابدی کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مشہور اور متفق علیہ حدیث ہے۔

"مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ"

(میرے اہلِ بیت کی مثال نوح کی کشتی جیسی ہے، جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جس نے دوری اختیار کی وہ غرق ہو گیا)۔

فرشِ عزا" صرف ایک کپڑا یا بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب ہے، ایک جامعہ ہے جہاں انسان کو انسانیت، ایثار، وفا اور بندگی کا درس ملتا ہے۔ فرشِ عزا پر بیٹھ کر جب ایک مومن مصائبِ کربلا سنتا ہے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہتے ہیں، تو وہ آنسو اس کے دل کی سختی کو ختم کر دیتے ہیں۔

یہاں امیر و غریب، شاہ و گدا سب ایک ہی سطح پر بیٹھتے ہیں۔ دنیاوی رتبے ختم ہو جاتے ہیں اور صرف پائے مودت باقی رہ جاتا ہے۔مجلسِ عزا میں ذکرِ الٰہی اور فضائل و مصائبِ اہلِ بیتؑ کے ذریعے انسان اپنے مقصدِ حیات سے روشناس ہوتا ہے۔روایات کے مطابق، مجلسِ حسینؑ میں آنے والے کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے خزاں میں درخت کے پتے۔

فرشِ عزا کی فرصت: ایک عظیم نعمت اور غنیمت

زندگی میں "فرصت" یا وقت کی مہلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن فرشِ عزا پر بیٹھنے کی فرصت ملنا ایک خاص توفیقِ الٰہی ہے۔ موجودہ دور کی مصروف ترین زندگی، جہاں انسان مادی فوائد کی دوڑ میں اندھا ہو چکا ہے، وہاں کچھ لمحے نکال کر فرشِ عزا پر بیٹھنا ایک بہت بڑی سعادت ہے۔

اس فرصت کو غنیمت سمجھنے کی چند اہم وجوہات یہ ہیں.

یہ زندگی فانی ہے اور سانسوں کی ڈوری کب ٹوٹ جائے، کوئی نہیں جانتا۔ جو لمحہ فرشِ عزا پر گزر جائے، وہی اصل زندگی ہے۔

فرشِ عزا سفینۂ نجات کا وہ ٹکٹ ہے جو آخرت کے ہولناک سفر میں انسان کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ سید الشہداءؑ کی عزاداری میں گزارا ہوا وقت قبر و حشر کا سرمایہ ہے۔

یہ فرصت انسان کو موقع دیتی ہے کہ وہ دنیا کی بھیڑ سے کٹ کر چند لمحوں کے لیے سوچے کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور اس کا رخ کس طرف ہے۔

الغرض فرشِ عزا کی فرصت دراصل انسان کو اپنی اصلاح کرنے، مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ زندگی کی اس مہلت کو غنیمت جانیں، فرشِ عزا کی حرمت کا پاس رکھیں اور یہاں سے حاصل ہونے والے دروس کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی سفینۂ نجات پر سوار ہونے اور ابدی کامیابی حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha