تحریر: عامر حسین کشمیری
حوزہ نیوز ایجنسی| محرم الحرام کا چاند نمودار ہوتے ہی فضائیں سوگوار اور دل یادِ حسینؑ میں تڑپنے لگتے ہیں۔ نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کی لازوال قربانی تاریخِ انسانی کا وہ روشن باب ہے جو رہتی دنیا تک مظلوموں کے لیے حوصلہ اور ظالموں کے لیے عبرت کا نشان ہے۔ ایامِ عزا محض رونے اور ماتم کرنے کے دن نہیں ہیں، بلکہ یہ ملوکیت، ناانصافی اور فتنہ و فساد کے خلاف ایک ابدی تحریک کا نام ہے۔ آج کے اس پرآشوب دور میں، جہاں مسلم امہ تفرقہ بازی، فتنہ و فساد اور فکری انتشار کا شکار ہے، سیرتِ شبیرؑ ہمارے لیے اتحاد اور بیداری کا سب سے بڑا درس ہے۔
یزیدی دورِ حکومت دراصل فتنہ و فساد، نظریاتی بگاڑ اور اسلامی اقدار کی پامالی کا دور تھا۔ ایسے سنگین حالات میں امام حسینؑ نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے قیام کا فیصلہ کیا۔ آپؑ کا یہ اقدام کسی دنیاوی اقتدار یا مال و دولت کے لیے نہیں تھا، بلکہ جیسا کہ آپؑ نے خود فرمایا:"میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں۔"
سیرتِ شبیرؑ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب معاشرے میں باطل پنپنے لگے، ظلم کا دور دورہ ہو اور فتنہ و فساد عام ہو جائے، تو مصلحت پسندی کو چھوڑ کر حق کے پرچم تلے متحد ہو جانا ہی اصل بندگی ہے۔ کربلا کا میدان رنگ، نسل، اور قبیلے کی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک مرکز پر جمع ہونے کا نام ہے۔ وہاں حبیب ابن مظاہر جیسے معمر صحابی بھی تھے، علی اکبرؑ جیسے کڑیل جوان بھی، اور حرؑ جیسے تائب ہونے والے لشکرِ مخالف کے کمانڈر بھی۔ یہ تنوع اس بات کی دلیل ہے کہ حق کے محاذ پر اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔
آج مسلم دنیا جن سنگین حالات سے گزر رہی ہے، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ فرقہ واریت، تکفیر، گروہ بندی اور فکری انتشار نے ہمیں کمزور کر دیا ہے۔ دشمنانِ اسلام اسی اندرونی پھوٹ کا فائدہ اٹھا کر ہماری صفوں میں مزید دوریاں پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے میں عزاداریِ سید الشہداءؑ کا فلسفہ ہمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
ایامِ عزا کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ تمام کلمہ گو امام حسینؑ کی ذاتِ گرامی کو مرکزِ اتحاد بنائیں۔ حسینؑ کسی ایک مکتبِ فکر یا گروہ کے نہیں، بلکہ وہ کائناتِ انسانیت کے رہبر ہیں۔ جب ہم مجالس اور جلوسوں میں شریک ہوتے ہیں، تو ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی صفوں سے فتنہ و فساد اور نفرت کی ہر دیوار کو گرا دیں گے۔
اگر ہم واقعی فتنہ و فساد کے اس دور میں سیرتِ شبیرؑ سے روشنی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں درج ذیل اصولوں کو اپنانا ہوگا:-
ہمیں اختلافی مسائل کو پسِ پشت ڈال کر کلمہ توحید، رسولِ اکرمؐ اور محبتِ اہل بیتؑ جیسے عظیم مشترکات پر متحد ہونا ہوگا۔
فتنہ و فساد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کریں اور تکفیر و دشنام طرازی سے پرہیز کریں۔
امام حسینؑ نے کربلا میں دشمن کو بھی پانی پلا کر اخلاقِ محمدیؐ کا ثبوت دیا۔ ہمیں بھی اسی حسینی بصیرت کو اپناتے ہوئے اپنوں کو گلے لگانا ہوگا۔
المختصر ایامِ عزائے امام حسینؑ ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ فتنہ و فساد کے تاریک ترین دور میں بھی حق کی شمع کو جلائے رکھنا ہے۔ کربلا کا درس صرف ماضی کی یاد منانا نہیں، بلکہ حال کو حسینیؑ کردار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ آج اگر امتِ مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہے اور باطل قوتوں کو شکست دینا چاہتی ہے، تو اسے پرچمِ حسینیؑ کے نیچے متحد ہونا پڑے گا۔ سیرتِ شبیرؑ کی روشنی میں اتحاد کا دامن تھام کر ہی ہم ہر دور کے یزیدی فتنے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو محبتِ اہل بیتؑ کے نور سے منور رکھ اور ہمیں ہر دور کے یزیدی فتنے کو پہچاننے کی بصیرت اور اس کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کی شجاعت عطا فرما۔ آمین، یا رب العالمین۔









آپ کا تبصرہ