تحریر : آغا سید عابد حسین حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی I شہیدِ مظلوم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (مدظلہ العالی) کی شہادت کی خبر نے جہاں ہر مومن کے دل کو داغدار کیا، وہیں کشمیریوں نے اپنی وفاداری اور جذبے کا ایسا لوہا منوایا کہ مثال ملنا مشکل ہے۔
دس ماہ رمضان مبارک کو سحر کے وقت شھادت کی خبر سنتے ہی اطراف و اکناف سے مرد و زن، پیر و جوان، حتی معصوم بچے عزاداری میں خون کے آنسوں رو رہے تھے اور علی الصبح لال چوک کا رخ کیا جہاں مومنین و مومنات کا دن بھر جم کر رہنا، رہبر معظم کی شہادت پر حقیقی معنوں میں اپنے وظیفے کو انجام دینے کی زندہ مثال تھی۔ یہ محض ایک جلسہ نہ تھا، یہ اظہارِ عقیدت تھا، یہ پیغامِ وفا تھا۔
اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کی کتابوں میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا۔ بغیر کسی مرکزی منصوبے کے، بغیر کسی راہنما کے، صرف ایران ایمبیسی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کشمیر کے نوجوانوں نے "اقتصادی" طور ایک ایسا کارنامہ انجام دیا کہ صرف 48 گھنٹوں میں سینکڑوں اور لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے جمع کر دیے۔ یہ کوئی معمولی امداد نہ تھی، یہ انقلاب، اسلام اور ایثار کے لیے ایک منفرد جذبے کا اظہار تھا۔
سوشل میڈیا رھبر کا خواب
شاید پوری دنیا میں سوشل میڈیا کو کبھی اس طرح اسلام، انقلاب اور انفاق کے لیے استعمال نہ کیا گیا ہو، جس طرح ان دنوں کشمیر کے نوجوانوں نے کیا۔ جو کبھی شھید رھبر کا خواب تھا یہاں تک کہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو بھی مجبوراً اپنے پرائم ٹائم پروگراموں میں کشمیریوں کی اس امدادی و حمایتی مہم کو جگہ دینا پڑی۔
ایران سے شکر و قدردانی کا سیلاب
اظہار یکجہتی کا یہ جذبہ اتنا بلند تھا کہ اس کی بازگشت پورے ایران میں سنائی دی۔ ایران کے عوام سے لے کر علمائے کرام، دانشور، سیاست دان، حتیٰ کہ فرنٹ لائن پر لڑنے والے رزمندگانِ اسلام نے بھی اس حمایت پر اظہارِ مسرت، تشکر اور قدردانی کیا۔ کشمیر نے اپنے ایثار سے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ محبت اور وفاداری کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ایران صغیر کی ثقافت کا جزء لاینفک ہے۔
ایک قومی تحریک جس میں شامل ہوئے سب
سب سے دلچسپ پہلو یہ رہا کہ یہ حرکت اگرچہ انفرادی طور پر، محلہ محلہ شروع ہوئی، لیکن جلد ہی یہ ایک مکمل قومی تحریک بن گئی۔ اس میں سنی، ہندو اور سکھ بھائی شانہ بشانہ شامل رہے۔ ہندوستان میں غیر مسلم بھی اس مہم کو دیکھ کر خوشی خوشی اس میں شامل ہو گئے۔ یہ کشمیر کی اخلاقی بلندی اور انسانیت کی سربلندی کی روشن دلیل ہے۔
دیانت داری کی اعلیٰ مثال
اس عظیم کارنامے میں ایک اور نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ نوجوانوں نے انتہائی دیانت داری کا مظاہرہ کیا۔ سونے کی نیلامی کے لیے سنار سے قیمت دریافت کی، تانبے اور پیتل کے برتنوں کے لیے لوہار سے مشورہ کیا، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے ماہرین کو کنسلٹ کیا۔ ہر ممکن کوشش کی گئی کہ بغیر کسی دھوکا دھڑی کے زیادہ سے زیادہ رقم حاصل ہو۔ بس ایک عالم دین سے معاملے کا حرام و حلال پوچھنے میں غفلت ہوئی۔
علمائے کرام سے عاجزانہ گزارش
اس پوری مہم میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ جمع کردہ اشیاء نہ کسی کی ملکیت ہیں، نہ کسی وقف کا حصہ ہیں، اور نہ ہی فقہ کے معاملات کے دیگر ابواب میں کوئی اور باب ہے ماسوائے ھبہ۔ یہ دراصل ھبہ (گفٹ) کا مصداق ہیں۔
فقہ کے مطابق ھبہ میں رابط (جمع کرنے والا) ضامن ہوتا ہے اور وہ ھبہ کو کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ اب چونکہ یہ ھبہ ایرانی قوم کے لیے ہے، اور جمع شدہ اشیاء کو ان تک پہنچانا ایک نازک ذمہ داری ہے، انفرادی استفسار میں کئی متضاد جوابات سننے کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں علمائے کرام رہبر معظم کے نمائندہ آیت اللہ حکیم الہی دامت برکاتہ سے رجوع کریں۔ اور اس معاملے کی بروقت مدیریت کرے یہ نہایت معمولی مسئلہ ہے، جسے اختلافات اور مایوسی کا باعث نہیں بنایا جانا چاہیے۔
لہٰذا میں تمام علمائے کشمیر سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے لیے آگے آئیں اور اس معمولی سے مسئلہ کو کسی بھی بحرانی صورت حال میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی حل کریں۔
عقل کا تقاضا ہے کہ عوام علماء کی رہنمائی پر عمل کرے۔ یہ وہ وقت ہے کہ ہم اپنی اس عظیم الشان قربانی اور جذبے کو صحیح راستے پر لے جائیں، تاکہ یہ امانت جس کے لیے جمع کی گئی تھی، اس تک پہنچ سکے۔
کشمیر نے اپنی محبت اور ایثار کی تاریخ لکھ دی ہے۔ اب وقت ہے کہ اس عظیم کارنامے کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اتحاد اور علمائے کرام کی رہنمائی کو ہماری راہ کا چراغ بنائیں۔
اللھم انصر قائدنا سید مجتبی خامنہ ای و افتح لایران فتحا عظیما۔









آپ کا تبصرہ