حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہیئتِ طلاب بلتستان نجف اشرف کے تحت حوزہ علمیہ نجف اشرف کے ممتاز اساتذہ، محقیقن اور مترجمین کے لیے ایک علمی نشست کا انعقاد ہوا؛ علمی نشست سے محقق علامہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی نے خطاب کرتے ہوئے قلم، ترجمہ اور تالیف کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر بشوی نے حصولِ علم کی تین قرآنی اور الٰہی راہوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسان کے اندر کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیا۔
علامہ ڈاکٹر یعقوب بشوی نے موجودہ دور کے علمی جمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم ہمیں تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ تدبر معارف الہیٰ کے حصول کے لیے شرط ہے اور اس کے بغیر ہم تخلیق علم تک جا ہی نہیں سکتے۔ آج بہت سارے اجتہادی موضوعات میں ہمیں لکیر کے فقیر بنا کر رکھا ہوا ہے۔ جب تک ہم ان میں خود تحقیق اور تلاش نہیں کریں گے علمی دنیا میں آگے بڑھ نہیں سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اجتہاد کو تنہا فقہ اور اصول تک محدود کرکے رکھا ہے۔ میرے خیال میں یہ قرآنی تعلیمات کے خلاف علمی نتیجہ ہے۔ قرآنِ کریم لیتفقھوا فی الدین کہہ کر ہر ضروری علم میں فقیہ کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ ہر علم میں مجتہد پروری پر زور دیتا ہے، لہٰذا آج زاویہ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہے، تاکہ فقہی مسئلے سے گزر کر ایک جامع عالمی نظام کی طرف طلاب سفر کرسکیں۔
نشست کے اختتام پر سوال وجواب کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اس موقع پر ہیئتِ طلاب بلتستان نجف اشرف کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید مبارک موسوی اور شعبۂ تحقیق کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین شیخ یوسف ربانی نے ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر بشوی نے نیز ہر قسم کے علمی اور فکری تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی۔









آپ کا تبصرہ