حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن اور جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ سید احمد خاتمی نے پاکدشت کے فرون آباد میں محرم الحرام کی دوسری شب کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نہضتِ عاشورا کو ملتِ ایران کی دینی اور انقلابی شناخت کا بنیادی سرچشمہ قرار دیا اور وحدت، عوامی بیداری اور ولایتِ فقیہ سے وابستگی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج ملتِ ایران کو جو عزت، استقلال اور استقامت حاصل ہے، وہ مکتبِ سیدالشہداء علیہ السلام اور ثقافتِ عاشورا کی مرہونِ منت ہے۔ ان کے بقول عاشورا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ آزادی پسند اقوام کے لیے مسلسل الہام اور بیداری کا سرچشمہ ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے امام حسین علیہ السلام کے ذکر و یاد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیدالشہداء علیہ السلام کا نام انسان کو ہدایت، نجات اور الٰہی اقدار سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر شہدائے گمنام کی میزبانی کے اقدام کو بھی سراہا اور کہا کہ شہداء قوم کے اتحاد، برکت اور اجتماعی یکجہتی کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے ملک کے استحکام میں عوامی کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی فعال موجودگی، مسلح افواج کی طاقت اور رہبرِ انقلاب کی رہنمائی میں سفارتی اداروں کی مؤثر کارکردگی، ملک کی پیشرفت اور دشمنوں کی ناکامی کے بنیادی عوامل ہیں۔ ان کے مطابق قرآن کریم، سیرتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور مکتبِ حسینی سبھی مؤمنین کو معاشرے کے اہم اور سرنوشت ساز میدانوں میں فعال کردار ادا کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
رکن مجلس خبرگان نے کہا کہ واقعۂ عاشورا صبر، استقامت اور احساسِ ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے روزِ عاشورا اپنے اصحاب کو ثابت قدمی کی تلقین کی تھی اور یہی پیغام آج بھی اسلامی معاشروں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
انہوں نے قومی وحدت کو امام خمینیؒ اور رہبرِ معظم انقلاب کی مستقل تاکید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن ہمیشہ عوام اور ذمہ داران کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے تفرقہ انگیز بیانات اور غلط تجزیوں سے اجتناب ضروری ہے۔ ان کے بقول انقلاب اسلامی کے تقریباً نصف صدی کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جہاں وحدت اور انسجام موجود رہا، وہاں دشمن اپنے مقاصد میں ناکام رہا۔
آیت اللہ خاتمی نے ولایتِ فقیہ کو اسلامی نظام کا محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں ایران کی کامیابیوں کا بنیادی راز رہبرِ انقلاب کی ہدایات کی پیروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی وفاداری کو ولایت مداری کی بہترین مثال قرار دیا اور کہا کہ یہی روحیہ آج بھی اسلامی معاشرے کی سربلندی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ خبروں اور اطلاعات کے حصول میں احتیاط سے کام لیں، کیونکہ بعض دشمن میڈیا ادارے مایوسی، بداعتمادی اور اختلافات کو ہوا دینے کے لیے منظم نفسیاتی جنگ چلا رہے ہیں۔ انہوں نے سورۂ حجرات کی آیت 6 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر مصدقہ خبروں کی اشاعت سے گریز اور حقائق کی تحقیق ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے۔ آخر میں انہوں نے اسلام کی سربلندی، جبهۂ مقاومت کی کامیابی، رہبرِ معظم انقلاب کی سلامتی اور حضرت ولی عصر عجلاللہفرجہ کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کی۔









آپ کا تبصرہ