حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف مفسرِ قرآن اور خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے تہران کے حسینیہ ہدایت میں محرم الحرام کی دوسری مجلس سے خطاب کرتے ہوئے سورۂ تکویر کی آخری آیات کی تشریح کی اور کہا کہ ایمان، اخلاق اور عمل کی تمام بلندیاں انسان کے ارادے اور خواہش سے وابستہ ہیں، تاہم خود یہ خواہش بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور توفیق کے سائے میں پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں بیان کردہ تمام کمالات انسان کی دسترس میں ہیں۔ اگر کوئی شخص سچے دل سے ان کا طلب گار ہو تو اپنی استعداد کے مطابق ان نعمتوں سے بہرہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ خود اس راستے کا انتخاب نہ کرے تو محرومی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
حجۃ الاسلام انصاریان نے واقعۂ عاشورا کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمر سعد کا ایک قاصد پیغام پہنچانے کے لیے امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، لیکن امامؑ کی گفتگو اور شخصیت سے متاثر ہو کر واپس جانے کے بجائے حق کے قافلے میں شامل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب انسان اپنے اندر صلاحیت پیدا کرتا ہے تو خداوند متعال اسے اپنی خصوصی عنایت سے نوازتا ہے۔
انہوں نے آیت «إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ» کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم انسان کو دنیا و آخرت، توحید، معاد، اخلاق اور کائنات کی حقیقتوں سے آشنا کرتا ہے، لیکن اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتا ہے جو راہِ استقامت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اسی طرح آیت «وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ» اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نیکی، ایمان اور ہدایت کی خواہش بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام اپنے محبان کی ہمیشہ دعا کرتے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام کے مطابق مجالسِ اہلِ بیتؑ میں شرکت بھی ان حضرات کی خاص عنایت کا نتیجہ ہوتی ہے، جبکہ امام رضا علیہ السلام کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ بیتؑ اپنے پیروکاروں کو کبھی اپنی دعاؤں سے محروم نہیں کرتے۔
حجۃ الاسلام انصاریان نے زور دے کر کہا کہ نہج البلاغہ میں اہلِ بیت علیہم السلام کو "مفاتیح الہدیٰ" اور "ابواب الہدیٰ" قرار دیا گیا ہے، یعنی ہدایت کی کنجیاں اور دروازے انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام مختلف ذرائع سے انسانوں کو ہدایت کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور بسا اوقات ایک معمولی سا واقعہ بھی کسی کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ مجالسِ عزائے حسینی، قرآن سے وابستگی اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت انسان کے لیے عظیم الٰہی نعمتیں ہیں۔ ان کے بقول سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ خدا اور اہلِ بیتؑ کسی بندے کو اپنے راستے کے لیے منتخب کر لیں، کیونکہ انہی کی عنایت انسان کو ہدایت اور کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔









آپ کا تبصرہ