۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
حجت الاسلام هدایت

حوزہ / مذہبی ماہرِ تعلیم نے کہا: حضرت فاطمہ معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کو باعظمت بنانے والی ایک چیز یہ تھی کہ وہ اپنے امام کی نصرت کے لیے مدینہ سے نکلی تھیں اور اسی عظیم ہدف کے حصول میں قم میں شہید ہو گئیں اور اسی طرح جس چیز نے حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کو عظمت عطا کی وہ یہ تھی کہ انہوں نے بھی اپنی زندگی کو اپنے وقت کے امام اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کے فروغ کے لئے قربان کر دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام ہدایت نے ٹی وی چینل "شما" اور "نور" سے"یکشنبہ ہای فاطمی" (فاطمی سنڈے) کےعنوان سے لائیو نشر ہونے والے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: روایات میں آیا ہے کہ "قم؛ حرمِ اہل بیت علیہم السلام ہے" اور اسی وجہ سے امام رضا علیہ السلام نے اپنی ہمشیرۂ گرامی کے زیارت نامہ میں ائمہ علیہم السلام کو موجود و حاضر خطاب کے ساتھ سلام پیش کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ایران میں تقریباً 6,000 امام زادے ہیں۔ ان امام زادوں میں سے بعض اہل بیت علیہم السلام کے ہاں اعلیٰ مقام رکھتے تھے جیسا کہ حضرت فاطمہ معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کہ جنہیں کریمۂ اہلبیت علیہم السلام کا لقب دیا گیا اور جیسے حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام ہیں کہ جن کی زیارت کے ثواب کو زیارت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے ثواب سے تعبیر کیا گیا ہے۔

حجۃ الاسلام ہدایت نے کہا: حضرت فاطمہ معصومۂ قم سلام اللہ علیہا کو باعظمت بنانے والی ایک چیز یہ تھی کہ وہ اپنے امام کی نصرت کے لیے مدینہ سے نکلی تھیں اور اسی عظیم ہدف کے حصول میں قم میں شہید ہو گئیں اور اسی طرح جس چیز نے حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کو عظمت عطا کی وہ یہ تھی کہ انہوں نے بھی اپنی زندگی کو اپنے وقت کے امام اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کے فروغ کے لئے قربان کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا: تمام امام زادوں میں سے ہمارے پاس صرف تین امام زادے ایسے ہیں کہ جن کے لیے خود ائمہ علیہم السلام نے زیارت نامہ ذکر کیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے حضرت عباس علیہ السلام، دوسرے حضرت علی اکبر علیہ السلام اور تیسرے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ ہیں کہ ان تینوں کا مقام بہت عظیم ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 7 =