حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امامباڑہ حسینیہ محلہ پرانی بستی بکھری مبارکپور ہندوستان میں سالانہ خمسۂ مجالسِ عزاء کے تیرہویں دور کی چوتھی مجلسِ عزاء کا انعقاد ہوا؛ جس سے مولانا سید ضیغم الرضوی نے خطاب کیا۔

قرآن مجید کا دعویٰ ہے کہ ’’اسے کوئی چھو نہیں سکتا مگر وہ جو ہر طرح سے پاک ہوں‘‘ جبکہ کافر و مشرک ہر طرح کے انسان اسے چھوتے ہیں۔علما نے بتایا کہ چھونے سے مراد سمجھنا ہے یعنی قرآن مجید کو سمجھنا سب کے بس کی بات نہیں ہے اسی طرح حدیثِ معصوم کو سمجھنا بھی کوئی آسان نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام کی مسلمہ اور متفق علیہ حدیث مبارکہ جو جامع ترمذی ، مستدرک حاکم ،مستدرک الوسائل سمیت دیگر کتب احادیث میں موجود ہے کہ ’’ بیشک حسین ابن علی علیہما السلام کی شہادت مو منین کے دلوں میں ایسی حرارت و تڑپ پیدا کرتی ہے جو کبھی بھی ٹھنڈی پڑنے والی نہیں ہے ‘‘۔ جبکہ امام حسین کی عزادار ی ہر قوم ،ہر مذہب،ہر طبقہ کے لوگ کرتے ہیں تو ایسے میں رسول کی حدیث جس میں ’’قلوب مومنین‘‘ کی تعیین ہے کو کیا سمجھا جائے۔اس کے جواب میں علما نے بتایا کہ حرارت سے مراد حرارتِ جسمانی نہیں بلکہ حرارت روحانی ہے ۔صرف وہی دل جو توحید ،نبوت اور محبت اہل بیت سے زندہ ہوں اس عظیم قربانی کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ مومنین وہ لوگ ہیں جو حق کی راہ میں قربانی دینے والوں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کا غم کبھی فراموش نہیں کرتے۔

ان خیالات کا اظہار حجۃ الاسلام سید ضیغم الرضوی الہ آبادی( مقیم ایران) نے صحن امامباڑہ حسینیہ محلّہ پرانی بستی بکھری مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں منتظمہ کمیٹی واراکین انجمن عباسیہ رجسٹرڈ محلہ پرانی بستی بکھری مبارکپور کی جانب سے منعقد سالانہ خمسۂ مجالس کے تیرہویں دور کی چوتھی مجلس کو بتاریخ ۵؍جولائی بروز اتوار بوقت ۹؍بجے شب خطاب کے دوران کیا۔
مولانا نے کہا کہ عزائے امام حسین علیہ السلام دلوں میں ایمانی حرارت و تقویت کی باعث ہے یہی وجہ ہے کہ قریب چودہ سو سال سے عزائے امام حسین مختلف ادوار میں سخت سے سخت مختلف اقسام کی مختلف پابندیوں اور سختیوں کا مقابلہ کرتی ہوئی آج پوری دنیا میں عقیدت و احترام کے ساتھ نہ صرف جاری و ساری ہے، بلکہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجالس عزائے امام حسین کا اثر ہے کہ امت مسلمہ کے دلوں میں ظلم و جور کے خلاف جذبہ جہاد، شوق شہادت، عشق اہل بیت، حق پرستی اور استقامت و مقاومت کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ دور حاضر میں جذبہ شہادت کے متوالوں کی شان دیکھنی ہو تو ایرانی قوم کو دیکھو جو مکتب عاشورہ و درسگاہ کربلا سے فیضیاب ہو کر اتنی جرأتمند اور طاقتور بن گئی ہے کہ نام نہاد سپر پاور امریکہ اور غاصب و خائن اسرائیل کو جنگی، صحافتی، سفارتی، تعلیمی، سیاسی، سماجی، سائنس ٹیکنالوجی ہر محاز پر بھرپور شکست دینے کی صلاحیت و قابلیت رکھتی ہے۔ عزائے حسین کی مخالفت وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں بغض و حسد اور نفاق بھرے ہوئے ہیں۔

آخر میں مولانا نے اہل حرم کی اسیری کے مصائب بیان کئے جسے سن کر سامعین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
اس موقع پر مولانا ابن حسن املوی صدرالافاضل واعظ، مولانا نصیر المہدی قمی، مولانا حسن محمد بکھروی مقیم لبنان، ماسٹر مشتاق خان، ماسٹر فرزند علی خان، ڈاکٹر سلمان اختر، ڈاکٹر منظر حسن، عباس احمد غدیری، محمد قاسم جوادی سمیت کثیر تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ