حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام مولانا سید تقی رضا عابدی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مولانا سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال کی خبر نہایت رنج و الم کے ساتھ موصول ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم حق گوئی، بے باکی اور جرأتِ اظہار کے مجاہد تھے اور ملتِ اسلامیہ میں ان کا علمی، دینی اور سماجی مقام نہایت بلند تھا۔ ان کی قدآور شخصیت، گہرا علم، تقویٰ، اخلاص اور راست گوئی انہیں اپنے عہد کے ممتاز علماء میں نمایاں مقام عطا کرتی تھی۔
مکمل تعزیتی پیغام حسب ذیل ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جناب مولانا سلمان ندوی صاحبؒ کے انتقال کی خبر نہایت رنج و الم کے ساتھ موصول ہوئی۔ وہ حق گوئی، بے باکی اور جرأتِ اظہار کے مجاہد تھے۔ ملتِ اسلامیہ میں ان کا علمی، دینی اور سماجی مقام نہایت بلند تھا۔ ان کی قدآور شخصیت، گہرا علم، تقویٰ، اخلاص اور راست گوئی ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
انہوں نے اپنے علم، وقار اور اثر و رسوخ کو کبھی ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی کے لیے وقف رکھا۔ وہ ملت کے انتشار اور تفرقے کو سخت ناپسند کرتے تھے اور امت کے درمیان موجود اختلافات کو ختم کر کے وحدت و اخوت کی فضا قائم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں رہے۔
مولانا سلمان ندویؒ نے اپنی عملی زندگی سے ایک روشن مثال قائم کی۔ ان کے نقشِ قدم پر چلنا، ان کے منہج کو زندہ رکھنا اور ان کے افکار و نظریات کی حفاظت کرنا آج کے علماء اور آنے والی نسلوں کی اہم ذمہ داری ہے۔
ہندوستان میں وہ اتحادِ امت کی ایک مضبوط آواز اور ایک روشن چراغ تھے، جو آج بجھ گیا۔ ان کی جدائی کا خلا طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا، لیکن ان کی خدمات، افکار اور اخلاص ہمیشہ اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی حسنات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور پسماندگان، متعلقین اور تمام اہلِ علم کو صبرِ جمیل و اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ









آپ کا تبصرہ