اتوار 12 جولائی 2026 - 01:53
مکہ مکرمہ کا محاصرہ، خانۂ کعبہ پر سنگ باری اور یزیدی فکر کی مسلسل یلغار

حوزہ/امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اپنے مقدس خون سے دین اسلام کی بقا کی ضمانت دی اور آپؑ کی شہادت کے فوراً بعد یزیدی حکومت نے جو مظالم ڈھائے، انہوں نے پوری امت پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام اقتدار کے حصول کے لئے نہیں، بلکہ دینِ اسلام کے تحفظ، عدل کے قیام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ظلم و استبداد کے خاتمہ کے لیے تھا۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تاریخ کے بعض واقعات ایسے ہیں جو کسی ایک زمانے یا خطے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ہر دور میں حق و باطل کی پہچان کا معیار بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا ایسا ہی ایک ابدی، فیصلہ کن اور تاریخ ساز باب ہے۔ اسی طرح کربلا کے بعد مدینہ منورہ پر فوج یزید کا حملہ اور اس کے بعد مکہ مکرمہ کا محاصرہ اور خانۂ کعبہ پر یزیدی لشکر کی سنگ باری بھی تاریخِ اسلام کا ایک نہایت دردناک سانحہ ہے، جو اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ جب اقتدار ظلم، جبر، آمریت اور دین دشمنی کے ساتھ یکجا ہو جائے تو نہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیہم السلام کی حرمت محفوظ رہتی ہے، نہ بیت اللہ کی عظمت برقرار رہتی ہے اور نہ ہی انسانی اقدار اور دینی مقدسات کا احترام باقی رہتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اپنے مقدس خون سے دین اسلام کی بقا کی ضمانت دی اور آپؑ کی شہادت کے فوراً بعد یزیدی حکومت نے جو مظالم ڈھائے، انہوں نے پوری امت پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام اقتدار کے حصول کے لئے نہیں، بلکہ دینِ اسلام کے تحفظ، عدل کے قیام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ظلم و استبداد کے خاتمہ کے لئے تھا۔

یہی وجہ ہے کہ واقعۂ عاشورا نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اہلِ مدینہ، اہلِ مکہ اور حجاز کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ جس حکومت نے فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے دردی سے شہید کیا، وہ اسلامی خلافت کی حقیقی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔

یزید کی حکومت شراب نوشی، لہو و لعب، ظلم، بے حیائی، بیت المال کی لوٹ مار اور اہلِ بیت علیہم السلام سے کھلی دشمنی کی علامت بن چکی تھی۔ چنانچہ حجاز کے مختلف علاقوں میں عوامی بغاوتیں برپا ہوئیں اور اہلِ مکہ نے بھی یزیدی کارندوں کو شہر سے نکال کر ظلم و جبر کے خلاف اپنے عزم، غیرت اور استقامت کا بھرپور اظہار کیا۔

لہٰذا مکہ مکرمہ میں اس عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لئے یزید نے شام سے ایک عظیم لشکر روانہ کیا۔

مشہور مؤرخ ابن اثیر اپنی معروف کتاب الکامل فی التاریخ میں لکھتے ہیں: 26 محرم 64 ہجری کو یزیدی فوج نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا۔ شہر کے اطراف کی بلند پہاڑیوں پر بڑی بڑی منجنیقیں نصب کی گئیں اور مسلسل مکہ مکرمہ پر پتھر برسائے گئے۔ اہلِ مکہ جان بچانے کے لئے مسجد الحرام میں پناہ لینے لگے، لیکن لشکر کے سپہ سالار حصین بن نمیر نے مسجد الحرام اور خود خانۂ کعبہ کو بھی منجنیقوں کا نشانہ بنانے کا حکم دے دیا۔ یہ محاصرہ تقریباً پینتالیس دن تک جاری رہا۔ (ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، جلد 4، صفحہ 124)

یہ صرف ایک تاریخی روایت نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایسا گہرا زخم ہے، جس کی کسک صدیوں بعد بھی محسوس کی جاتی ہے۔

کیا یہی خلافت تھی؟

یہاں تاریخ خود چند بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔

اگر یزید واقعی "امیرالمؤمنین" تھا تو اس کے لشکر نے بیت اللہ پر سنگ باری کیوں کی؟

اگر وہ اسلام کا محافظ تھا تو مسجد الحرام کی حرمت کیوں پامال کی گئی؟

اگر اس کی حکومت دینی حکومت تھی تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسہ امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے، حرم نبوی مدینہ منورہ پر حملہ کرنے اور پھر خانۂ خدا پر حملہ کرنے کا کیا جواز تھا؟

تاریخ کا غیر جانب دار اور منصفانہ مطالعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ واقعۂ کربلا، واقعۂ حرّہ اور محاصرۂ مکہ ایک ہی ظالمانہ فکر کے مختلف مظاہر تھے۔

یزیدی فکر کی پہچان

یزید صرف ایک فرد کا نام نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک طرزِ حکومت اور ایک ظالمانہ نظامِ اقتدار کی علامت ہے۔ وہ فکر جو اقتدار کی خاطر دین کو قربان کر دے۔ وہ فکر جو اہلِ حق کی آواز دبانے کے لئے ظلم و جبر کا سہارا لے۔ وہ فکر جو علماء، مصلحین اور حق گو افراد کو خاموش کر دے۔ وہ فکر جو طاقت، دولت، ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈے کے ذریعہ باطل کو حق اور ظلم کو انصاف بنا کر پیش کرے اور وہ فکر جو اقتدار کی ہوس میں بیت اللہ کی حرمت تک پامال کرنے سے بھی دریغ نہ کرے۔

اسی لئے یزید تاریخ کا ایک کردار بن کر رہ گیا، لیکن یزیدیت مختلف شکلوں میں آج بھی زندہ ہے اور ہر دور میں نئے چہروں کے ساتھ سامنے آتی رہتی ہے۔

آج کی دنیا اور اسلام دشمنی

اگرچہ آج خانۂ کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر نہیں برسائے جا رہے، لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی نے نئی صورتیں اختیار کر لی ہیں۔

قرآنِ مجید کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کی جاتی ہیں۔ مساجد، تعلیمی مراکز اور دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

فلسطین، بالخصوص غزہ میں ہزاروں نہتے مرد، خواتین اور بچے جنگ، محاصرے، بھوک اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔

لبنان، یمن، شام اور دیگر خطوں میں بھی بے گناہ شہری ظلم، جنگ اور عدمِ استحکام کی سنگین آزمائشوں سے گزر رہے ہیں۔

اسی طرح ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے اور جرائم اور نام نہاد مسلم ممالک کی خیانتیں بھی یزیدی فکر و کردار کا حصہ ہیں، اعلی قیادت شہید آیۃ اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ، اہم ذمہ داروں سمیت نہتے شہریوں اور ڈیڑھ سو سے زیادہ بے گناہ بچیوں کی شہادت ہمارے دعوی پر دلیل ہے، اسی یزیدی فکر اور اس کے ذریعہ حملوں اور دہشت گردی کے نتیجے میں متعدد فوجی، سائنسی شخصیات اور عام شہری شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہداء اور مظلوموں کی قربانیاں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ ظلم کے مقابلے میں صبر، استقامت، بصیرت، اتحاد اور حق پر ثابت قدمی ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اسلام دشمن قوتیں مختلف ذرائع سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے، ان کی فکری بنیادوں کو کمزور کرنے اور انہیں اپنی دینی شناخت سے دور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے حالات میں امتِ مسلمہ کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ قرآنِ کریم، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے مضبوط وابستگی اختیار کرے۔

البتہ ان جرائم اور خیانتوں کے مقابلہ میں محض جذباتی ردِ عمل کافی نہیں، بلکہ علم، بصیرت، اتحاد، اخلاق، کردار اور عملی جدوجہد بھی ضروری ہے۔

امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ ظلم کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرے، ہر مظلوم کی حمایت کرے، نئی نسل کو اپنی مستند تاریخ سے روشناس کرائے، علمی میدان میں خود کو مضبوط بنائے اور ہر قسم کی فکری یلغار کا حکمت، دلیل اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ جواب دے۔

امام حسین علیہ السلام نے امت کو صرف گریہ نہیں سکھایا، بلکہ غیرت، بصیرت، عزت، آزادی، عدل، حق گوئی اور ظلم کے خلاف قیام کا ابدی درس عطا فرمایا۔

آج اہلِ قلم، علماء، خطباء، اساتذہ اور دانشوروں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کربلا، واقعۂ حرّہ، محاصرۂ مکہ اور اسلامی تاریخ کے دیگر اہم واقعات کو مستند مآخذ کی روشنی میں نئی نسل تک پہنچائیں، تاکہ تاریخ کو مسخ کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو جائے۔

جو قوم اپنی تاریخ سے بے خبر ہو جاتی ہے، وہ اپنی شناخت، اپنی تہذیب اور اپنے مستقبل سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔

مکہ مکرمہ کا محاصرہ اور خانۂ کعبہ پر سنگ باری اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جو یہ سبق دیتا ہے کہ جب ظلم کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو وہ کربلا سے لے کر کعبہ تک کسی حرمت، تقدس اور انسانی عظمت کا لحاظ نہیں کرتا۔

آج بھی اگر امتِ مسلمہ عزت، آزادی، وحدت اور سربلندی کی خواہاں ہے تو اسے امام حسین علیہ السلام کے پیغام، قرآنِ کریم کی تعلیمات اور سیرتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا محور بنانا ہوگا۔

تاریخ گواہ ہے کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں، منجنیقیں عمارتوں کو گرا سکتی ہیں اور آگ ظاہری آثار کو جلا سکتی ہے، لیکن حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

اسی لئے کربلا آج بھی زندہ ہے، بیت اللہ آج بھی قبلۂ عالم ہے، اور امام حسین علیہ السلام کا پیغام آج بھی دنیا کے ہر آزاد انسان کو ظلم، جبر اور باطل کے مقابلے میں استقامت، عزت، آزادی اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha