تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جو اپنے عہد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ صدیوں تک امت کی علمی، فکری اور دینی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔ ان ہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں حضرت شیخ ابو جعفر محمد بن حسن بن علی بن حسن طوسی، المعروف شیخ الطائفہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت درخشاں ہے۔ آپ نہ صرف ایک عظیم فقیہ، محدث، مفسر، متکلم، اصولی، رجالی اور محقق تھے بلکہ حوزۂ علمیہ نجف کے مؤسس بھی تھے۔ آج ایک ہزار برس گزرنے کے باوجود دنیا بھر کے لاکھوں علماء اور طلبہ اسی علمی مرکز سے فیض یاب ہو رہے ہیں، جو آپ کی دوراندیشی، اخلاص اور علمی بصیرت کا زندہ ثبوت ہے۔
ولادت اور علمی سفر کا آغاز
حضرت شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ ماہِ مبارک رمضان 385 ہجری قمری میں خراسان کے تاریخی شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اور دینی علوم کی تحصیل اپنے آبائی شہر میں کی، لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ علم کی تشنگی یہاں پوری نہیں ہو سکتی تو 408 ہجری قمری میں، صرف 23 سال کی عمر میں، بغداد کا رخ کیا، جو اس زمانے میں عالمِ اسلام کا سب سے بڑا علمی مرکز تھا۔
اس وقت عالمِ تشیع کی علمی قیادت، دینی مرجعیت اور حوزۂ علمیہ کی زعامت عظیم فقیہ حضرت شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ کا درس اس قدر معروف تھا کہ دور دراز علاقوں سے علماء اور طالبانِ علم حاضر ہوتے تھے۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان کے حلقۂ درس میں شرکت کی اور اپنی غیر معمولی ذہانت، علمی استعداد اور بے مثال محنت کے باعث بہت ہی کم عرصہ میں ممتاز شاگردوں میں شمار ہونے لگے۔
شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں کہ شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً دو سو کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں سے متعدد کتابیں انہوں نے براہِ راست اپنے استاد سے پڑھیں اور کئی کتابیں بارہا اس وقت سماعت کیں جب دوسرے شاگرد انہیں استاد کے سامنے پڑھتے تھے۔
اگرچہ شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی کا دور تقریباً پانچ سال پر محیط تھا، لیکن یہی مختصر عرصہ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی شخصیت کی مضبوط بنیاد ثابت ہوا۔
سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی
413 ہجری قمری میں شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے عظیم شاگرد حضرت سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اس زمانے میں شیعہ دنیا کی علمی قیادت اور دینی زعامت سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد تھی۔
شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے مسلسل 23 برس تک ان سے فقہ، اصولِ فقہ، علمِ کلام، تفسیر، لغت، ادب اور دیگر اسلامی علوم حاصل کئے۔ اپنی کتاب الفہرست میں وہ خود لکھتے ہیں کہ سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی اکثر تصانیف انہوں نے براہِ راست ان سے پڑھیں اور باقی کو ان کی مجلس میں سماعت کیا۔
زعامتِ شیعہ اور بغداد کا علمی عروج
436 ہجری قمری میں سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ تشیع کے سب سے بڑے علمی و دینی رہنما ہوئے۔ تقریباً بارہ برس تک بغداد میں تدریس، تحقیق، مناظرہ، تصنیف اور افتاء کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ کے درس میں مختلف علاقوں سے علماء اور طلبہ شریک ہوتے تھے۔ آپ کی غیر معمولی فقاہت، تقویٰ، وسعتِ علم اور دینی خدمات کے اعتراف میں پوری شیعہ امت نے آپ کو "شیخ الطائفہ" کے معزز لقب سے نوازا۔
ظلم و ستم اور نجف کی طرف ہجرت
پانچویں صدی ہجری کے وسط میں سلجوقی حکمران طغرل بیگ نے بغداد پر قبضہ کیا اور شیعوں پر شدید مظالم ڈھائے۔ محلہ کرخ کو تباہ کیا گیا، شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں سرِ عام جلائی گئیں، ان کی کرسیِ تدریس کو نذرِ آتش کیا گیا، حتیٰ کہ نجفِ اشرف جانے والے زائرین کے سامان بھی آگ میں جھونک دیے گئے۔
ان مظالم کے نتیجے میں بغداد کا شیعہ علمی مرکز منتشر ہو گیا۔ علماء مختلف علاقوں میں ہجرت کرنے یا گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ انہی حالات میں شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے بغداد چھوڑ کر نجفِ اشرف ہجرت کی۔
حوزۂ علمیہ نجف کی بنیاد
اس زمانے میں نجفِ اشرف ایک مختصر سی بستی تھی، جہاں روضۂ مبارکِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے جوار میں چند زائرین آباد تھے۔ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی آمد کے بعد ان کے شاگرد، علماء اور طالبانِ علم بھی نجف منتقل ہونے لگے۔ یوں آپ نے ایک ایسے عظیم علمی مرکز کی بنیاد رکھی جو بعد میں حوزۂ علمیہ نجف کے نام سے پوری دنیا میں معروف ہوا اور آج تک فقہِ جعفری اور علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کا سب سے بڑا مرکز شمار ہوتا ہے۔
448 ہجری میں شیخ الطائفہ حضرت شیخ محمد بن حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے نجفِ اشرف میں حوزۂ علمیہ کی بنیاد رکھی۔ 1448 ہجری قمری میں اس عظیم علمی و دینی مرکز کی مسلسل قیادت اور خدمات کے ایک ہزار سال مکمل ہو رہے ہیں۔ یہ وہ مبارک شجر ہے جسے شیخ الطائفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے علم، اخلاص اور مجاہدت سے پروان چڑھایا، اور جس کے فیوض و برکات ہر دور میں عالمِ تشیع بلکہ پوری امتِ اسلامیہ تک پہنچتے رہے ہیں۔ شیخ الطائفہؒ سے لے کر عصرِ حاضر کے مرجعِ اعلیٰ دینی حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ العالی تک علم، فقاہت اور ہدایت کا یہ درخشاں سلسلہ جاری ہے، اور ان شاء اللہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورِ پُرنور تک یہ چراغِ علم و ہدایت اسی طرح فروزاں رہے گا۔
اساتذہ
شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے زمانے کے عظیم اساتذہ سے علم حاصل کیا، جن میں خصوصاً شیخ مفید، علی بن الغضائری، ابن الصلت، سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رضوان اللہ تعالی علیہم قابلِ ذکر ہیں۔
علمی خدمات اور عظیم تصانیف
شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث، فقہ، اصول، رجال، تفسیر، علمِ کلام اور دعا سمیت دینی علوم کے تقریباً تمام شعبوں میں گراں قدر تصانیف یادگار چھوڑیں، جن کی تعداد تقریباً 51 جلدوں پر مشتمل ہے۔
آپ کی مشہور تصانیف میں تہذیب الاحکام، الاستبصار (یہ دونوں کتابیں کتب اربعہ میں شامل ہیں۔)، التبیان فی تفسیر القرآن، المبسوط، النہایہ، الخلاف، العدۃ فی الاصول، الغیبۃ، الفہرست، رجال شیخ طوسی، مصباح المتہجد جیسی شاہکار کتابیں شامل ہیں، جو آج بھی فقہ، اصول، حدیث، رجال اور تفسیر کے بنیادی مراجع شمار ہوتی ہیں۔
وفات حسرت آیات
460 ہجری قمری کا ماہِ محرم تھا۔ کربلا والوں کے غم سے فضا سوگوار تھی۔ انہی ایام میں نجفِ اشرف کے ایک گوشہ میں علم و عرفان کا ایک آفتاب اپنے غروب کے قریب تھا۔ 22 محرم 460 ہجری قمری کی شب شیخ الطائفہ حضرت شیخ محمد بن حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ اس دارِ فانی سے عالمِ بقا کی طرف روانہ ہوئے۔
76 برس علم، عبادت، تحقیق، تدریس اور خدمتِ دین میں گزارنے کے بعد یہ عظیم فقیہ اپنے ربِ کریم سے جا ملا۔
آپ کو نجفِ اشرف میں آپ کی رہائش گاہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی وصیت کے مطابق بعد میں اسی مکان کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا، جو آج بھی روضۂ مبارکِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے شمال میں مسجدِ طوسی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نام سے معروف ہے۔
شیخ الطائفہ حضرت شیخ محمد بن حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ علم، اخلاص، تقویٰ، استقامت اور خدمتِ دین کا روشن مینار ہے۔ آپ نے نہ صرف فقہِ امامیہ کو مضبوط علمی بنیادیں فراہم کیں بلکہ حوزۂ علمیہ نجف کی صورت میں ایسا دائمی علمی مرکز قائم کیا جس نے گزشتہ ایک ہزار برس سے عالمِ تشیع کی علمی و دینی قیادت کا فریضہ انجام دیا ہے۔
آپ کی تصانیف آج بھی مجتہدین، محققین اور طلابِ علومِ دینیہ کے لیے بنیادی مراجع کی حیثیت رکھتی ہیں، جبکہ آپ کی قائم کردہ علمی روایت قیامت تک اہلِ علم کے لئے مشعلِ راہ رہے گی۔









آپ کا تبصرہ