حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ چشمۂ فیض ململ (شاخ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ) میں ممتاز عالم دین مولوی سید سلمان حسینی ندویؒ کی یاد میں ایک پروقار تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں علماء، اساتذہ، طلبہ اور اہلِ علم نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے مرحوم کی علمی، دینی اور دعوتی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نشست کا آغاز تلاوتِ قرآن کریم اور نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا انبساط عالم ندوی نے انجام دیے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کو اپنے عہد کے ممتاز محدث، محقق، مفسر اور بے باک عالم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل، اتحادِ امت اور حق گوئی کو اپنی علمی جدوجہد کا محور بنایا۔
مقررین نے کہا کہ مولانا مرحوم اختلافِ رائے کے باوجود علمی مکالمے، دلیل اور ادبِ اختلاف کے قائل تھے اور سوشل میڈیا پر شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے علمی گفتگو کو فروغ دینے کی تلقین کرتے تھے۔ انہوں نے طلبہ کی علمی و فکری تربیت، درس و تدریس، تحقیقی خدمات اور وسیع المطالعہ شخصیت کو ان کا نمایاں امتیاز قرار دیا۔
اس موقع پر علماء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی عالم کی بعض آراء سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن ان کی علمی خدمات کا اعتراف اور ان کے حق میں دعائے مغفرت اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے۔
نشست کے اختتام پر مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت کی گئی اور اللہ تعالیٰ سے ان کے درجات کی بلندی، پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور امتِ مسلمہ کو ان جیسے مخلص علماء کا نعم البدل عطا کرنے کی دعا کی گئی۔









آپ کا تبصرہ