حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد ایرانیان (مغل مسجد) میں منعقد ہونے والی مرکزی عشرۂ محرم کی آخری اور شبِ عاشور کی یہ مجلس ایک ایسے روحانی و فکری ماحول میں منعقد ہوئی جس نے حاضرین کے قلوب کو محبتِ اہلِ بیتؑ اور فلسفۂ شہادت کی گہرائیوں سے روشناس کرایا۔ مجلس پورے تزک و احتشام، روایتی وقار اور عزاداری کے قدیم انداز کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں اہلِ ایمان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ایک پُرنم، پُرسوز اور بیدار کن مجلس کا حصہ بنے۔

اس مجلس کے خطیب حجتہ الاسلام والمسلمین مولانا سید نجیب الحسن زیدی تھے جنہوں نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں قرآن کریم کی آیتِ کریمہ سورۂ بقرہ (2:165) کو بنیاد بنا کر “محبت اور شہادت” کے موضوع پر ایک گہرا، تجزیاتی اور حالاتِ حاضرہ سے مربوط فکری درس پیش کیا۔
محبت — انسانیت کی سب سے معتبر تعبیر
مولانا نے گفتگو کا آغاز اس نکتے سے کیا کہ دنیا میں اگر کسی جذبے کو سب سے زیادہ معتبر، جامع اور انسانی وجود کی اصل تعبیر کہا جا سکتا ہے تو وہ “محبت” ہے۔ محبت ہی انسان کے اندر احساس، قربانی، ایثار اور وابستگی کو جنم دیتی ہے۔ یہ وہ بنیادی قوت ہے جو انسان کو محض جسمانی وجود سے نکال کر اخلاقی اور روحانی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ محبت ایک جامد کیفیت نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو مختلف حالات میں مختلف صورتیں اختیار کرتی ہے۔ کہیں یہ آہ و فغاں بن جاتی ہے، کہیں آنسوؤں کی صورت بہتی ہے، کہیں یہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی فریاد بنتی ہے اور کہیں مظلوم انسان کی زبان پر احتجاج کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ محبت اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ زبان سے نکلنے کے بجائے گلے میں رندھ جاتی ہے اور صرف آنکھوں سے بولتی ہے۔
محبت کے رنگ اور کربلا کی تعبیر
مولانا نے محبت کے مختلف رنگوں کو کربلا کے تاریخی تناظر سے جوڑتے ہوئے کہا کہ محبت کبھی وفا کا پیکر بنتی ہے تو حضرت عباسؑ (علمدارِ کربلا) کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جو وفا، اطاعت اور ایثار کی وہ بلند ترین مثال ہیں جسے تاریخ انسانیت کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
کبھی یہی محبت شجاعت کا روپ دھار لیتی ہے تو حضرت علیؑ (حیدرِ کرار) کی صورت میں سامنے آتی ہے، جن کی تلوار حق و باطل کے درمیان واضح حد قائم کرتی ہے۔

اور جب یہی محبت صبر و استقامت میں ڈھلتی ہے تو وہ امام زین العابدینؑ (سید سجادؑ) کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو قید و بند اور مصائب کے باوجود دینِ الٰہی کی حفاظت کا ذریعہ بنتے ہیں۔
یوں محبت کبھی ایثار بنتی ہے، کبھی قربانی، کبھی وفا اور کبھی صبر—یہ سب محبت ہی کے مختلف جلوے ہیں جو دینِ خدا کی بقا کا سبب بنتے ہیں۔
محبت کا نقطۂ عروج — شہادت
مولانا زیدی نے اس نکتے پر زور دیا کہ جب محبت اپنے کمال اور معراج تک پہنچتی ہے تو وہ “شہادت” کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ شہادت درحقیقت محبت کی وہ بلند ترین منزل ہے جہاں انسان اپنی ذات کو مکمل طور پر مقصدِ حق کے لیے وقف کر دیتا ہے۔

قرآن کی آیت “وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّـهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّـهِ” (البقرہ:165) کے حوالے سے انہوں نے فرمایا کہ اصل امتحان محبت کا ہے کہ انسان اپنی محبت کو کہاں اور کس سے جوڑتا ہے۔ اگر یہ محبت خدا، حق اور عدل سے جڑ جائے تو وہ انسان کو شہادت کے مقام تک لے جاتی ہے، اور اگر یہ دنیا یا باطل سے وابستہ ہو جائے تو وہ انسان کو زوال کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
کربلا — محبت کا تاریخی امتحان
مولانا زیدی نے کربلا کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا “امتحانِ محبت” قرار دیا۔ ان کے مطابق کربلا محض ایک جنگ نہیں بلکہ یہ وہ عظیم معرکہ ہے جس میں محبت نے اپنی تمام صورتوں کے ساتھ امتحان دیا۔ یہاں وفا بھی تھی، صبر بھی تھا، ایثار بھی تھا اور قربانی بھی—مگر سب کچھ حق کی خاطر تھا۔

انہوں نے کہا کہ کربلا نے یہ ثابت کیا کہ محبت اگر خالص ہو تو وہ انسان کو حسینؑ بناتی ہے، اور اگر وہ آزمائش میں کامیاب ہو جائے تو وہ انسان کو تاریخ کا وہ روشن چراغ بنا دیتی ہے جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔
ابوطالبؑ — محبت کے نگہبانِ دین
مولانا نے تاریخی تسلسل میں حضرت ابوطالبؑ کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ انہوں نے محبتِ رسالت اور محبتِ دین کو نہ صرف پروان چڑھایا بلکہ اپنی پوری زندگی اس کی حفاظت میں وقف کر دی۔ وہ نہ صرف خود دین کے پاسبان رہے بلکہ ایسی نسل کی بنیاد رکھی جس نے ہر دور میں حق اور محبت کی آبرو کو قائم رکھا۔

ان کا یہ کردار اس بات کی روشن دلیل ہے کہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک شعوری، فکری اور عملی ذمہ داری ہے جو نسلوں کو متاثر کرتی ہے۔
محبت اور عصرِ حاضر
مولانا نے اپنے خطاب میں محبت اور شہادت کے اس فلسفے کو عصرِ حاضر سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ظلم، ناانصافی اور فکری گمراہی کے خلاف سب سے بڑی قوت “محبتِ حق” ہے۔ جب یہ محبت بیدار ہوتی ہے تو وہ صرف جذبات نہیں رہتی بلکہ ایک فکری تحریک بن جاتی ہے۔
انہوں نے عصرِ حاضر کی بعض مزاحمتی شخصیات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ظلم کے خلاف آواز حق بلند ہوتی ہے تو وہ محبت ہی کی ایک شکل ہوتی ہے جو مزاحمت اور بیداری میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے واضح کیا کہ دینِ حق کی حفاظت کے لیے محبت جب عملی جدوجہد میں بدلتی ہے تو وہ تاریخ کو نئی سمت عطا کرتی ہے۔

یہ روح پرور مجلس لبیک یا حسینؑ، کے نعروں ماتم اور بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ حاضرین مجلس ایک عجیب کیفیت میں ڈوبے ہوئے تھے، جہاں دلوں میں کربلا کی یاد، آنکھوں میں اشک اور ذہنوں میں محبت و شہادت کا فکری شعور تازہ ہو چکا تھا۔
مسجد ایرانیان (مغل مسجد) کی یہ شبِ عاشور مجلس نہ صرف ایک مذہبی اجتماع تھی بلکہ ایک فکری تربیت گاہ بھی تھی جس نے شرکاء کو یہ پیغام دیا کہ محبت اگر خالص ہو تو وہ شہادت کی صورت میں امر ہو جاتی ہے، اور شہادت اگر خلوص پر قائم ہو تو وہ انسانیت کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھتی ہے۔









آپ کا تبصرہ