حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی کی قدیمی اور مرکزی عشرۂ مجالس، مسجد ایرانیان (مغل مسجد) میں منعقدہ ساتویں محرم الحرام کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید نجیب الحسن زیدی نے کہا کہ "محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے، اور اس سفر کی آخری منزل شہادت ہے۔"

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی ہر خوبصورتی محبت کی مرہونِ منت ہے۔ ماں کی ممتا، باپ کی قربانی، دوست کی وفاداری، عبادت کی لذت اور انسانیت کی خدمت، سب محبت ہی کے مختلف مظاہر ہیں۔ اگر محبت نہ ہو تو رشتے صرف جسموں کا اجتماع بن کر رہ جائیں اور دلوں کا تعلق قائم نہ ہو سکے۔
مولانا زیدی نے کہا کہ حقیقی محبت صرف احساس یا دعوے کا نام نہیں بلکہ محبوب کی رضا کے لیے ہر شے قربان کر دینے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے، اور یہی کیفیت آگے بڑھ کر شہادت کی صورت اختیار کرتی ہے۔ ان کے بقول، "محبت کچھ لینے کا نہیں بلکہ دینے کا نام ہے، اور اس کی سچائی الفاظ سے نہیں بلکہ قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔"

انہوں نے واقعۂ کربلا کو محبت کے دعوے اور محبت کے عملی ثبوت کے درمیان فرق واضح کرنے والا عظیم درس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے اپنے مقدس خون سے یہ ثابت کر دیا کہ حق سے محبت انسان کی جان سے بھی زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، کربلا پوری تاریخِ انسانیت میں محبت کا سب سے بڑا مدرسہ ہے اور شہادت، محبت کی سب سے بلند تفسیر ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا سید نجیب الحسن زیدی نے کہا کہ "اگر دنیا سے محبت نکال دی جائے تو انسانیت مر جائے گی، اور اگر محبت کو شہادت تک پہنچا دیا جائے تو انسانیت زندہ ہو جاتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ محرم کا چاند صرف نئے مہینے کی آمد کی خبر نہیں دیتا بلکہ یہ اعلان کرتا ہے کہ محبت ایک بار پھر کربلا کی گلیوں سے گزر کر شہادت کی منزل تک پہنچنے والی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ میں وہی لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو کسی عظیم مقصد اور سچی محبت کے لیے جیتے اور اسی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتے ہیں۔ ان کے بقول، "کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت کا سب سے حسین پھول شہادت ہے اور شہادت کی سب سے دلکش خوشبو محبتِ الٰہی ہے۔"









آپ کا تبصرہ