تحریر: شبیر علی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ اسلام میں اگر کسی واقعے نے انسانیت کو شعور، بیداری، حریت اور استقامت کا درس دیا ہے تو وہ واقعۂ کربلا ہے۔ کربلا صرف ایک جنگ کا نام نہیں، نہ ہی یہ صرف چند افراد کی شہادت کا قصہ ہے، بلکہ یہ ایک ایسی عظیم درسگاہ ہے جہاں انسان حق و باطل کی پہچان، ظلم کے خلاف قیام اور خدا کی رضا کے لیے قربانی دینا سیکھتا ہے۔ اگر امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں اپنے خون سے اسلام کو زندگی بخشی تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے صبر، بصیرت اور شجاعت سے اس پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کربلا درسِ آگاہی ہے اور کردارِ زینبؑ اس درس کی کامل تفسیر ہے۔
کربلا نے انسانیت کو یہ شعور دیا کہ حق ہمیشہ تعداد یا طاقت کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایک طرف یزید کی عظیم فوج تھی اور دوسری طرف امام حسینؑ کے چند وفادار ساتھی، لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ فتح تلواروں کی نہیں بلکہ سچائی اور حقانیت کی ہوتی ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے عمل سے لوگوں کو آگاہ کیا کہ جب دین اور انسانیت خطرے میں ہو تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ یہی آگاہی کربلا کا سب سے بڑا درس ہے۔
لیکن اگر کربلا صرف میدانِ جنگ تک محدود رہتی تو شاید اس کا پیغام اتنی وسعت کے ساتھ دنیا تک نہ پہنچ پاتا۔ یہاں حضرت زینبؑ کا کردار سامنے آتا ہے۔ عاشورا کے بعد جب خیموں کو آگ لگا دی گئی، بچے یتیم ہو گئے، لاشیں بے گوروکفن رہ گئیں اور اہلِ بیتؑ کو قیدی بنا لیا گیا، تو بظاہر یزید کو فتح حاصل ہو چکی تھی۔ مگر حقیقت میں یہی وہ لمحہ تھا جب جناب زینبؑ نے اپنی عظمت کا مظاہرہ کیا اور تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
حضرت زینبؑ نے کوفہ اور شام کے درباروں میں ایسے خطبات دیے جنہوں نے یزید کے اقتدار کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ آپؑ نے خوف، جبر اور ظلم کے ماحول میں حق کا پرچم بلند رکھا اور دنیا کو بتایا کہ شہادت شکست نہیں بلکہ حق کی ابدی کامیابی ہے۔ جب ابنِ زیاد نے طنز کرتے ہوئے پوچھا: "زینب! تم نے خدا کا اپنے بھائی کے ساتھ کیا سلوک دیکھا؟" تو آپؑ نے فرمایا:"ما رأيتُ إلا جميلاً. میں نے تو سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔
یہ جملہ صرف صبر کی انتہا نہیں بلکہ ایمان، معرفت اور بصیرت کی معراج ہے۔ زینبؑ نے دنیا کو سکھایا کہ خدا کی راہ میں دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
کردارِ زینبؑ ہمیں یہ بھی درس دیتا ہے کہ عورت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ وہ دین، معاشرے اور انسانیت کی رہنمائی میں عظیم کردار ادا کر سکتی ہے۔ حضرت زینبؑ نے ثابت کیا کہ حیا اور عفت کے ساتھ جرات، بصیرت اور قیادت بھی جمع ہو سکتی ہیں۔ آپؑ نے مظلومیت کو طاقت میں اور اسیری کو تبلیغ کے عظیم ذریعہ میں تبدیل کر دیا۔
آج بھی جب دنیا ظلم، ناانصافی اور فکری گمراہی کا شکار ہے تو کربلا ہمیں بیداری کا درس دیتی ہے اور جناب زینبؑ کا کردار ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی آواز کو کسی قید، کسی طاقت اور کسی ظلم سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امام حسینؑ کربلا کے ہیرو ہیں تو حضرت زینبؑ کربلا کی پیامبر ہیں۔ حسینؑ نے اسلام کو خون دیا اور زینبؑ نے اس خون کو زبان دی۔
لہٰذا کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک شعور ہے، ایک تحریک ہے، ایک درسِ آگاہ ہے۔ اور زینبؑ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ صبر، استقامت، بصیرت اور حق گوئی کا ایسا روشن مینار ہیں جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
سلام ہو حسینؑ پر جنہوں نے حق کے لیے جان قربان کی، اور سلام ہو زینبؑ پر جنہوں نے اس قربانی کے پیغام کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔_
السلام علی الحسینؑ، وعلی علی بن الحسینؑ، وعلی اولاد الحسینؑ، وعلی اصحاب الحسینؑ









آپ کا تبصرہ