جمعرات 25 جون 2026 - 18:35
اشعار/شہدائے کربلا کے حضور سلام عقیدت

حوزہ/عاشورائے حسینی کے موقع پر، کربلا کے پیاسوں کے حضور شاعر اہل بیت جناب مولانا محمد ابراہیم نوری کا سلام عقیدت پیش ہے۔

شاعر: مولانا محمد ابراہیم نوری

حوزہ نیوز ایجنسی|

ہے سوز و مرثیہ خوانی حسین سے منسوب
ہے ساری اشک فشانی حسین سے منسوب

خوشی سے ہوتی ہے رفتارِ نور اس پہ نثار
ہے جس قلم کی روانی حسین سے منسوب

ثواب اس کا بشر کے بیاں سے باہر ہے
ہے میری اشک بیانی حسین سے منسوب

ہے جسکے پیشِ نظر بس رضائے ربِ حسینٔ
ہے مجلسوں کا وہ بانی حسین سے منسوب

فدا ہیں کوثر و تسنیم و سلسبیل اس پر
ہے جسکی تشنہ دہانی حسین سے منسوب

اسی لیے یہ بُجھاتا ہے آتشِ دوزخ
ہے میری آنکھ کا پانی حسین سے منسوب

مُقیمِ جنتِ کرب وبلا ہے کچھ دن سے
ہے دل کی نقلِ مکانی حسین سے منسوب

یزیدیوں کو بہت آگ یہ لگاتی ہے
ہے میری اشک فشانی حسین سے منسوب

قیامِ شاہ تھا امت کی مغفرت کے لئے؟
کرو نہ جھوٹی کہانی حسین سے منسوب

پیام دے گئے اکبرٔ یہی جوانوں کو
کرو تم اپنی جوانی حسین سے منسوب

ہمیں عزیز ہے عباس ٔ کے نشاں کی قسم
ہے جو بھی نوری نشانی حسین سے منسوب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از قلم ابراہیم نوری قمی

  • اشعار/سلام بہ حضور شہدائے کربلا

    اشعار/سلام بہ حضور شہدائے کربلا

    حوزہ/عاشورائے حسینی علیہ السلام کے موقع پر تسلیت پیش کرتے ہوئے شہدائے کربلا کے حضور شاعر اہل بیت کے سلام کے اشعار پیش کرتے ہیں۔

  • سلام عقیدت/لبِ فرات رقم ہے یہ شانِ تشنہ لباں

    سلام عقیدت/لبِ فرات رقم ہے یہ شانِ تشنہ لباں

    حوزہ/ شاعر اہل بیت علیہم السّلام جناب مولانا محمد ابراہیم نوری کا شہدائے کربلا کے نام سلام عقیدت پیش خدمت ہے۔

  • کربلا ایک درسِ آگاہی اور کردارِ زینبؑ

    کربلا ایک درسِ آگاہی اور کردارِ زینبؑ

    حوزہ/تاریخِ اسلام میں اگر کسی واقعے نے انسانیت کو شعور، بیداری، حریت اور استقامت کا درس دیا ہے تو وہ واقعۂ کربلا ہے۔ کربلا صرف ایک جنگ کا نام نہیں، نہ…

  • اشعار/قطرۂ اشکِ عزاء

    اشعار/قطرۂ اشکِ عزاء

    حوزہ/محرم الحرام کی آمد کے سلسلے میں شاعر اہل بیت علیہم السّلام مولانا محمد ابراہیم نوری نے قطرۂ اشکِ عزاء کے عنوان سے سلام کے اشعار کہے ہیں جو کہ قارئین…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha