پیر 29 جون 2026 - 16:40
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے پیغامِ عاشورا کو رہتی دنیا تک زندہ رکھا

حوزہ/ مدرسہ علمیہ زینبیہ خرم آباد ایران کے زیر اہتمام منعقدہ آنلائن علمی نشست میں مقررین نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے قائدانہ کردار کو قیام عاشورا کی بقا اور پیغام رسانی کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امام حسین علیہ السلام نے اپنے پاک خون سے حق کو زندہ کیا تو حضرت زینبؑ نے اپنے تاریخی خطبات، بصیرت اور جرات مندانہ قیادت کے ذریعے اس پیغام کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ زینبیہ خرم آباد کے زیر اہتمام "قیام عاشورا کے تسلسل اور اس کی تبیین میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے قائدانہ کردار" کے موضوع پر ایک آنلائن علمی نشست منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے کہا کہ حضرت زینبؑ کی حکمت، صبر اور بصیرت نے واقعۂ کربلا کے پیغام کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔

خرم آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے لرستان کے حوزہ علمیہ خواہران کی استاد محترمہ معصومہ صحرائی نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا تاریخِ اسلام کی مؤثر اور مرکزی شخصیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام عاشورا دو تکمیلی مراحل پر مشتمل تھا؛ پہلا مرحلہ قیام اور شہادت کا، جبکہ دوسرا مرحلہ پیغام رسانی اور حقائق کی تبیین کا تھا، جس کی قیادت حضرت زینبؑ نے نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ انجام دی۔

انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد حضرت زینبؑ کا کردار صرف جذباتی یا خاندانی ذمہ داری تک محدود نہیں تھا، بلکہ آپؑ نے قیامِ عاشورا کے پیغام کو محفوظ رکھنے، اس کی وضاحت کرنے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی عظیم ذمہ داری نبھائی۔

معصومہ صحرائی نے حضرت زینبؑ کی علمی و اخلاقی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آغوشِ تربیت نے آپؑ کی شخصیت میں صبر، شجاعت، بصیرت اور حکمت جیسی اعلیٰ صفات پیدا کیں۔ انہوں نے روایات میں حضرت زینبؑ کے لیے استعمال ہونے والی تعبیر "عالمہ غیر معلّمہ" کا حوالہ دیتے ہوئے آپؑ کے الٰہی علم پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعۂ کربلا کے دوران خواتین اور بچوں کی سرپرستی، قافلے کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا، اہلِ بیت علیہم السلام کی دلجوئی کرنا اور امام سجاد علیہ السلام کی جان کی حفاظت کرنا حضرت زینبؑ کی اہم ذمہ داریوں میں شامل تھا، جنہوں نے اہلِ بیتؑ کے قافلے کو منتشر ہونے سے بچایا۔

نشست کے اختتام پر مقررہ نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے تاریخی خطبات، مسلسل حق گوئی اور جرات مندانہ موقف کے ذریعے عاشورا کو ایک وقتی سانحے سے نکال کر ایک عالمگیر فکری، دینی اور ثقافتی مکتب میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امام حسین علیہ السلام نے اپنے پاک خون سے دین کی حقیقت کو زندہ کیا تو حضرت زینبؑ نے اس حقیقت کو ہمیشہ کے لیے تاریخ میں محفوظ کر دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha