اتوار 21 جون 2026 - 02:18
لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد، فن اور فوٹوگرافی کے ذریعے پیغامِ کربلا کو اجاگر کیا گیا

حوزہ/ لکھنؤ کی تاریخی لال بارہ دری میں ون وائس فار آل ریلیجن کے زیرِ اہتمام 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش 2026 کا انعقاد کیا گیا، جہاں فوٹوگرافی، پینٹنگ اور خطاطی کے ذریعے واقعۂ کربلا، عزاداری کی روایات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو اجاگر کیا گیا۔ نمائش میں ہندوستان کے مختلف شہروں سمیت نو ممالک کے فنکاروں نے شرکت کی اور گنگا جمنی تہذیب کی عمدہ مثال پیش کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ تاریخی للت کلا اکیڈمی، لال بارہ دری، قیصر باغ میں ون وائس فار آل ریلیجن کے زیرِ اہتمام 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش 2026 کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں فن، تاریخ اور روحانیت کو یکجا کرتے ہوئے حضرت امام حسینؑ کے عالمگیر پیغامِ حق، انصاف، ایثار اور انسانیت کو مختلف فنون کے ذریعے پیش کیا گیا۔

لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد، فن اور فوٹوگرافی کے ذریعے پیغامِ کربلا کو اجاگر کیا گیا

’’انسانیت کی شمع روشن کرتے ہوئے‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس نمائش کا افتتاح جامعہ لکھنؤ کے وائس چانسلر پروفیسر عالِم علی مہدی اور دیگر معزز شخصیات نے کیا۔ نمائش کے ڈائریکٹر جناب ایس۔ این۔ لال جبکہ کیوریٹر مصدق رضا قمی تھے، جنہوں نے اس بین الاقوامی پلیٹ فارم کو فن اور ثقافت کے ذریعے مختلف معاشروں کو قریب لانے کی ایک مؤثر کوشش قرار دیا۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد

نمائش کو تین اہم زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا: فوٹوگرافی، پینٹنگ اور خطاطی اس سال ہندوستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے درجنوں فنکاروں نے شرکت کی، جبکہ نو ممالک کے فنکار اور تخلیقی نمائندے بھی اس بین الاقوامی پروگرام کا حصہ بنے۔ مجموعی طور پر 30 فوٹوگرافروں، 36 خطاطوں اور 22 مصوروں نے محرم اور کربلا کے موضوع پر اپنے منتخب فن پارے پیش کیے۔

لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد، فن اور فوٹوگرافی کے ذریعے پیغامِ کربلا کو اجاگر کیا گیا

اس نمائش کا بنیادی مقصد فنونِ لطیفہ کے ذریعے نہ صرف واقعۂ کربلا اور عزاداری کی تہذیبی و روحانی روایت کو اجاگر کرنا تھا بلکہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمہ، باہمی احترام اور انسانیت کے مشترکہ اقدار کو بھی فروغ دینا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شیعہ برادری کے علاوہ سنی حضرات اور ہندو فنکاروں نے بھی بھرپور شرکت کی اور اپنی موجودگی سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال پیش کی۔

نمائش میں ایران، عراق، چین، یونان، سعودی عرب، لبنان، آذربائیجان، مصر، ترکی، برطانیہ (لندن) اور ہندوستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کی تخلیقات پیش کی گئیں۔ شاہجہاں پور، گورکھپور، کولکاتا، وارانسی، پریاگ راج، حیدرآباد اور دیگر مقامات کے شرکاء نے بھی اپنے فن پاروں کے ذریعے محرم کی تاریخ، ثقافت اور پیغام کو منفرد انداز میں پیش کیا۔

لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد، فن اور فوٹوگرافی کے ذریعے پیغامِ کربلا کو اجاگر کیا گیا

نمائش کے کیوریٹر مصدق رضا قمی نے خصوصی طور پر ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسے تصویری اور ثقافتی مناظر پیش کیے جن میں ایران، بالخصوص شہر قم کی عزاداری، مذہبی روایات اور ثقافتی ورثے کو نمایاں کیا گیا۔ اسی سلسلے میں ہندوستان کے جلال پور کی عزاداری کی قدیم روایات پر مبنی فوٹوگرافی بھی نمائش کا حصہ بنی، جس نے دونوں خطوں کے درمیان محبتِ امام حسینؑ اور یادِ کربلا کے مشترکہ جذبے کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

اس سال نمائش میں میناب اسکول کے شہداء کی یاد میں ایک خصوصی تخلیقی کام بھی پیش کیا گیا، جسے حاضرین نے نم آنکھوں سے دیکھا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ننھے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔

لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد، فن اور فوٹوگرافی کے ذریعے پیغامِ کربلا کو اجاگر کیا گیا

نمائش میں شریک فنکاروں، محققین، دانشوروں، سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کی تقریبات نہ صرف فنکارانہ اظہار کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ امن، اخوت، بین المذاہب مکالمے اور امام حسینؑ کے آفاقی پیغام کو نئی نسلوں اور عالمی برادری تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

لکھنؤ میں 18ویں بین الاقوامی محرم نمائش کا انعقاد، فن اور فوٹوگرافی کے ذریعے پیغامِ کربلا کو اجاگر کیا گیا

بین الاقوامی محرم نمائش 2026 میں شرکاء کے نام:

ہندوستان کے مختلف علاقوں سے خطاط، مصور، آرٹسٹ اور فوٹوگرافر

گوری یوسف حسین (بھروچ)، ارمان حسین (دہلی)، حبیبہ خان (ممبئی)، جمیل حسین (گروگرام)، حاجی ارشاد علی (وارانسی)، یوگیش پال (دہلی)، پروفیسر جوہی شکلا (دہلی)، طلعت میمو (پریاگ راج)، عظمیٰ یونس (دہرادون)، محمد قمر (شاہجہاں پور)، سوالحہ (مرادآباد)، دلنور (گورکھپور)، زینب رضوی (سری نگر)، ایمن زہرہ (شملہ)، علی ندیم رضوی (علی گڑھ)، کامران مرزا (کولکاتا)، صوفی راج جین (ہوشیار پور)،

لکھنؤ - فوٹوگرافر

منوج چھابڑا، اعظم حسین، یوسف انصاری، نجمُـل، سمیت کمار، انکت سنگھ، محمد حسنین، مولانا رضوان حیدر، مرحوم ڈاکٹر ساجد حسین

مصور

شیام ورما، تبسم فاطمہ، بریزہ ناظم، سید مریم مرتضیٰ، ثناء طیب، منہال رضا، انیسہ، انوشہ انس، زیبہ خان، حوریہ اسلم، آربینہ خان، رضلہ، عریبہ خان

خطاط

شائندہ کدوائی، صبیحہ سلطانہ، سعدیہ خان فائقہ، فاکہہ، نشرہ فردوس انصاری، لکشمی سنگھ، لبنیٰ، خلود محمد رافع، آفرین، یسریٰ فردوس انصاری، زینب خان، مدیحہ شیخ، نکہت فاطمہ، عریبہ دبیر، عریبہ خان، ندا خان، شازلہ خان، یاسمین خان، ممتاز جہاں، ولی ایچ رضوی، فوزیہ خاتون، زنیرہ موویز، فرحین فاطمہ، صبا آفرین جاوید، غفرانہ بانو، امِّ زینب

غیر ملکی فنکار

خطاط: استاد منیب (بوسنیا)، احمد کوچاک (ترکی) معصومہ وشاہری (ایران)

فوٹوگرافر

ایران: مصدق رضا قمی، منٹا سمیعی، شبیہ رضا، معصومہ محمودی، جواد علمی نیا، ریحانہ شہبازی، زہرہ لک

لندن: روبی ایچ حیدر

عراق: علی رحیم، حکمت العیاشی

اسپین:

محمد احسن

یونان:

رزاق ملک

مصور

سعودی عرب:

سعود شاکر عبداللہ خان

لبنان:

جنان علی ریحانی

عراق:

مریم المدوی، زہراء حسین الشمری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha