حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استنبول میں قائم مجمع علمای اهل بیت ترکیه (Ehla-Der) کے سربراہ شیخ قدیر آکاراس نے ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے نتائج اور ایرانی معاشرے میں مزاحمت کی ثقافت کی تشکیل کے حوالے سے حوزہ نیوز کے نمائندہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا : ایرانی نوجوان نسل نے "مقاومت کی ثقافت" کو محض ایک نظریاتی تصور کے طور پر نہیں بلکہ میدان عمل میں براہ راست تجربہ کیا ہے۔ یہ تبدیلی امام خمینی (رہ) کی فکر سے جڑی ہوئی ہے اور آج ایرانی معاشرے اور جبهہ مقاومت میں مزید گہرے اتحاد کا باعث بنی ہے۔
انہوں نے جنگ کے ابتدا میں شہر میناب کے ایک اسکول میں 168 بچوں اور اساتذہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: صیہونیت اور امریکی سامراج کی اس کھلی دشمنی کے خلاف ترکی میں ان کی تنظیم نے "ایران ترکی دوستی اسکول" کی تعمیر کی ذمہ داری لی ہے۔ شہید بچوں کی یاد کو زندہ رکھنے اور متاثرہ علاقے کے تعلیمی ڈھانچے کی بحالی کے لیے یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
شیخ قدیر آکاراس نے ایرانی عوام کی جانب سے جنگ کے دوران ظاہر کردہ غیر معمولی یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا: مغربی اور صیہونی میڈیا کی جانب سے ایرانی معاشرے میں شگاف اور نظام کے خاتمے کی پیشگوئیوں کے برعکس اس جنگ نے ایرانی قوم میں استقامت اور ولایت مداری کے جذبے کو مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ایرانی نوجوانوں نے عملی طور پر مقاومت کے اس مکتب کو سیکھا ہے جو عزت کو ذلت پر ترجیح دیتا ہے۔
شیخ آکاراس نے ترکی کے عوام کی طرف سے ایران کے خلاف جارحیت کے خلاف ردعمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا: ترکی کے معاشرے میں بھی سامراج مخالف ایک بڑا اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
انہوں نے امام خمینی (رہ) کی فکر کو ایران کی جنگ میں فیصلہ سازی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا اور کہا: "استقلال" اور "مقاومت" کے بغیر اتنی بڑی پابندیوں اور دباؤ کا مقابلہ ممکن نہ تھا۔
اہل بیت علماء کونسل ترکی کے سربراہ نے آخر میں عالم اسلام کے لیے اتحاد، برادری اور رہبری کی پیروی کو نجات کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا: جزئی اختلافات، مذہبی اشتعال اور نسلی تفریق کو ختم کرنا ہوگا اور یقینا استقامت کے راستے پر چلنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔









آپ کا تبصرہ