تحریر: خادم حسین آخوندی
حوزہ نیوز ایجنسی|
میناب شہر کا تعارف
میناب، ایران کے صوبۂ ہرمزگان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ بندر عباس سے تقریباً 110 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر اپنی منفرد ثقافت اور تاریخی اہمیت کی بدولت ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے، آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک سے قربت کی وجہ سے یہ ایک اسٹریٹجک علاقہ ہے۔قدیم زمانے سے لے کر آج تک، میناب تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ خلیج فارس کے ساحل پر واقع مغربی ایشیا کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ افریقہ سے لے کر مشرقی ایشیا تک کے تاجر یہاں اپنے تجارتی لین دین کے لیے آتے تھے۔ آج میناب کی آبادی تقریباً ڈھائی لاکھ ہے۔ مذہبی اعتبار سے، یہاں شیعہ اکثریت ہے، جن کی آبادی تقریباً 85 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ اہل سنت والجماعت بھی یہاں آباد ہیں۔ میناب کے لوگ مذہب، امن پسندی اور مہمان نوازی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا لہجہ، لباس اور رنگ و نسل ایران کے دیگر شہروں سے کچھ مختلف نظر آتے ہیں۔ یہاں کے لوگ اکثر سیاہ فام اور گندم گوں رنگت کے حامل ہیں۔ اس کی وجہ یہاں کی آب و ہوا کے ساتھ ساتھ نسلی عوامل بھی ہیں۔ قدیم زمانے میں افریقہ سے آنے والے تاجروں کی آباد کاری اور مقامی لوگوں سے شادیوں کے باعث یہ امتزاج پیدا ہوا۔
زبان اور نسل
میناب کا نسلی امتزاج ایرانیوں، افریقی نژادوں اور بشاگردیوں پر مشتمل ہے۔ اس میں عربوں اور بلوچوں کی اقلیت بھی شامل ہے۔ میناب شہر اور ضلع میناب کے دیگر علاقوں میں لوگ فارسی زبان کی ایک بولی، "مینابی"، بولتے ہیں۔
مینابی بولی، جو جنوبی ایران اور بشاگرد و رودان کے مضافات میں رائج ہے، بشکردی بولی کی ایک ذیلی شاخ ہے اور یہ لاریستانی اور بشکردی بولیوں کے درمیان ایک درمیانی کڑی سمجھی جاتی ہے۔ اسے جنوب مشرقی ایران کی ایک امتزاجی زبان بھی کہا جاتا ہے۔
شجرہ طیبہ اسکول
یہ اسکول میناب شہر کے ایک نواحی محلے میں واقع ہے۔ یہ ایک نجی اسکول ہے اور اس کے تین مختلف حصے ہیں۔ ایک حصہ نونہال بچوں کے لیے مختص ہے، جس میں چار سال سے سات سال تک کے بچے پڑھتے ہیں۔ دوسرا حصہ لڑکیوں کے لیے مختص ہے اور تیسرا حصہ لڑکوں کے لیے مخصوص ہے۔ رقبے کے اعتبار سے اس اسکول کا حدودی رقبہ تقریباً 2000 مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ اس لحاظ سے یہ اسکول بہت وسیع و عریض لگتا ہے۔ اسکول کا صحن بھی بہت وسیع ہے، جس میں بچے اور بچیاں کھیلتے کودتے تھے۔ اس اسکول میں شیعہ اور اہل سنت بچے اکٹھے درس پڑھتے تھے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے سے پہلے یہ مدرسہ تعلیم و تربیت کے لحاظ سے ایک منفرد اسکول مانا جاتا تھا۔ یہاں مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت بھی انجام پاتی تھی۔ اسی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو اس اسکول میں داخلہ لینے کے لیے ہمیشہ مشتاق رہتے تھے۔ حملے سے پہلے اسکول میں بچوں اور بچیوں کی تعداد 250 تھی۔ اس اسکول کا پہلا طبقہ لڑکیوں کے لیے مخصوص تھا اور دوسرا طبقہ لڑکوں کے لیے مختص تھا۔ اسکول کی ایک ایک عمارت میں کمسن بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام چلتا تھا۔
عالمی استکبار کی تربیتِ اسلامی سے عداوت
امریکہ اور مغربی ممالک خود کو علم اور ٹیکنالوجی کا حامی کہتے ہیں، مگر یہ دعویٰ صرف اپنے مفاد تک محدود ہے؛ دوسروں کے لیے نہیں۔ وہ ایسا علم پسند کرتے ہیں ، جو ان کے منصوبوں اور مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ چنانچہ وہ علم جو ایمان اور اسلامی روح کے ساتھ پیوست ہو، جس کا مقصد انسان کی باطنی تربیت اور اس کے اندر ایمان کے ساتھ زندگی گزارنے کا شعور پیدا کرنا ہو، مغربی طاقتیں اور مستکبرین اسے قبول نہیں کرتے، بلکہ اس کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ طرزِ فکر ان کے استکباری اور استعماری مزاج سے میل نہیں کھاتا۔
شجرہ طیبہ اسکول محض ایک عام تعلیمی ادارہ نہیں تھا، بلکہ ایک با مقصد تربیتی مرکز تھا، جہاں طلباء کو اسلامی تربیت دی جاتی تھی۔ یہ اسکول تعلیمی پہلو کے ساتھ ساتھ تربیت و پرورش کے میدان میں بھی دینی تعلیمات کی بنیاد پر اس علاقے میں ایک منفرد اور بے مثال ادارے کی حیثیت رکھتا تھا۔ عالمی استکبار کے سرپرست ، یعنی امریکہ اور صہیونیوں کو اس حقیقت کا بخوبی علم تھا؛ اسی لیے انہوں نے اس تعلیمی اور تربیتی مرکز کو جان بوجھ کر تباہ کیا، تاکہ اسلامی علم کی روشنی پر مبنی تعلیم و تربیت کے راستے میں اپنی دشمنی اور مخالفت کو ظاہر کر سکیں۔
اسکول پر میزائل حملہ
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں، میناب میں قائم پرائمری اسکول "شجرہ طیبہ"کو امریکہ نے نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں 156 افراد شہید ہوئے، جن میں 120 اسکول کے بچے (73 لڑکے اور 47 لڑکیاں) شامل تھے۔
عینی شاہدین اور زیر تعلیم بچوں کے والدین کے مطابق، 2 مارچ 2026 کی صبح بچے معمول کے مطابق خوشی خوشی اسکول پہنچے۔ کچھ بچے اپنی کلاسوں میں پڑھائی کر رہے تھے اور بعض صحن میں کھیل رہے تھے۔
اُس دن ساڑھے دس بجے اسکول میں چھٹی ہونی تھی۔ اسکول انتظامیہ کی طرف سے والدین کو مطلع کیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو لینے کے لیے اسکول آجائیں۔ اسی اطلاع کی وجہ سے، کچھ والدین معمول سے چند منٹ پہلے ہی اسکول پہنچ چکے تھے۔
جب اسکول کی چھٹی کا وقت قریب آیا، تو اساتذہ بچوں اور بچیوں کو گھر بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے، ان کے بیگ اور لباس ترتیب دے رہے تھے۔ کچھ بچے اپنے اساتذہ کو الوداع کہہ کر اسکول سے نکل رہے تھے۔
اچانک ایک خوفناک دھماکے کی آواز نے اسکول کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ معلوم ہوا کہ اسکول کے قریب واقع ایک طبی مرکز پر میزائل حملہ ہوا تھا۔ اسکول میں کہرام مچ گیا۔ وہاں موجود بچے خوفزدہ ہو کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اساتذہ نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو الگ الگ کمروں میں جمع کیا، تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں۔
اسی دوران یکے بعد دیگرے دھماکے ہونے لگے۔ اس بار اسکول کے اطراف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسکول میں افراتفری پھیل گئی اور در و دیوار لرز اٹھے۔ وہاں موجود بچوں اور عملے نے محسوس کیا کہ ممکن ہے اسکول کو بھی نشانہ بنایا جائے، چنانچہ بچوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔
یہی وہ لمحہ تھا، جب ایک میزائل مدرسے کے صحن میں آ گرا اور زور دار دھماکا ہوا۔ صحن میں موجود بچے اور پہلے طبقے میں موجود بعض بچیاں اس حملے کی زد میں آ کر شہید اور زخمی ہو گئیں۔ قیامت کا منظر دیکھ کر بعض بچے اپنی بہنوں کو بچانے کے لیے صحن کی طرف دوڑنے لگے۔ مگر یہ وہی قیامت خیز لمحہ تھا ، انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے دعویداروں نے اسکول کی عمارت کو پے در پے میزائلوں کا نشانہ بنا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس اسکول کی طرف 9 میزائل داغے گئے۔
اس ظالمانہ حملے کے نتیجے میں 156 بچے، اسکول کے متعدد افرادِ کار اور اساتذہ شہید ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ (بعض دیگر ذرائع کے مطابق شہدا کی مجموعی تعداد 168 ہے۔)
جب امدادی عملے اور بچوں کے والدین وہاں پہنچے، تو اسکول کی عمارت زمین بوس ہو چکی تھی۔ ہر طرف بچوں کے بکھرے ہوئے جنازے نظر آ رہے تھے۔ امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں اور جتنے زخمیوں کو ہو سکا، انہیں اسپتال پہنچایا گیا۔ مخدوش شدہ لاشوں کو فوری طور پر سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔
اس طرح میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے بچوں کے والدین کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔ امریکہ ایک بار پھر ملتِ ایران کے خلاف اور ایک ناقابلِ بخشش جرم کا مرتکب ہوا اور دنیا کی آنکھوں کے سامنے اس بھیانک قتلِ عام کو انجام دیا۔
بچوں کے والدین کے تاثرات
اگر چہ والدین اپنے معصوم بچوں کی مصیبت میں غم سے نڈھال ہیں، لیکن پر عزم اور ارادے کا حامل نظر آرہے ہیں۔ یہ لوگ نظام اسلامی اور اپنے رہبر کےلیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا ہمارے بچے، اپنے رہبر پر جانثار ہو گئے ہیں اور ہم اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کسی بھی قیمت پر امریکا کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور اپنے معصوم شہید بچوں کا انتقام لے کر دم لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو چاہیے کہ اس جارحیت پر خاموش نہ بیٹھیں اور جتنا ہوسکے امریکہ اور اسرائیل کے اس ظالمانہ حرکت کی مذمت کریں۔
ایک اور شخص جس نے اس حادثے ميں اپنی بیوی اور دونوں بچوں کو کھویا تھا، وہاں موجود زائرین اور المصطفی یونورسیٹی کی میڈیا تنظیموں کے اراکین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے بچوں کی ولایت مداری کے حوالے سے کہا: میرا بیٹا بہت ہی ہونہار بچہ تھا، حا دثے سے پہلے ایک دن ٹیلیویژن پر شہید رہبر (رہ) کو دکھا رہا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا بیٹا کیا تم جانتے ہو، یہ شخص کون ہے؟ اس نے کہا: پاپا نام تو مجھے یاد نہیں ہے ، لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ اپنی جان کو ان پر قربان کروں! اور میرے کم سن بیٹے نے ایسا کر کے دکھایا۔
اس حادثے کا پس منظر
عالمی استکبار کے علمبردار امریکہ نے اس مدرسے پر حملہ کیوں کیا؟
اس کا جواب واضح ہے؛ ظلم و بربریت اس کی پرانی روش رہی ہے۔ کبھی وہ شیطانی چہرے کے ساتھ سامنے آتا ہے، کبھی فرعون و نمرود کے روپ میں، اور کبھی بنی امیہ و یزید کی صورت میں۔ آج بعض لوگوں کے نزدیک ٹرمپ اور نیتن یاہو وہی کام کر رہے ہیں، جو ماضی میں جابرانہ قوتیں انجام دیتی رہی ہیں۔ قرآن کے مطابق فرعون بھی بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرتا تھا، اور آج کے ظالم حکمران بھی اسی نوع کے جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
شجرہ طیبہ اسکول کے معصوم بچوں کے قاتل وہی ہیں ، جن پر غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں کے قتلِ عام اور فلسطین میں ظلم و ستم کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ یہ وہی طاقتیں ہیں، جو دنیا کے مختلف خطوں میں مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے زیرِ بحث رہی ہیں۔
لہٰذا فرعونیت اور ظلم و بربریت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ فرعونیت دنیا کے ہر قوم پر اپنا تسلط جمانا چاہتی ہے، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔
ان کا طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ پہلے طرح طرح کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں، پھر اپنی طاقتور میڈیا مشینری کے ذریعے دنیا میں پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ یہ بزدلانہ حملہ امریکہ ہی کی جانب سے ہوا، جس کا اعتراف دنیا بھر کے بعض تجزیہ نگاروں، صحافیوں، حتیٰ کہ امریکہ کے بعض سینیٹرز اور سرکاری شخصیات نے بھی کیا۔ لیکن جب وائٹ ہاؤس کی باری آئی، تو حسبِ معمول مختلف بہانے تراشے گئے۔ بعض جنگ پسند عناصر اور استکباری قوتوں کے زیرِ اثر بعض ذرائع ابلاغ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ خود ایرانیوں کا کام تھا، اور یہ کہ سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے حملے کیے، تاکہ الزام امریکہ پر ڈالا جا سکے!
اس حلقے کے بعض نام نہاد تجزیہ نگاروں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ مدرسہ دراصل ایک فوجی چھاونی کے اندر تھا، اور یہ کہ یہ اسکول نہیں، بلکہ ایک عسکری مرکز تھا۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ نشانہ دراصل اس کے بغل میں موجود سپاہِ پاسداران کی عمارت تھی اور اسکول غلطی سے نشانہ بنا۔ اسی طرح کے دیگر بے بنیاد بہانے بھی تراشے گئے۔ لیکن حقائق کو کب تک چھپایا جا سکتا ہے؟ دنیا بھر کے صحافیوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ ایک اسکول تھا، اور وہ بھی ایک نجی اسکول۔ اس کے آس پاس دور دور تک کوئی فوجی چھاونی یا عسکری مرکز نظر نہیں آ رہا تھا۔
اس حملے کو محض ایک حادثہ قرار دینا بھی مشکل ہے، کیونکہ مغربی ایشیاء کے فضائی حدود پر ان کی سینکڑوں سیٹلائٹ نگرانی موجود ہے، اور ان کے پاس ڈرون فوٹیج بھی ہمیشہ سے موجود ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اسکول اور فوجی مرکز کے درمیان فرق نہ کیا جا سکے؟ عمارت کی ظاہری شکل، دیواروں کے نقش و نگار، صرف بچوں کی آمدورفت، اور آس پاس صرف نجی گاڑیوں کی موجودگی اور عام شہریوں کی نقل و حرکت جیسے تمام قرائن اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ صرف ایک تعلیمی مرکز تھا۔
جیسا کہ ایک سابق امریکی فوجی، کین او کیف (Ken O’Keefe) نے دنیا کے عوام سے مخاطب ہو کر کہا: فرض کریں کہ وہی ٹومہاک میزائل جو ایریزونا کے شہر ٹوسن میں بنائے جاتے ہیں، آپ کے بچوں پر گرائے جاتے۔ تصور کریں کہ اگر ایران آپ کے 132 بچوں کو قتل کر دیتا، تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا؟ کیا پھر بھی یہ کہنا غلط ہوتا کہ ‘ایران مردہ باد’؟ آپ دنیا کو یہ جھوٹ کیسے کھلا سکتے ہیں؟ آپ مجھے بتائیں، اسلامی جمہوریہ ایران نے آپ کے خلاف کون سا دہشت گردانہ اقدام کیا ہے؟!
میناب کے دلسوز حادثہ پر غیر ملکی صحافیوں کے تاثرات:
ایرانی اخبار " تابناک" کی رپورٹ کے مطابق، میناب حادثے کے چند روز بعد 8 غیر ملکی صحافیوں نے ایران کا دورہ کیا اور بندرِ عباس پہنچے۔ وہاں انہوں نے امریکی حملے میں تباہ ہونے والے شجرہ طیبہ اسکول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ ان صحافیوں میں یونان سے کاتیا انتونیادی، لبنان سے محمود عساف اور امریکہ سے وایات ریڈ شامل تھے۔ انہوں نے میناب کے شہداء کے اہل خانہ اور بچوں کے والدین سے ملاقات کی؛ اس دوران کئی بار ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
وایات ریڈ نے اسکول کے ایک شہید طالب علم کے گھر کا بھی دورہ کیا۔ اپنے ملک کی حکومت کے مظالم پر شرمندگی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور انہوں نے شہید کے لواحقین سے تعزیت کی۔ اس دورے کی ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا: «میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ میری حکومت ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہونے دے!»
یہ ایک مثبت رویہ ہے کہ انسان منصف مزاج ہو اور اپنی حکومت کے مظالم کو بہادری سے تسلیم کرتے ہوئے ان کی تلافی کی کوشش کرے۔ اس امریکی صحافی کی کم از کم کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ وہ میناب کے بے گناہ بچوں کی شہادت کے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے ملک کے حکمرانوں کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائے۔
میناب کا المیہ اتنا بھیانک اور ناقابلِ یقین تھا کہ امریکی اور مغربی میڈیا کی تمام تر غلط بیانی اور پروپیگنڈے کے باوجود، غیر ملکی صحافی حقائق جاننے کے لیے اس مقام کا دورہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’ایرنا‘ کی رپورٹ کے مطابق، اب تک 58 غیر ملکی صحافی اس بربریت کا قریبی مشاہدہ کر چکے ہیں اور انہوں نے اس ہولناک منظر کی عکاسی کی ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معصوم بچوں کے خون کی جوش و خروش کبھی نہیں رُکے گی؛ بالآخر یہی خون ان استکباری قوتوں کو خوار و ذلیل کرے گا۔
میناب کے قتلِ عام کی تصویری روداد: اسکائی نیوز کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، میناب کے دردناک واقعے کی شائع شدہ تصاویر اسکائی نیوز کے معروف جنگی رپورٹر "ڈومینک واگھورن" کی فیلڈ رپورٹ کا ایک حصہ ہیں۔ یہ ہولناک مناظر ایک بار پھر رائے عامہ کے سامنے سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ موجودہ شواہد اور ٹوماہاک کروز میزائل کے باقیات الزامات کی انگلیاں امریکہ کی جانب اٹھا رہے ہیں، مگر امریکی حکام اور سینٹکام کے کمانڈر اب بھی "تحقیقات جاری ہیں" کا جملہ دہرا کر واضح جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس سانحے کے زندہ بچ جانے والے افراد اور وہ خاندان جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، صرف ایک ہی مطالبہ رکھتے ہیں: حقیقت، شفافیت اور انصاف۔
میناب حادثے پر صوبہ ہرمزگان کے گورنر کا رد عمل
صوبہ ہرمزگان کے گورنر ڈاکٹر محمد آشوری نے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے میڈیا تنظیموں کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: بین الاقوامی قوانین کے تحت، کسی ملک کے عہدیداروں کے لیے تحفظ اور استثنیٰ کا تعین کیا گیا ہے؛ لیکن امریکیوں نے اس ملک کے ان عظیم شخصیات اور خاص طرو پر رہبر اعلی کو شہید کر کے اس قانون کو پامال کیا اور اپنے لیے رسوائی خریدی۔ اسی طرح، شجرہ طیبہ اسکول کا واقعہ بھی ایک مکمل اور سنگین جرم ہے، جس میں امریکیوں نے 168 معصوم بچوں کا قتلِ عام کیا اور یہ ہیروشیما اور ویتنام کے جرائم کے بعد تیسرا انسانی المیہ شمار ہوتا ہے۔ میناب کا یہ واقعہ،" ناؤ دنا" کے شہداء اور سرداروں کی شہادت کے ساتھ پیش آیا، جس میں اس ملک کے 104 غیور افراد امریکی جارحیت کا شکار ہوئے۔
میناب کا یہ واقعہ دنیا بھر میں امریکہ اور اسرائیل کی رسوائی کا باعث بنا۔ شجرہ طیبہ اسکول کے واقعے کے بعد، میناب میں امریکہ اور دیگر ممالک کے صحافی آئے تھے۔ ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا: کیا واقعی آپ نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے؟ ہمیں دکھائیں۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہم نے اسی دن کہا: آئیں، ہم آپ کو دکھاتے ہیں۔ اسی اثناء میں، جب چند بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، تو انہوں نے کہا: اب ہم نہیں جائیں گے۔ امریکی صحافیوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد آنسو بہائے۔ انہوں نے میڈیا کارکنان سے مخاطب ہو کر کہا: آپ حضرات کا یہ اقدام، مختلف قومیتوں کے لیے ایک بہترین میڈیا نمونہ ہے اور ان شہداء کی مظلومیت کی خبر کو دنیا تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جنگِ رمضان کے بعد، ملک کا قومی سرمایہ، یعنی اتحاد و ہمدلی، اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ اس جنگ میں طاقت کا توازن بگڑ گیا، اور فوجی طاقت کے دعویدار، ملتِ ایران کے ارادے کے سامنے شکست کھا گئے، اور یہ کامیابیاں رہبرِ معظم، میناب کے معصوم بچوں اور دیگر شہداء کے خون کی برکت سے حاصل ہوئیں۔
کربلائے میناب اور واقعہ کربلا میں مشابہت
چنانچہ روایات میں آیا ہے: (کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانے اور ہر جگہ میں حق اور باطل کا تصادم ہو سکتا ہے، چاہے وہ 61 ہجری میں کربلا کے مقام پر ہو یا کسی اور زمانے اور جگہ میں۔ جیسے 12 رمضان 1447 ہجری کو میناب نامی سرزمین پر یہ حادثہ پیش آیا اور اس حادثے نے ایک بار پھر دنیا پر حق و باطل، یا حسینیت اور یزیدیت کی سرحدوں کو واضح کر دیا۔ ایک بار پھر دنیا نے سمجھ لیا کہ مکتب عاشورا کے پیروکار کبھی فرعونیت اور یزیدیت کے دباؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ جان دے سکتے ہیں، لیکن باطل قوتوں کے سامنے سر جھکانا ان کی ثقافت کا حصہ نہیں۔ رمضان کے دوران لڑی جانے والی جنگ میں ایک بار پھر (ھیھات من الذلۃ) کا نعرہ بلند ہوا۔
شہید رہبر امام خامنہ ای (رح) نے اپنی سعادت مند شہادت سے قبل واضح کر دیا تھا کہ اگر دشمن نے اس دفعہ حماقت کی، تو ہم کربلائی طرز پر میدانِ کارزار میں حاضر ہو جائیں گے۔ آپ (رہ) نے حضرت امام حسین (ع) کے تاریخی جملے کو دہراتے ہوئے فرمایا: ’’مجھ جیسا، یزید (جیسے) کی بیعت ہرگز نہیں کرے گا۔‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ حسینیت اپنی آخری سانس تک حق کے لیے لڑے گی، جبکہ یزیدیت اپنی ظلم و بربریت میں کسی بھی حد تک جا سکتی ہے!
یقیناً ایسا ہی ہوا۔ لشکرِ شیطان نے پہلے ہی دن میناب میں معصوم بچوں کا قتل عام کر کے ظلم کی انتہا کر دی اور اپنی رسوائی کا سامان پیدا کیا۔ بالکل اسی طرح جیسے یزید نے سنہ 61 ہجری میں فرزند رسول خدا (ص) کو شہید کر کے حسینی قافلے پر ظلم و جفا کی انتہا کی اور اس نے بھی اس گھناؤنی حرکت کے ذریعے اپنی ہلاکت کا سامان پیدا کیا۔ خاص کر یزیدیوں کی جانب سے معصوم بچوں پر کیے گئے مظالم نے بنی امیہ کی حکومت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا اور بہت کم عرصے میں ان کا تختہ الٹ گیا۔
بصیرت، صبر و استقامت
عاشورہ کے عظیم الشان تحریک میں ہمیں صبر، استقامت اور بصیرت کا وہ مظاہرہ نظر آتا ہے جو تاریخ کے کسی بھی دوسرے واقعے میں نہیں ملتا۔ بے شک، اگر بشریت نے کہیں صبر و استقامت کا درس سیکھا ہے، تو وہ یقیناً کربلا کی تحریک سے سیکھا ہے۔ تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے انقلابی رہنما مہاتما گاندھی نے اگر اس سرزمین کو استعماری طاقتوں کے چنگل سے آزاد کرایا، تو اس تحریک میں بھی ہمیں کربلا کی جھلک نظر آتی ہے۔ بصیرت، دور اندیشی اور ولایت پذیری کا اگر کوئی بہترین نمونہ تلاش کرنا چاہیں، تو کربلا کے علاوہ ہمیں کہیں اور نہیں مل سکے گا۔ چاہے اصحاب امام حسین (ع) کی وفاداری کی بات کریں، یا حضرت زینب (س) کے اس تاریخی جملے کو ملاحظہ کریں، جس میں آپ (س) نے ابن زیاد سے کہا: (ما رأیت الا جمیلا) (میں نے سوائے حسن کے کچھ نہیں دیکھا)۔ عاشورہ کی تحریک میں ہمیں خوبی کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔
یقیناً، اسلامی جمہوریہ ایران پر عالمی استکبار کی طرف سے مسلط کردہ جنگ میں ہمیں عاشورہ کی تحریک کے بہت سارے نمونے نظر آتے ہیں۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہو! جبکہ اسلامی انقلاب کی تحریک دراصل عاشورہ کی تحریک کا ہی تسلسل ہے۔ آج اگر ایرانی جوانوں میں شہادت کا جذبہ موجود ہے، تو یہ انہوں نے کربلا ہی سے حاصل کیا ہے۔ آج شہداء کی مائیں اپنے جگر گوشوں کی شہادت پر صبر و استقامت کی مثالیں قائم کر رہی ہیں، تو یہ بھی کربلا سے ہی حاصل کیا ہے۔
میناب کے معصوم بچوں کی مائیں، اگر اپنے بچوں کی شہادت کے غم کو بھلا کر امامِ شہید (رہ) کی عزاداری کر رہی ہیں، تو انہوں نے عاشورہ کی اس بے مثال لمحے سے سبق لیا ہے، جب اسیرانِ آلِ محمد (ص) مدینہ واپس پہنچے، تو حضرت ام البنین (س) نے صرف اپنے امام اور آقا کی سلامتی کے بارے میں سوال کیا اور ان کی شہادت کی خبر سن کر اپنے جوان بیٹوں کے غم کو بھلا دیا۔ میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے معصوم شہداء کے والدین اور پسماندگان کی زبان پر صرف ایک ہی کلام نظر آتا ہے، وہ ہے: ہماری جان، مال اور اولاد ہمارے رہبر پر فدا ہوں۔
اسی مناسبت سے، ہم حضرت آیت اللہ ابراہیم، جو مجلسِ خبرگان کے رکن اور میناب شہر کے امام جمعہ ہیں، کے اس کلام کا اقتباس پیش کرتے ہیں، جو انہوں نے جامع مسجد میناب میں غیر ملکی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ موصوف فرماتے ہیں: «میں حادثے کے دن ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچا۔ جو لوگ پہلے وہاں پہنچے تھے، انہوں نے بتایا کہ ہم صرف بچوں کے ہاتھ، پاؤں اور جسم کے اعضاء جمع کر رہے تھے۔ یہ مظلومیت کی انتہا تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب بچے شہید ہو چکے تھے، تو ایک شہید بچی کے والد نے ہم سے پوچھا: حضرت آقا کا کیا حال ہے؟ اور کہا: ’’میری بیٹی آقا پر قربان ہو جائے۔‘‘ یہ بصیرت کی انتہا تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جب لوگ وہاں جمع ہو گئے، تو دشمن نے دوبارہ حملہ کیا، جو اس کی سنگ دلی اور درندگی کی نشانی ہے۔ آج یہ حادثہ دنیا میں مظلومیت، استقامت اور بصیرت کی ایک علامت بن چکا ہے۔ راویوں پر لازم ہے کہ اس واقعے کو صحیح طور پر بیان کریں۔ یہ واقعہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بصیرت کا سبب بنا ہے۔»
حادثہ میناب، استکبار کے مظالم اور عبرت کا مقام
میناب کا واقعہ ایک معمولی حادثہ نہیں، بلکہ یہ عالمی استکبار، خصوصاً امریکہ اور صہیونیت کی شوم مقاصد اور ان کے سفاکانہ طرزِ عمل کا ایک واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اس واقعے کو محض ایک الگ تھلگ سانحہ کے طور پر دیکھنا، استکباری قوتوں کے گہرے اور وسیع تر مذموم عزائم کو سمجھنے میں ناکامی ہوگی۔ یہ ایک ایسا دردناک واقعہ ہے، جو ان کی وحشیانہ ذہنیت اور انسانیت دشمنی کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ کس طرح امریکہ اور اس کے حواری، اپنے سامراجی مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف سیاسی یا اقتصادی غلبہ نہیں، بلکہ وہ اسلامی تہذیب و ثقافت اور انسانی اقدار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ میناب کا سانحہ ان کے اسی نفرت انگیز رویے اور نسل کشی کے منصوبوں کی ایک المناک مثال ہے۔ یہ واقعہ در اصل عالمی استکبار، خاص طور پر امریکہ اور عالمی صہیونیت کے ہاتھوں ہونے والی تباہ کاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یہ ان کے دعووں اور جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس، ان کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے لاتا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے ، جس کے داغ شاید ہی کبھی مٹ سکیں۔
عبرت اور درسِ عمل
میناب کے حادثے کو ہمیں ایک لمحہ فکریہ اور سبق کے طور پر لینا چاہیے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ استکباری طاقتیں کس قدر بے رحم اور سفاک ہو سکتی ہیں۔ اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے، ہمیں متحد ہو کر ان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری امت مسلمہ اور انسانیت کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ ہمیں اس دردناک واقعے کو پسِ پشت ڈال کر، استکبار کے خلاف جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہو گا اور آنے والی نسلوں کو ان کے مظالم سے آگاہ کرنا ہو گا۔
نتیجہ:
میناب کا حادثہ ایک یاد دہانی ہے کہ استکبار کا سایہ آج بھی انسانیت پر منڈلا رہا ہے۔ ہمیں بیدار رہنا ہوگا، متحد رہنا ہوگا اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں، بلکہ یہ ہمارے لیے ایک فرضِ منصبی ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایک پُرامن اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں رہیں۔









آپ کا تبصرہ