حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے جمعہ 5 تیر 1405 ہجری شمسی / 26 جون 2026ء کو شہر قم کے مصلائے قدس میں ادا کی گئی نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا: دشمن نے رہبر معظم کی شہادت میں کئے گئے اپنے حساب کتاب میں بہت بڑی غلطی کی جیسے یزید نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے محاسبات میں غلطی کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا: دشمن کا خیال تھا کہ امت کے امام، کمانڈروں، ڈینا جنگی جہاز کے عملے اور میناب کے اسکول کے بچوں کی شہادت سے وہ ہمارے دینی و قومی نظریے اور عقیدے کو ختم کر سکتا ہے جیسے یزید کا خیال تھا کہ امام حسین علیہ السلام کو قتل کر کے حق کی آواز اور نور بجھ جائے گا لیکن اُس زمانے کے جاہل یزیدی اور اس زمانے کے جدید اور جاہل یزیدی بھی نہیں جانتے اور نہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کی ثقافت میں شہادت انجام نہیں بلکہ ایک تحوّل اور بیداری کا آغاز ہے۔
قم کے خطیب جمعہ نے کہا: دشمن ابتدائے اسلام اور اسی طرح کربلا کے واقعے سے لے کر آج تک جب بھی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں، نادانستہ طور پر مومنین کے لیے مظلومیت پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ تاریخ اسلام میں مظلومیت ہمیشہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور غصے کو وفاداری میں تبدیل کرنے کا سب سے طاقتور ہتھیار رہی ہے۔
انہوں نے کہا: جس طرح اہل بیت علیہم السلام کی اسیری کے نتیجے میں شام اور کوفہ کے لوگ اسلام کی حقیقت سے آشنا ہوئے، اسی طرح دشمنوں کی ایران پر حالیہ یلغار نے بھی لوگوں کو ایک بار پھر مقاومت کے معنی کو پوری طرح محسوس کرنے کا موقع دیا اور پیچھے ہٹنے کے بجائے وہ سڑکوں پر آگئے اور زیادہ شدت کے ساتھ نظام اسلام اور نئے رہبر یعنی حضرت آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی آواز پر لبیک کہا۔
حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے متولی نے کہا: تشیع اور امت کے امام کی عزاداری کی رسومات کو ایرانی مسلم قوم کی طاقت اور مقاومت کے مظاہرے اور ایک الٰہی میدانی ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دشمنوں نے شہید رہبر انقلاب، کمانڈروں اور میناب کے بچوں کی شہادت کے ذریعے معاشرے میں تفرقہ اور انتشار پیدا کرنا چاہا لیکن ان تمام جرائم نے لوگوں میں قابلِ ذکر اتحاد پیدا کیا۔
آیت اللہ سعیدی نے مزید کہا: دشمن کبھی نہیں سمجھنا چاہتا تھا اور نہ سمجھ سکا کہ بے گناہ انسانوں کا خون بہانا ایران، غزہ، لبنان اور اسلامی سرزمینوں کے لوگوں کے ایمان اور مقاومت کو ختم نہیں کر سکتا کیونکہ خون ایمان کی نشوونما کا باعث بنتا ہے۔









آپ کا تبصرہ