منگل 7 اپریل 2026 - 22:00
آیت اللہ خامنہ ای کی ذات مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت تھی، مولانا سید تہذیب الحسن رضوی 

حوزہ/ رانچی میں آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی یاد میں منعقدہ مجلسِ ترحیم میں علماء نے ان کی شہادت کو امتِ مسلمہ کے اتحاد اور بیداری کا سبب قرار دیتے ہوئے ایران کے کردار اور فلسفۂ شہادت کو اجاگر کیا، جبکہ شرکاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی شہادت کی یاد میں ایک جلسہ تعزیت و مجلس ترحیم کا انعقاد رحمت نگر ڈورنڈا رانچی میں بعد نماز عشاء کیا گیا اس جلسہ کی صدارت جناب مولانا توفیق احمد قادری نے کی اور انہی کی تلاوت کلام پاک سے جلسہ کا اغاز ہوا اس موقع پر مولانا دانش رضا امی نے خطاب کرتے ہوئے ایران کو مسلمانوں کا عظیم مسیحا قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اج پوری دنیا اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کر رہی ہے ملت کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ذات مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت تھی، مولانا سید تہذیب الحسن رضوی 

مولانا سجیر علی رضوی امام جمعہ حسین اباد نے اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو یاد کر ان کے پیغام کو عام کرنا ایک عظیم عبادت ہے ایت اللہ خامنائی اپنے لیے نہیں جیے بلکہ امت کو ایک کرنے کے لیے جیتے رہے اور جانے کے بعد امت کو ایک کر گئے۔

مولانا شریف احسن مظہری نے بڑے جوشیلے انداز میں ایران کے جغرافیائی اور ایرانی عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں نے جینے کا سلیقہ شہادت کا سلیقہ کربلا والوں سے سیکھا ہے یہی وجہ ہے کہ خامنائی صاحب نے شہادت قبول کی مگر بیعت قبول نہیں کی مسلمانوں کو فلسفہ شہادت کو سمجھنا ہوگا۔

مولانا حسن عباس صاحب مظفر پور بہار نے بڑے جذباتی انداز میں ایرانی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں وہ لوگ کسی بھی طاقت سے مرعوب نہیں ہوتے ایران نے بتا دیا کہ سپر پاور امریکہ نہیں بلکہ خدا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ذات مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت تھی، مولانا سید تہذیب الحسن رضوی 

مولانا حیدر عباس صاحب گوپال پوری نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے فرمایا کہ اٹھو جاگو اور ایک صف کو اتنا مضبوط بنا دو کہ امریکہ صرف تمہارے نام سے کانپنے لگے بس شرط یہ ہے ایمان کے ساتھ تقوی ہونا چاہیے۔

خطیب انقلاب مولانا تہذیب الحسن نے مجلس ترحیم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاش دنیا نے امام خمینی کے اس جملے کو یاد رکھا ہوتا جس میں انہوں نے ایران کی کامیابی کے بعد فرمایا تھا کہ اگر ساری دنیا کا مسلمان متحد ہو کر ایک ایک مٹھی بالو امریکہ اسرائیل پر ڈال دے تو بیت المقدس ایک دن میں ازاد ہو سکتا ہے انہوں نے اگے کہا کہ اسلام کو ہمیشہ کامیابی شہادت کے بعد ملی ہے اج انشاءاللہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور ان کے کمانڈروں اور وزراء اور بے گناہوں کی قربانی امریکہ اور اسرائیل کے نابودی کا انشاءاللہ سبب بنے گی اج ایران نے اپنے عزم و حوصلے سے عالم اسلام کو یہ بتا دیا ہے کہ خدا کے گھر کا متولی ہو جانا یہ کمال نہیں ہے بلکہ دین اسلام کو بچانے کے لیے مجاہدانہ عمل پیش کرنا یہ کمال ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ذات مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت تھی، مولانا سید تہذیب الحسن رضوی 

آج آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے وہ کام کر دکھایا جو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا اس شہادت کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ اج امت مسلمہ متحد ہو چکی ہے اور اکابرین ملت نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو ایک عظیم قربانی قرار دیا ہے اور یہ بتا دیا ہے کہ شیعہ سنی کی تفریق پیدا کرنے والے کبھی بھی مسلمانوں کے سچے دوست نہیں ہو سکتے جو لوگ ایران کے خلاف زہر اگل رہے ہیں وہ لوگ اصل معنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں اور ان کا دین سے کوئی رابطہ نہیں ہے اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اپنا رہبر لباس سے نہ پہچانو کردار سے پہچانو کربلا میں ایک طرف کردار تھا ایک طرف لباس تھا کردار جیتا لباس ہارا اج پھر وقت ان پڑا ہے کہ کردار کی بدولت امت کے رہنما کو پہچانا جائے۔

ائے ہوئے تمام لوگوں کا شکریہ جناب علی احمد نکی صاحب نے ادا کیا اس موقع پر کثیر تعداد میں امت مسلمہ کے لوگوں نے شرکت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha