تحریر:فرح بتول جلبانی
حوزہ نیوز ایجنسی| جب صیہونی ظلم نے سر زمین فلسطین کو لہو لہو کیا۔جب گھر، مسجدیں اور خوشیاں و خواب سب ملبے تلے دفن ہونے لگے۔ تب دنیا،جس میں بہت سے مسلمان حکمران اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار بھی خاموش رہے،بلکہ بعض نے تو ظالموں کے ہاتھ مضبوط کیے۔
مگر ایسے میں ایک آواز اٹھی،ایک فکر اٹھی،ایک قوم اٹھی۔وہی قوم جسے کچھ لوگ برسوں سے "کافر کافر" کہتے آئے ہیں۔
مگرجب وقت امتحان آیا تو اسی قوم نے مولا علی ع کی سیرت پر چلتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دیا اور ظالم کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی۔
اس قوم نے فلسطین کی ہر ممکن مدد کی۔جب دشمن نے اس مدد کی قیمت وصول کرنے کی کوشش کی تب بھی یہ پیچھے نہ ہٹی،کیونکہ اس قوم کی راہنمائی ایک ایسے مردِ مومن کے ہاتھ میں تھی، جس کی رگوں میں حیدری خون تھا۔جس کی قیادت کا مرکز ایک اصول تھا۔
"ہم مظلوم کا ساتھ دینے کے لیے اس کا مذہب نہیں دیکھتے۔"
یہ وہ فکر تھی جسے سید علی خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی سے ثابت کیا۔اور ادھر تو مسئلہ سر زمینِ انبیاء اور ان کے اپنے مسلمان بھائیوں کا تھا۔
انہوں نے واضح الفاظ میں اس مسئلے کو آج کی کربلا قرار دیا۔انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ شمر ملعون آج بھی نیتن یاہو کی شکل میں موجود ہے۔آج بھی حسین ع کے قافلے کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔
دشمن نے اس بوڑھے شیر کی سرحدوں سے بالاتر فکر سے خوفزدہ ہوکر اسے ڈرانا چاہا۔مگر امام حسین ع کے اس فرمان
"مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا"
کی مکمل معرفت رکھنے والا نہ ڈرا،نہ بِکا،نہ جھکا،نہ رکا۔
اس کے قریب والوں نے بھی کہا کہ
آقا آپ محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں۔
اس نے مسکرا کر جواب دیا:
"اگر پوری قوم کو محفوظ مقام مل جائے تو میں بھی محفوظ مقام پر چلاجاؤں گا،کیونکہ ان کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی میری"
یہ ایک جواب نہیں بلکہ رہبر کے دل کا آئینہ تھا۔یہی تو فرق ہوتا ہے،
حکمران اور رہبر میں۔
پھر آخر کار دشمن نے اس مرد استقامت کو میزائلوں کی زبان سے وہ بات کہی جو ظالم ہمیشہ حق کے مقابلے میں کہتا آیا ہے کہ
اگر دلیل سے نہ ہرا سکے تو جسم کو مٹا دو
مگر وہ کیا جانتے تھے کہ
~ چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا
یوں وہ آج کی کربلا (فلسطین) کا راہی مولا حسین ع کے قافلے سے جاملا۔
اس نے اپنی شہادت سے ہمیں وہی سبق یاد دلایا جو حاج قاسم نے بھی سکھایا تھا۔
"قربانی اہم ہوتی ہے مگر اس سے زیادہ اہم وہ مقصد ہوتاہے کہ جس کے لیے قربانی دی جائے۔"
سید علی خامنہ ای نے اپنی جان دے کر یہ سمجھا دیا کہ
فلسطین کوئی جنگ نہیں بلکہ ایمان کا امتحان اور انسانیت کی بقاء کا سوال ہے۔
لہٰذا اہل ضمیر لوگو!
شہید رہبرکی قربانی کا مقصد مت بھولو۔ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ اور مظلوم کا ساتھ دو۔
تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ جب پوری دنیا خاموش تھی تب بوڑھا شیر مظلوموں کے حق میں گرج رہا تھا۔وہ تھا سید علی خامنہ ای جو دلوں میں ہمیشہ ادب و عقیدت کے ساتھ باقی رہے گا۔









آپ کا تبصرہ