تحریر: مولانا محمد رضا ایلیا مبارکپوری
حوزہ نیوز ایجنسی| ’’عید غدیر‘‘ تاریخ اسلام کا وہ عظیم اور بنیادی استفہام ہے، جو ہر صاحب فکر اور درددل رکھنے والے مسلمان کے ذہن میں ابھرنا چاہیے۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک بہت بڑے المیے اور فکری انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب آپ بذات خود اس موضوع پر غور وفکر اور تحریری طور پر عوام تک اپنے پیغام کو پہنچاتے ہیں تو درحقیقت آپ امت کی سوئی ہوئی فکر کو جھنجھوڑتے ہیں۔اس انتہائی اہم، منطقی اور فکر انگیز سوال ہے جسے ہر ارباب فکر و دانش کو دریائے ادراک میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جب’’رمضان کے روزے‘‘ مکمّل ہو جاتے ہیں مسلمان جوش و خروش سے ’’عیدالفطر‘‘ مناتا ہےاور جب ’’حج‘‘ مکمل ہو جاتا ہے مسلمان قربانی کر کے گلے مل کر اور مصافحہ کر کے ’’عید الاضحٰی‘‘مناتا ہے اور جب’’دین‘‘مکمّل ہو جاتا ہےاور ’’عید غدیر‘‘ آتی ہےتو مسلمان خاموش کیوں ہو تا ہے جب کہ پیغمبر اسلام نے سوا لاکھ حاجیوں کے درمیان ’’عید غدیر‘‘ منائی تھی۔
تکمیل عبادات بمقابلہ تکمیل دین: -عیدین کا فلسفہ اسلام میں’’عید‘‘کا تصور محض خوشی منانے یا نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ کسی عظیم روحانی کامیابی اور اللہ کے حضور شکرانے کا عملی مظاہرہ ہے۔ اگر ہم اسلامی عیدوں کے فلسفے پر غور کریں تو ایک واضح ترتیب اور ارتقاء نظر آتا ہے:عید الفطرتزکیہ نفس کی تکمیل کا نام ہے۔جس ماہ میں روزدار ایک ماہ تک بھوک، پیاس اور خواہشات پر قابو پانے کے بعد جب انسان اپنے نفس کا تزکیہ مکمل کر لیتا ہے، تو شکرانے کے طور پر عید الفطر منائی جاتی ہے۔ یہ ایک انفرادی اور اجتماعی روحانی مشق کی تکمیل کا جشن ہے۔
عید الاضحیٰ مسلمانوں کے لیے ایثار و قربانی کی تکمیل ہے۔ جب ایک مسلمان حج کے عظیم الشان مناسک ادا کرتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں اپنی عزیز ترین شے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا عزم کرتا ہے، اور حضرت حاجرہ ؑ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے صفا و مر وہ کے درمیان سات چکر لگاتا ہے تو یہ عید الاضحیٰ کہلاتی ہے۔ یہ تسلیم و رضا کی تکمیل کا جشن ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقوام عالم کا مسلمان روزے کی تکمیل پرجو ش و خروش کے ساتھ’’عید الفطر‘‘مناتا ہےاور حج کی تکمیل پرجو ش و خروش کے ساتھ’’ عیدالاضحیٰ‘‘ مناتا ہے، تو جب پورا کا پورا’’دین‘‘مکمل ہو گیا، اور اللہ نے اپنی نعمتوں کے اتمام کا اعلان کر دیا، تو اس عظیم ترین تکمیل پر امت خاموش کیوں ہو گئی؟
پروردگار عالم ’’عید اکبر ‘‘ کا ذکر قرآن مجید میں واضح الفاظ میں ذکر کر تا ہے:
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا...۔‘‘ (سورہ مائدہ: 3)
یہ آیت اس بات کی صریحی دلیل ہے کہ دین کی عمارت، جس کی بنیاد توحید اور رسالت پر رکھی گئی تھی، اس کی چھت ’’ولایت‘‘ کے بغیر نامکمل تھی۔ غدیر کے میدان میں ولایت علیؑ کے اعلان نے اس عمارت کو مکمل کیا۔ اس لحاظ سے عید غدیر، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی بھی محافظ ہے، کیونکہ اگر دین ہی محفوظ نہ رہے تو روزے اور حج کی روح کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟
اسی لیے اسے’’عید اکبر‘‘ (سب سے بڑی عید) کہا جاتا ہے۔سوا لاکھ کا حاجیوں کامجمع اور پیغمبر اسلام ﷺ کا اہتمام تاریخ گواہ ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر غدیرخم کے تپتے ہوئے صحرا میں جو اہتمام کیا گیا، وہ کسی عام اعلان کے لیے نہیں ہو سکتا تھا۔
غدیر خم وہ مقام تھا جہاں سے مختلف علاقوں (مصر، شام، عراق، مدینہ) کے حاجیوں کے راستے الگ ہوتے تھے۔ رسول خدا ﷺ نے سب کو وہاں روکا، تاکہ کوئی اس پیغام سے محروم نہ رہ جائے۔ جو قافلے آگے نکل چکے تھے، انہیں واپس بلایا گیا اور جو پیچھے تھے، ان کا انتظار کیا گیا۔ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ اور شدت کی گرمی میں اونٹوں کے کجاووں کا منبر تیار کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پہلے اپنی رسالت کی گواہی لی، پھر مسلمانوں کی جانوں پر ان کے حق اولویت (النبی اولی بالمومنین من انفسہم) کا اقرار لیا، اور اس کے بعد علی ابن ابی طالبؑ کا ہاتھ بلند کر کے اعلان کیا:’’من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ‘‘۔(میں جس کا مولاہوں علیؑ اس کے مولاہیں)اس واقعہ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد صحابہ موجود ہوں، جس پر قرآنی آیات (آیہِ تبلیغ اور آیہِ اکمال دین) نازل ہوئی ہوں، اور جس پر’’مبارک ہو، مبارک ہو اے ابوطالبؑ کے بیٹےعلیؑ‘‘ کی صدائیں گونجی ہوں، اس کی یاد منانے میں عمومی مسلمانوں کی خاموشی ایک حقیقی تاریخ سے بغاوت ہے۔
ہم اس حقیقی تاریخ سے بغاوت کے اسباب کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں تاریخ، سیاست اور عقیدے کے کئی پیچیدہ پہلو نظر آتے ہیں۔سیاسی مصلحتیں اور اقتدار کی کشمکش رسول اللہ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد اقتدار کے مراکز بدل گئے۔ سقیفہ کے واقعے نے غدیر کے اعلان کی عملی تعبیر کو روک دیا۔ جب اقتدار ان ہاتھوں میں چلا گیا جن کے لیے غدیر کا اعلان ایک چیلنج تھا، تو ریاستی سطح پر غدیر کے تذکرے کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ ظاہر ہے، جو حکومت وقت ہو، وہ ایسی کسی عید یا جشن کی سرپرستی کیسے کر سکتی ہے جو اس کے اپنے جوازاقتدار پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہو؟
بنو امیہ کا دور اور تاریخی سنسر شپ خاموشی کا سب سے بڑا سبب بنو امیہ کا وہ سیاہ دور ہے جس میں ممبروں سے حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم (نعوذ باللہ) کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا۔ جو ریاست علیؑ کا نام لینے پر زبانیں کٹوا دیتی ہو، کیا وہ غدیر کے جشن کی اجازت دے سکتی تھی؟ اس دور میں فضائلِ علیؑ کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ احادیث گھڑی گئیں، تاریخ کو مسخ کیا گیا، اور ایک پوری نسل کو غدیر کے نام اور پیغام سے ہی ناآشنا کر دیا گیا۔
لفظ’’مولیٰ‘‘ کی لغوی معنی میں تاویلیں گئی ۔جب غدیر کی احادیث تواتر کی حد تک پہنچ گئیں اور انہیں جھٹلانا ناممکن ہو گیا ۪(کیونکہ اہل سنت کے اکابر محدثین جیسے امام احمد بن حنبل، امام نسائی، اور حاکم نیشاپوری نے اسے صحیح سندوں سے نقل کیا)، تو ایک نیا طریقہ اپنایا گیا۔ واقعہ کو تسلیم کر لیا گیا لیکن اس کے مفہوم کو بدل دیا گیا۔لفظ ’’مولیٰ‘‘ جو کہ حاکم، سرپرست، اور اولیٰ بالتصرف کے معنوں میں استعمال ہوا تھا، اسے محض ’’دوست‘‘ یا’’محبوب‘‘ کے معنوں تک محدود کر دیا گیا۔عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے تپتے صحرا میں سوا لاکھ حاجیوں کو صرف یہ بتانے کے لیے روکا تھا کہ’’علیؑ میرے دوست ہیں، تم بھی ان سے دوستی رکھو۔‘‘ اس غیر منطقی تاویلوں نے غدیر کی سیاسی اور ولایتی اہمیت کو ختم کی ناکام کو شش کی گئی اور اسے محض ایک فضیلت کا واقعہ بنا دیا، جس پر کوئی ’’عید‘‘ نہیں منائی جاتی۔
علمی دوری اور نصابی خلا صدیوں کی اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ عام مسلمان کے نصاب سے غدیر کا واقعہ نکال دیا گیا۔ آج اکثریت اس واقعہ کے نام تک سے واقف نہیں۔ اگر انہیں معلوم ہی نہیں کہ 18 ذی الحجہ کو اسلام کی تاریخ کا اتنا عظیم اور اہم واقعہ پیش آیا تھا جس روز دین مکمل ہوا، تو وہ عید کیسے منائیں گے؟ انسان اسی چیز کا جشن مناتا ہے جس کی اہمیت کا اس کے شعور میں ادراک ہو۔منبر سے یا تحریر طورپر سے اس پیغام کو پیش کرنے کی حکمت عملی یہ ہے ایک محرر اور محقق ہونے کی غرض سے ہم پر لازم ہے کہ اس موضوع کو انتہائی حکمت، علمی استدلال اور دردِ مندی کے ساتھ پیش کریں۔
غدیر، مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز ہے جسے غدیر کو محض ایک فرقہ کی جاگیر بنا کر پیش نہ کریں۔ غدیر وہ پلیٹ فارم ہے جہاں تمام مسلمان اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اہل سنت کی معتبر ترین کتب احادیث غدیر سے بھری پڑی ہیں۔محرر اور محقق کو چاہیے کہ میں انہیں کتب کے حوالے دیں جیسے خصائص امیر المومنینؑ للنسائی، مسند احمد بن حنبل، المستدرک علی الصحیحین۔ جب آپ ان کی کتب سے حوالے پیش کریں گے تو جو ابھی تک غدیر سے نا آشنا ہیں ان کے دل نرم ہوں گے اور وہ سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ منطقی استدلال کے تئیں ہم اپنے قارئین سے یہ عقلی سوال کرتے ہیں کہ کیا کائنات کا سب سے دانا اور حکیم نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم، اپنی زندگی کے آخری سفر میں، چلچلاتی دھوپ میں، اتنے بڑے مجمع کو محض ایک عام سی بات بتانے کے لیے روک سکتا ہے؟ کیا دین کی تکمیل کا اعلان محض کسی ذاتی دوستی کے اعلان پر ہو سکتا ہے؟ یہ عقل سلیم کے خلاف ہے۔
ہم قارئین کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ غدیر محض علیؑ کی ذات کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا تعین تھا کہ رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعد امت کی قیادت کا معیار کیا ہوگا۔ غدیر بتاتا ہے کہ قیادت کا حق اسے ہے جو علم کا شہر ہو، جو خیبر شکن ہو، جو نفس رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہو اور جس کی طہارت کی گواہی قرآن (آیہ تطہیر) کی شکل میں دے رہا ہو۔ جب امت نے غدیر کو فراموش کیا، تو پھر قیادت کے منصب پر ایسے لوگ بھی بیٹھے جنہوں نے اسلام کے نام پر ملوکیت اور ظلم کی داستانیں رقم کیں۔ اب وہ دور نہیں رہا جب حقائق کو چھپایا جا سکے۔ آج انفارمیشن اور تحقیق کا دور ہے۔ اب اہل سنت کے پڑھے لکھے نوجوان اور محققین بھی غدیر کے موضوع پر کتابیں لکھ رہے ہیں اور اعتراف کر رہے ہیں کہ غدیر کا پیغام محبت سے بڑھ کر قیادت اور ولایت کا پیغام تھا۔
’’جب دین مکمل ہو جاتا ہے تو ’’عید غدیر‘‘ آتی ہے تو مسلمان خاموش کیوں ہو تا ہے؟
انسان کی فطرت ہے کہ وہ عبادات کی تکمیل پر تو خوش ہوتا ہے کیونکہ عبادات اس کے جسمانی اور انفرادی عمل سے جڑی ہیں۔ لیکن’’ولایت‘‘ کی تکمیل پر خوش ہونا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، کیونکہ ولایت کا تقاضا ’’تسلیم‘‘ ہے، اپنی انا کو مٹانا ہے اور ایک معصوم کی غیر مشروط اطاعت ہے۔ یہ امت کی بدقسمتی رہی کہ اس نے روزے اور حج جیسی فروع دین کی عیدوں کو تو سینے سے لگائے رکھا، لیکن جس بنیاد پر یہ عبادات قائم تھیں (یعنی ولایت اور امامت)، اس کے اعلان کے دن کو طاقِ نسیان کی زینت بنا دیا۔ آج بطور محرر و محقق اور خطیب آپ کا منصب وہی ہے جو غدیر کے دن رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا تھا، یعنی حق کو اس طرح واضح کرنا کہ کوئی عذر باقی نہ رہے۔ آپ کو اس خاموشی کو توڑنا ہے، گالی اور طنز سے نہیں، بلکہ علم، منطق، اور دلیل کی روشنی سے۔امید ہے کہ یہ مفصل تحریر اور تاریخی و منطقی دلائل آپ دلوں میں اثر انداز ہوگی اور ولایت شناسی میں مزید مؤثر اور کارگر ثابت ہوگی۔ اللہ آپ سبھی کو حق کی ترویج اور پیغام غدیر کی نشر و اشاعت کا بہترین ذریعہ قرار دے۔









آپ کا تبصرہ