تحریر: محترمہ سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی| غدیرِ خم کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس زمانے کے حالات پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو تئیس سال گزر چکے تھے۔ اسلام پورے جزیرۂ عرب میں پھیل چکا تھا، قبائل کے درمیان موجود جاہلیت کی تاریکیاں بڑی حد تک ختم ہو چکی تھیں اور ایک عظیم اسلامی معاشرہ تشکیل پا چکا تھا۔ ایسے وقت میں جب دین اپنے ظاہری کمال کے مرحلے میں داخل ہو رہا تھا، یہ سوال فطری طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کی رہنمائی کا نظام کیا ہوگا اور اسلامی معاشرے کی قیادت کس کے سپرد ہوگی؟
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے انقلابات اور تحریکوں میں قیادت کا مسئلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی تحریک کے بانی کے بعد قیادت کا واضح نظام موجود نہ ہو تو اختلافات جنم لیتے ہیں اور امت یا قوم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے انبیائے الٰہی کی سیرت میں بھی ہمیں جانشینی اور قیادت کے مسئلے کی اہمیت نظر آتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر جاتے وقت حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی قوم میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ قرآن مجید اس واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي﴾
"اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں میرے جانشین بن کر رہنا۔" (سورۂ اعراف: 142)
اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں امت کی ہدایت اور تربیت کے لیے غیر معمولی اہتمام فرمایا۔ آپؐ نے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، معاملات، اخلاقیات اور معاشرت کے تمام بنیادی اصول واضح فرما دیے۔ لہٰذا یہ بات عقل و فطرت کے عین مطابق معلوم ہوتی ہے کہ امت کی آئندہ رہنمائی کے مسئلے کو بھی نظر انداز نہ کیا گیا ہو۔
غدیرِ خم کا واقعہ اسی تناظر میں اپنی غیر معمولی اہمیت حاصل کرتا ہے۔ یہاں صرف ایک شخص کی فضیلت بیان نہیں کی گئی بلکہ ایک ایسے موضوع پر گفتگو ہوئی جس کا تعلق امت کے مستقبل، دینی قیادت اور اسلامی معاشرے کی بقا سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو صرف شیعہ محدثین ہی نہیں بلکہ اہلِ سنت کے بہت سے مؤرخین، محدثین اور مفسرین نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ حدیثِ غدیر مختلف اسناد کے ساتھ اتنی بڑی تعداد میں روایت ہوئی ہے کہ متعدد علماء نے اسے متواتر احادیث میں شمار کیا ہے۔
علامہ امینیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "الغدیر" میں ایک سو سے زائد صحابۂ کرام، درجنوں تابعین اور سینکڑوں علماء و محدثین کے نام ذکر کیے ہیں جنہوں نے واقعۂ غدیر کو نقل کیا ہے۔ یہ امر اس بات کی دلیل ہے کہ غدیر کوئی پوشیدہ یا غیر معروف واقعہ نہیں تھا بلکہ اسلامی تاریخ کا ایک نمایاں اور مسلمہ واقعہ تھا جسے مختلف ادوار میں اہلِ علم نے محفوظ رکھا۔
غدیر کے واقعے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کھلے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع کے سامنے پیش آیا۔ اگر یہ اعلان محدود افراد یا کسی خاص مجلس میں ہوتا تو بعد میں اس کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھائے جا سکتے تھے، لیکن غدیر کا اعلان ایک عظیم عوامی اجتماع میں ہوا جہاں مختلف قبائل، مختلف علاقوں اور مختلف طبقات کے مسلمان موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کی خبر تیزی سے پورے عالمِ اسلام میں پھیل گئی۔
مزید برآں، بعض روایات کے مطابق اعلانِ غدیر کے بعد مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد بھی پیش کی۔ اس تاریخی پہلو کا ذکر مختلف حدیثی اور تاریخی مصادر میں موجود ہے، جس کی تفصیل آئندہ اقساط میں بیان کی جائے گی۔
غدیر کا پیغام صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ امت کے لیے وحدت، وفاداری، حق شناسی اور قیادتِ الٰہی کے تصور کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ اسی لیے ہر دور میں علماء، محدثین، مفسرین اور محققین نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر علمی گفتگو کی ہے۔
آج بھی جب ہم غدیر کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اسلام کے فکری، اعتقادی اور تمدنی ارتقاء کا ایک اہم باب دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غدیر کا تذکرہ مسلمانوں کے علمی ورثے کا ایک زندہ اور تابندہ حصہ ہے، جو قیامت تک تحقیق و تدبر کا موضوع رہے گا۔









آپ کا تبصرہ