حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، واقعۂ غدیر اسلامی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب ہے جو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ دینِ اسلام کے فکری، اعتقادی اور سیاسی نظام کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے۔ شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے افکار کی روشنی میں غدیر، ولایت و امامت کے اس ابدی اصول کا نام ہے جو امتِ مسلمہ کی ہدایت، اسلامی حکومت کے تسلسل اور دین کی حقیقی روح کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
غدیر کے بارے میں قرآنی تعلیمات اور اہل بیت علیہم السلام کی ہدایات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسے صرف ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ امت کی ولایت سے وفاداری اور دینِ اسلام کے مکمل نظامِ ہدایت کی علامت ہے۔
شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای بھی غدیر کو اسلام کی سیاسی حاکمیت کے تسلسل کا عنوان قرار دیتے تھے اور اس کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنے پر زور دیتے تھے۔
عید اللہ الاکبر، یعنی عید غدیر خم کے موقع پر شہید رہبر کے افکار کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ ان کے نزدیک غدیر، اسلامی امت کی ہدایت اور قیادت کے مسئلے کا قطعی اور فیصلہ کن اعلان ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’’غدیر میں امتِ اسلامی کی ہدایت اور حکومت کے بارے میں ذمہ داری کو معین کر دیا گیا ہے۔‘‘ ان کے بقول غدیر کا واقعہ اسلام کی جامعیت اور عظمت کی روشن دلیل ہے، کیونکہ اس میں صرف ایک شخصیت کا تعین نہیں کیا گیا بلکہ امامت و ولایت کے ایک دائمی اصول اور ضابطے کو قائم کیا گیا۔
شہید رہبر کے مطابق غدیر کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو جانشین مقرر کیا گیا، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر یہ ہے کہ اسلامی حکومت کے معیار اور اصول واضح کر دیے گئے۔ غدیر نے یہ اعلان کر دیا کہ اسلامی معاشرے میں شخصی اقتدار، موروثی بادشاہت، سرمایہ اور طاقت کی حکمرانی، عوام پر رعب اور ذاتی مفادات کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام صرف اس نظام کو قبول کرتا ہے جو امامت اور ولایت کے اصول پر قائم ہو۔
وہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر صدرِ اسلام میں غدیر کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تدبیر کے مطابق عمل کیا جاتا تو یقیناً انسانی تاریخ کا رخ بدل جاتا۔ ان کے نزدیک غدیر ایک ایسا معیار اور پیمانہ ہے جو قیامت تک مسلمانوں کے سامنے رہنا چاہیے تاکہ وہ امت کے اجتماعی راستے اور اپنی دینی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر پہچان سکیں۔
شہید رہبر اس امر پر بھی زور دیتے ہیں کہ موجودہ دور میں اسلامی معاشروں اور بالخصوص مسلمانوں کو مسئلۂ ولایت اور غدیر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ یہی توجہ انہیں صحیح راستے سے منحرف ہونے سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ وہ اتحادِ امت کے عظیم مقصد کے حامی تھے، لیکن اس کے ساتھ واضح کرتے تھے کہ اتحادِ اسلامی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غدیر اور ولایت جیسے بنیادی اسلامی اصولوں کو فراموش کر دیا جائے۔ ان کے الفاظ ہیں کہ ’’موضوعِ غدیر کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘
شاید اسی لیے وہ بارہا غدیر کی تعظیم اور اس کی ثقافت کے فروغ پر زور دیتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک غدیر ان تمام نظریات کا جواب ہے جو اسلام کو صرف فرد کی نجی زندگی تک محدود کرنا چاہتے ہیں اور اسے اجتماعی، سیاسی اور سماجی میدانوں سے الگ دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول، اسلام کے بارے میں سیکولر طرزِ فکر کا سب سے واضح جواب خود مسئلۂ غدیر ہے، جو دین اور سیاست کے محکم تعلق کو آشکار کرتا ہے اور اسلامی معاشرے میں ولایت کی مرکزی حیثیت کو ثابت کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ