حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عید غدیر کی مناسبت سے امامت و ولایت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے قرآنی ماہر حجت الاسلام والمسلمین سید رضا مؤدب نے گفتگو کے دوران کہا: اگرچہ قرآن کریم میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہوا لیکن متعدد آیات ایسی ہیں جو آپ کی ولایت، امامت اور جانشینی کی طرف واضح رہنمائی کرتی ہیں۔ ان آیات کی تفسیر میں اہل بیت علیہم السلام سے منقول روایات اور متعدد اسلامی مفسرین کے بیانات موجود ہیں جو اس حقیقت کو مزید روشن کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: قرآن مجید میں رہبری اور الٰہی قیادت کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جس طرح انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے منتخب کیا جاتا رہا، اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کی رہنمائی کے لیے بھی الٰہی منصوبہ موجود تھا جس کی جھلک مختلف قرآنی آیات میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اس ماہرِ قرآن نے مزید کہا: آیۂ ولایت «إِنَّما وَلِیکُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ راکِعُونَ» (سورۂ مائدہ، آیت 55) امامتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے سلسلے میں سب سے اہم آیات میں شمار ہوتی ہے۔ جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "تمہارا ولی صرف اللہ ہے، اس کا رسول ہے اور وہ مؤمن ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا: شیعہ اور اہل سنت کی متعدد تفسیری روایات کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب امام علی علیہ السلام نے حالتِ رکوع میں ایک سائل کو اپنی انگشتر عطا فرمائی۔ "اس واقعہ (غدیر خم) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی اور وصایت پر تاکید کی گئی ہے اور یہ امر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی منفرد شخصیت اور خصوصیات کی نشاندہی کرتا ہے۔
حجت الاسلام مؤدب نے مزید کہا: آیۂ تبلیغ «یَا أَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ...» (سورۂ مائدہ، آیت 67) بھی امامت کے موضوع میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: "اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اپنا رسالت کا فریضہ ادا نہیں کیا۔"
انہوں نے کہا: مفسرین کی ایک بڑی تعداد اس آیت کو واقعۂ غدیر سے مربوط قرار دیتی ہے۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر ایک عظیم اجتماع میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین اور امت کا ولی متعارف کرایا اور فرمایا: "جس جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں۔"
اس قرآنی ماہر نے کہا: آیۂ اکمالِ دین «الیوم اکملت لکم دینکم...» (سورۂ مائدہ، آیت 3) بھی غدیر کے واقعے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔"

انہوں نے کہا: متعدد روایات کے مطابق یہ آیت اعلانِ ولایتِ علی علیہ السلام کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی تکمیل صرف احکام کے نزول سے نہیں ہوئی بلکہ امت کے لیے الٰہی رہبر اور جانشین کے تعین کے ذریعے مکمل ہوئی۔
اس قرآنی ماہر نے کہا: قرآن کریم میں امامت کا موضوع صرف تاریخی بحث نہیں بلکہ امت کی فکری اور عملی رہنمائی کا مسئلہ ہے۔ غدیر کا پیغام درحقیقت دین کی حفاظت، حق کی شناخت اور الٰہی قیادت کے تسلسل کا پیغام ہے۔ اگر مسلمان قرآن اور سیرتِ نبوی کی روشنی میں غدیر کے پیغام کو سمجھیں تو امت کے درمیان وحدت، بصیرت اور دینی شعور میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا: قرآن مجید کی آیات پر تدبر کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ امامت محض ایک سیاسی منصب نہیں بلکہ ایک الٰہی ذمہ داری اور امت کی ہدایت کا محور ہے اور اسی تناظر میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کو اسلامی معارف میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔









آپ کا تبصرہ