منگل 24 فروری 2026 - 19:25
امیر المومنین علیہ السلام کو بارگاہ خدا میں وسیلہ بنائیں

حوزہ/ امیر المومنین علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام نور کے مینار ہیں جو سرگرداں انسانیت کو ساحلِ یقین تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی سیرت عدل کا آفتاب، علم کا بحرِ بیکراں اور رحمت کا سایۂ شفیق ہے۔ جب بندہ ان کی محبت اور اقتدا کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اخلاق کو سنوارتا اور اپنی روح کو پاکیزہ بناتا ہے؛ یہی تطہیر اس کے لئے قربِ خداوندی کا زینہ بنتی ہے۔

ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ" (سورہ مائدہ، آیت 35)

ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچے کا وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجاؤ۔

آیت کریمہ سے واضح ہے کہ مؤثر حقیقی سے پروردگار ہے، مگر اس نے ہدایت کے لئے اسباب مقرر کئے ہیں، جس سے توحید محفوظ اور نظام اسباب کی حکمت آشکار ہوتی ہے۔

"وسیلہ" جو ناقص کو کامل سے، محدود کو لامحدود سے اور ممکن کو واجب سے مربوط کرتا ہے۔ انسان اپنی فطری کمزوریوں، جہالت اور خطا کے باعث براہِ راست کمالِ مطلق تک رسائی کی کامل صلاحیت نہیں رکھتا، لہٰذا عقل اس بات کی متقاضی ہے کہ خداوندِ حکیم ہدایت کے لئے ایسے برگزیدہ نفوس مقرر کرے جو علم، عصمت اور تقویٰ میں کامل ہوں اور انسانیت کے لئے قابلِ اقتدا نمونہ بنیں۔

اسی تناظر میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ عقلی استدلال یہ ہے کہ فیضِ الٰہی ایک منظم نظام کے تحت جاری ہوتا ہے؛ جیسے مادی کائنات میں اسباب و علل کا سلسلہ ہے، ویسے ہی عالمِ ہدایت میں بھی اسباب مقرر ہیں۔ ان ہستیوں کی اطاعت دراصل خدا کی اطاعت ہے، کیونکہ وہ اپنی ذات میں مستقل مؤثر نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے مظہر اور اس کے دین کے امین ہیں۔

امیر المومنین علیہ السلام اور اہل بیت اطہار علیہم السلام نور کے مینار ہیں جو سرگرداں انسانیت کو ساحلِ یقین تک پہنچاتے ہیں۔ ان کی سیرت عدل کا آفتاب، علم کا بحرِ بیکراں اور رحمت کا سایۂ شفیق ہے۔ جب بندہ ان کی محبت اور اقتدا کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اخلاق کو سنوارتا اور اپنی روح کو پاکیزہ بناتا ہے؛ یہی تطہیر اس کے لئے قربِ خداوندی کا زینہ بنتی ہے۔

پس عقل کہتی ہے کہ کامل رہبر کے بغیر کمال تک رسائی ممکن نہیں، نیز اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات دلوں کو نور بخشتی ہیں۔ یوں وہ خدا اور بندوں کے درمیان وسیلہ ہیں—ایسا وسیلہ جو عبدیت میں کامل، ہدایت میں روشن اور تقربِ الٰہی کا معتبر راستہ ہے۔

اسی سلسلہ میں ذیل میں چند روایات پیش ہیں.

1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من كنت وليّه فعليّ وليّه، و من كنت إمامه فعليّ إمامه، و من كنت أميره فعليّ أميره، و من كنت نذيره فعليّ نذيره، و من كنت هاديه فعليّ هاديه، و من كنت وسيلته إلى اللّه تعالى فعليّ وسيلته إلى اللّه عزّ و جلّ، فاللّه سبحانه يحكم بينه و بين عدوّه (بحارالانوار، جلد 37، صفحہ 224)

جس کا میں ولی ہوں، علیؑ اس کے ولی ہیں؛ جس کا میں امام ہوں، علیؑ اس کے امام ہیں؛ جس کا میں امیر ہوں، علیؑ اس کے امیر ہیں؛ جس کا میں ڈرانے والا (نذیر) ہوں، علیؑ اس کے ڈرانے والے ہیں؛ جس کا میں رہنما (ہادی) ہوں، علیؑ اس کے ہادی ہیں؛ اور جس کے لئے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کا وسیلہ ہوں، علیؑ بھی اس کے لئے اللہ عزّوجلّ کی طرف وسیلہ ہیں۔ پس اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ان کے اور ان کے دشمن کے درمیان خود فیصلہ فرمائے گا۔

2۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے خطبہ فدک میں فرمایا: "فَنَحْنُ وَسِيلَتُهُ فِي خَلْقِهِ.." لہٰذا ہم اللہ کی مخلوق کے درمیان اُس تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔

3۔ عروہ بن زبیر اپنے والد زبیر بن عوام سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب منافقین نے کہا کہ ابوبکر نے امام علی بن ابی طالب علیہ السلام پر سبقت لے لی ہے، حالانکہ علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ میں اس مقام کا ان سے زیادہ حق دار ہوں، تو ابوبکر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور کہا: صبر کرو ان لوگوں پر جو دین کی طرف رجوع نہیں کرتے، نہ کسی ذمہ داری کی رعایت کرتے ہیں، نہ ولایت کو مانتے ہیں۔ انہوں نے ذلت کی وجہ سے ایمان ظاہر کیا اور بیماری کی بنا پر نفاق کو چھپا لیا۔ یہ شیطان کا گروہ اور سرکشی کا لشکر ہیں۔ تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں کہتا ہوں کہ میں علی (علیہ السلام) سے افضل ہوں؟ میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں؟ نہ مجھے ان جیسی سبقت حاصل ہے، نہ ان جیسی قرابت، نہ ان جیسی خصوصیت۔ انہوں نے اس وقت اللہ کی توحید کا اقرار کیا جب میں الحاد میں تھا۔ انہوں نے اللہ کی عبادت کی جب میں عبادت نہیں کرتا تھا۔ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے جب میں ان کا مخالف تھا۔ وہ چند گھڑیوں میں بھی مجھ سے اس قدر آگے بڑھ گئے کہ اگر میں ٹکڑے ٹکڑے بھی ہو جاتا تو ان کی مدح تک نہ پہنچ سکتا اور نہ ان کی گرد کو پا سکتا۔

خدا کی قسم! بے شک علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اللہ کی محبت، رسول کی قربت اور ایمان کے اعلیٰ مرتبہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انبیاء کے علاوہ اگر اولین و آخرین کوشش کریں تو بھی ان کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ ان کے راستے پر چل سکتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے لئے اپنی جان قربان کی، اپنے چچا زاد (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اپنی محبت پیش کی۔ وہ مصیبتوں کو دور کرنے والے، شک کو دفع کرنے والے، گمراہی کے اسباب کو کاٹنے والے اور شرک کو کچلنے والے ہیں۔ وہ نفاق کے چھپے ہوئے دانے کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ وہ اس جہان کی ڈھال ہیں۔ وہ اس سے پہلے جا ملے کہ کوئی ان تک پہنچتا، اور اس سے پہلے نمایاں ہوئے کہ کوئی ان کا مقابلہ کرتا۔ انہوں نے علم، حلم اور فہم کو جمع کر لیا؛ گویا تمام بھلائیاں ان کے دل میں خزانے تھیں، جن میں سے ذرّہ برابر بھی اپنے پاس نہ رکھتے بلکہ اس کے مقام پر خرچ کر دیتے۔

کون ہے جو ان کے درجہ تک پہنچنے کی امید رکھے، جبکہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں مومنین کا ولی، نبی کا وصی، خلافت کا نگہبان اور امامت پر قائم فرمایا ہے؟ کیا جاہل ان کے بلند مقام پر فخر کرے، جبکہ انہوں نے مجھے قائم کیا اور میں نے ان کے حکم کی اطاعت کی؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "حق علی (علیہ السلام) کے ساتھ ہے اور علی (علیہ السلام) حق کے ساتھ ہیں۔ جو علی (علیہ السّلام) کی اطاعت کرے وہ ہدایت پائے، جو ان کی نافرمانی کرے وہ برباد ہو، جو ان سے محبت کرے وہ سعادت مند ہو، اور جو ان سے بغض رکھے وہ بدبخت ہو۔”

خدا کی قسم! اگر ہم فرزند ابو طالب سے صرف اس وجہ سے محبت کریں کہ انہوں نے کبھی اللہ کے لئے کسی حرام کا ارتکاب نہیں کیا، نہ اس کے سوا کسی بت کی عبادت کی، اور اس لئے کہ نبی کے بعد لوگوں کو ان کی ضرورت ہے، تو یہی سبب کافی ہے۔ پھر کیسے ہو جبکہ اس سے بھی بڑھ کر اسباب موجود ہیں، جن میں سے ہر ایک محبت کو واجب اور رغبت کو لازم کرتا ہے! ان کا رسول سے قریبی رشتہ ہے، دقیق و جلیل علم رکھتے ہیں، بہترین صبر اور ہر حال میں مواسات ان کی صفت ہے، اور ایسے اوصاف رکھتے ہیں جن کی گنتی ممکن نہیں اور جن کی عظمت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ آرزو کرنے والے تمنا کرتے ہیں کہ کاش وہ فرزند ابی طالب کی خاک (قدم) ہوتے۔ کیا وہ صاحب لواء الحمد نہیں؟ کیا وہ ساقی حوضِ کوثر نہیں؟ کیا وہ ہر کرم کے جامع اور ہر علم کے عالم نہیں؟ اور کیا وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف پہنچنے کا وسیلہ نہیں؟ (الاحتجاج، جلد 1، صفحہ 88)

مذکورہ آیت اور روایات سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں:

1. توحید اور وسیلہ میں تضاد نہیں: مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، مگر اس نے ہدایت کے لئے اسباب مقرر فرمائے۔ لہٰذا وسیلہ اختیار کرنا الہی نظامِ اسباب کا حصہ ہے، شرک نہیں ہے۔

2. وسیلہ کا مفہوم تقرب کا مشروع ذریعہ ہے: لغت و تفسیر کے مطابق “وسیلہ” ہر اس امر کو کہتے ہیں جو قربِ الٰہی کا سبب بنے؛ اس میں عملِ صالح اور شخصیاتِ کاملہ دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔

3. کامل رہبر کی عقلی ضرورت: عقل کا تقاضہ ہے کہ کمال تک رہنمائی کے لئے رہبر بھی کامل ہو۔ اس اصول کے تحت معصوم و برگزیدہ ہستیاں نظامِ ہدایت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

4. امیر المومنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام بطورِ مصداقِ وسیلہ: روایات اور تاریخی شواہد اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ امام الاتقیاء علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ہدایت، امامت اور حق کے معیار کے طور پر پیش کیا گیا؛ اس بنا پر انہیں “وسیلہ الیٰ اللہ” کا مصداق کامل قرار دیا جاتا ہے۔

5. اہلِ بیت علیہم السلام کا منصبِ ہدایت: خطبۂ فدک اور دیگر نصوص میں اہلِ بیت علیہم السلام کو خلقِ خدا کے لئے ذریعۂ ہدایت کہا گیا، جو ان کے منصبی و تشریعی مقام کی علامت ہے۔

6. وسیلہ استقلال نہیں بلکہ مظہریت ہے: اہلِ بیت علیہم السلام کو وسیلہ ماننے کا مطلب انہیں ارادۂ الٰہی کا مظہر اور دین کا امین تسلیم کرنا ہے؛ یوں توحید محفوظ رہتی ہے۔

7. اہل بیت علیہم السلام کی محبت و اطاعت: اخلاقی تزکیہ، فکری استقامت اور قربِ خداوندی کا ذریعہ بنتی ہے۔

المختصر آیت، عقل اور روایت کے باہمی مطالعہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وسیلہ کا تصور توحید کے دائرے میں رہتے ہوئے نظامِ ہدایت کی تکمیل کو ظاہر کرتا ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام اس مفہوم کے نمایاں مصادیق میں شمار ہوتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha