حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محمد مہدی ماندگاری نے کہا ہے کہ عید غدیر کے دن امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ خداوند عالم کا انتخاب تھا۔
انہوں نے تاکید کی کہ انسانیت کی حقیقی ہدایت اور رہبری کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ولایت کے منصب کے لیے بھی وہی افراد منتخب ہوتے ہیں جنہیں خدا اس ذمہ داری کے لائق قرار دے۔
حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین ماندگاری نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی اہم برکات میں سے ایک غدیر کے پیغام کو دوبارہ زندہ کرنا ہے، کیونکہ غدیر بعثتِ نبوی کا تسلسل اور ظہورِ امام زمانہ(عج) کی تمہید ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی نے دنیا کے سامنے ان قرآنی تعلیمات کو اجاگر کیا جن کی بنیاد ولایت پر ہے۔ ان کے مطابق سورۂ مائدہ کی آیات 55 اور 56 امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت سے مربوط ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کی حقیقی قیادت اور سرپرستی کی وضاحت فرمائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کے مطابق سب سے پہلے اللہ تعالیٰ، پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے بعد امیر المؤمنین علیہ السلام اور ان کی اولاد امت کی ولایت اور رہبری کے منصب پر فائز ہیں۔ اس لیے غدیر کا واقعہ دراصل ایک الٰہی حکم اور خدائی انتخاب کا اعلان تھا۔
حجۃ الاسلام ماندگاری نے کہا کہ ولایت کے مسئلے میں عمر معیار نہیں بلکہ اہلیت اور لیاقت اصل بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص خدا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت علیہم السلام اور ولایتِ فقیہ کو قبول کرتا ہے، وہ اپنی زندگی میں حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اقتصادی کامیابی کا مطلب صرف دولت مند ہونا نہیں بلکہ حقیقی بے نیازی اور اطمینانِ قلب حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق ولایت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی فکر، علم اور عمل کو خدا اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔
انہوں نے امام ہادی علیہ السلام کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ولایت کو قبول کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے فکر، علم اور عمل کو امام کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً پچاس برسوں سے ولایت کے پرچم تلے استقامت کا مظاہرہ کرنے والی قوم، ملتِ ایران ہے، اور اگر یہ استقامت جاری رہی تو یہ امت حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کا ادراک کرنے کی سعادت حاصل کر سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ