حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریک انصاراللہ یمن کے رہنما عبد الملک بدرالدین الحوثی نے عید غدیر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غدیر خم میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان امتِ مسلمہ کے مستقبل کے لیے ایک بنیادی اور فیصلہ کن مرحلہ تھا، جس نے دین اسلام کی تکمیل اور نعمتِ الٰہی کے اتمام کو واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے غدیر خم میں ولایت کا پیغام پہنچانے کا خصوصی حکم دیا گیا تھا۔ اس موقع کی اہمیت کا اندازہ اس قرآنی آیت سے ہوتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾
بدر الدین حوثی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم میں تمام حجاج کو جمع کیا اور ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ» اس کے بعد آپؐ نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کیا اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ»
انہوں نے کہا کہ اس اعلان کے بعد آیتِ اکمالِ دین نازل ہوئی: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ولایت کا مسئلہ دین کی تکمیل اور امت کی ہدایت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ غدیر خم کا اعلان کوئی الگ واقعہ نہیں تھا بلکہ ان متعدد نبوی ارشادات کا تسلسل تھا جن میں حضرت علی علیہ السلام کی عظمت اور قیادت کو بیان کیا گیا۔ انہوں نے حدیثِ منزلت، «عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ» اور «لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ» جیسے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنینؑ ایمان کا معیار ہیں۔
عبدالملک الحوثی نے مزید کہا کہ قرآن کریم نے ولایت کے مسئلے کو سورۂ مائدہ میں واضح انداز میں بیان کیا ہے: ﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ﴾
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر امت اسلامی ولایت کے اس الٰہی راستے پر ثابت قدم رہتی تو آج اسے تفرقے، کمزوری اور دشمنوں کے تسلط جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ان کے بقول، اصلِ ولایت امت کی عزت، طاقت، اتحاد اور کامیابی کی ضمانت ہے اور یہی اصول مسلمانوں کو دشمنوں کی بالادستی سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ