۶ مهر ۱۴۰۱ |۲ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Sep 28, 2022
عبدالکریم عابدینی

حوزہ / حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالکریم عابدینی نے کہا: طول تاریخ میں جس طرح غدیر کے موضوع پر توجہ ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی ہے اور جہاں اس موضوع کو چھیڑا بھی گیا ہے تو وہاں پر صرف امیر المومنین علیہ السلام اور ان کی اولاد سے محبت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ غدیر کو سنجیدگی سے بیان کیا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالکریم عابدینی نے گزشتہ روز صوبہ قزوین میں الغدیر فاؤنڈیشن کے اراکین سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم میں غدیر کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا: خداوندعالم نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 67 میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا "اے پیغمبر! جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دیں اور اگر آپ نے یہ کام نہ کیا توگویا آپ نے اپنی ذمہ داری پر عمل نہیں کیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا: یہ الہی فرمان ہے کہ ولایت و امامت کا مسئلہ صرف صدراسلام سے مربوط نہیں ہے بلکہ حاضر، غائب تک یہ پیغام پہنچایا جائے اور ماں باپ روز قیامت تک اپنی اولاد کو یہ مسئلہ منتقل کریں۔

شہر قزوین کے امام جمعہ نے کہا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب غدیر کے مقام پر اپنے بارے میں گفتگو کرنے کے بعد ولایت امیرالمومنین علیہ السلام کے متعلق گفتگو کی تو لوگوں سے چند مرتبہ پوچھا کہ "کیا جو میں نے کہا کہ وہ آپ کو سمجھ آیا ہے؟" تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ مسئلہ ولایت و امامت ایسا مسئلہ ہے کہ جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

صوبہ قزوین میں نمائندہ ولی فقیہ نے کہا: طولِ تاریخ میں مسئلہ غدیر پر اتنی توجہ نہیں دی گئی ہے جتنی دینا چاہیے تھی حتی کہ جہاں اس مسئلہ کو چھیڑا بھی گیا ہے تو وہاں بھی صرف امیرالمومنین علیہ السلام اور ان کی اولاد سے محبت کرنے کو بیان کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے بیان کیا جائے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 1 =