جمعرات 4 جون 2026 - 08:52
ایک قافلہ!

حوزہ/اعلان ولایت کی آواز ابھی فضا میں گونجی ہی تھی کہ بھیڑ کی آنکھیں مولائے کائنات کی طرف گھوم گئیں، رکی ہوئی ڈھڑکنیں حرکت میں آ گئیں، مبارک ہو مبارک ہو کا شور اٹھا، خوشیوں کی بلبلیں گیت گنگنانے لگیں، تبریک و تہنیت کی حوشگوار ہوا کے نرم نرم جھوکے چہروں سے ٹکڑانے لگے، چلچلاتی دھوپ کے با وجود مؤمنین کے وجود عجیب سی تازگی سے جھوم اٹھی۔

تحریر :مولانا سید حسین عباس

حوزہ نیوز ایجنسی| ہجرت کے دسویں سال کے اتمام حج کے بعد تقریباً سوا لاکھ افراد پر مشتمل ایک قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا، سورج کی تپش اپنے عروج پر تھی، گرم ہوا کی لہریں بدن سے ٹکڑا رہی تھی، شدت کی گرمی سے لوگوں کے چہرے سرخ اور لباس پسینے سے شرابور تھے، تپتے صحرائوں سے گزرتا ہوا یہ کارواں ابھی اس مقام پر پہونچا ہی تھا کہ جہاں سے عراق، مصر اور شام کے راستے الگ الگ ہوتے تھے اور حجاج کرام اپنے مقررہ راستوں سے اپنے ممالک کی طرف چلے جاتے تھے کہ ناگہاں لوگوں کے کانوں سے یہ آواز ٹکڑائی کہ آگے چلے جانے والے واپس آ جائے اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا جائے، ہر کوئی ایک دوسرے کو تعجب سے دیکھنے لگا اور سر گوشیاں ہونے لگیں کہ اتنی سخت دھوپ میں کیوں روکا جا رہا ہے، دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ایہ تبلیغ (۱) نازل ہوئی ہےاور پیغمبر نے رکنے کا حکم دیا ہے، ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ایک عظیم الشان اجتماع نظر آنے لگا اور ہر کوئی سلگتی ریت و آگ برساتی زمین پر اپنے پیروں کے نیچے اپنی اپنی عبا بچھائے بیٹھ گیا۔

اس قیامت خیز گرمی میں اتنے بڑے مجمع کو روکنا یقیناً اس بات کی واضح علامت تھی کہ کوئی بہت اہم اور خاص پیغام دیا جانے والا ہے۔ نظریں ابھی پیغمبر کی تلاش ہی میں تھیں کہ اچانک حاجیوں سے لئے گئے پالانوں کے ممبر پر وہ پر نور چہرہ نمودار ہوا اور ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگا، ہر کوئی ہمہ تن گوش اور سب کی آنکھیں پیغمبر کی طرف ٹہر سی گئیں، منظر کی دلکشی دیدنی تھی، گویا انسانوں کے اتنے بڑے طوفان میں بس دو ہی لوگ ہو ایک متکلم (پیغمبر) اور دوسرا مخاطب (مجمع)۔

پیغمبر نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا اور لوگوں سے اپنے مولا، آقا و سرپرست ہونے کا اقرار لینے کے بعد مولا علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اتنا بلند کیا، اتنا بلند کیا کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور صاف و واضح الفاظ میں فرمایا : أَ لَسْتُ أَوْلی‌ٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا بَلَی‌ يَا رَسُولَ اَللَّهِ قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاَهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ اُنْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَ اُخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ. کیا میں مؤمنین پر حقِ تصرف رکھنے میں ان پر مقدم نہیں ہوں؟

سب نے کہا: کیوں نہیں یا رسول الله! چنانچہ آپ نے فرمایا : میں جس کا مولا و سرپرست ہوں یہ علی بھی اس کے مولا اور سرپرست ہیں، یا الله! تو اسے دوست رکھ اور اس کی سرپرستی فرما جو علی کو دوست رکھتا ہے اور اسے اپنا مولا و سرپرست مانتا ہے اور ہر اس شخص سے دشمنی کر جو علی کا دشمن ہے، اس کی مدد اور نصرت فرما جو علی کی مدد نصرت کرے، اور ہر اس شخص کو اپنی حالت پر چھوڑے دے جو علی کو تنہا چھوڑتا ہے۔ (۲)

اعلان ولایت کی آواز ابھی فضا میں گونجی ہی تھی کہ بھیڑ کی آنکھیں مولائے کائنات کی طرف گھوم گئیں، رکی ہوئی ڈھڑکنیں حرکت میں آ گئیں، مبارک ہو مبارک ہو کا شور اٹھا، خوشیوں کی بلبلیں گیت گنگنانے لگیں، تبریک و تہنیت کی حوشگوار ہوا کے نرم نرم جھوکے چہروں سے ٹکڑانے لگے، چلچلاتی دھوپ کے با وجود مؤمنین کے وجود عجیب سی تازگی سے جھوم اٹھے، جبرئیل امین خدا کی طرف سے دین کے کامل ہونے اور نعمتوں کی تکمیل ہونے کی سند لے کر نازل ہوئے، کفر مایوس ہوا اور اس کی امیدوں نے دم توڑ دیا۔ (۳) اتنے خوبصورت ماحول میں حارث فہری نہ جانے کہاں سے آ گیا اور اس نے خود ہی عذاب کی چاہت کر دی اور ابھی وہ اپنی اونٹنی تک پہونچا بھی نہ تھا کہ الله نے اس کے سر پر ایسا پتھر گرایا کہ جو اس کے دماغ پر لگا اور نیچے سے نکل گیا اور وہ مر گیا۔(۵) راویوں نے قلم کو سنبھالا اور تاریخ کے صفحات پر اس پورے پر کشش منظر کی نقاشی کی اور رہتی دنیا تک پورے واقعہ کو محفوظ کر لیا کیونکہ پیغمبر نے فرمایا بھی تھا کہ فَلْيُبَلِّغِ اَلشَّاهِدُ اَلْغَائِبَ

حاضرین اس پیغام کو غائبین تک پہونچا دیں۔ (۴) لوگ دھیرے دھیرے منتشر ہونے لگے ہر کسی نے اپنا اپنا سامان سمیٹا اور اپنے اپنے گھروں کی جانب جانے والے راستے پر گامزن ہو گیا ۔

حوالہ جات

١ ۔ سورہ مائدہ / ۶۷

٢ ۔ إرشاد القلوب ج ۲، ص ۳۲۱

٣ ۔ سورہ مائدہ / ٣

۴ ۔ کشف الغمة في معرفة الأئمة ج ۱، ص ۴۹

۵ ۔ سورہ معارج / ١ و ٢ اور تفیسر الکوثر

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha