تحریر: حجۃ الاسلام و المسلمین عبدالرحیم اباذری
حوزہ نیوز ایجنسی I امام خمینی اپنی گہری بصیرت اور دور اندیشی کی بنا پر بخوبی جانتے تھے کہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلا بڑا انحراف اس وقت پیدا ہوا جب واقعۂ غدیر میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی امامت اور قیادت کو پہلے تحریف کا نشانہ بنایا گیا اور پھر رفتہ رفتہ اسے معاویہ کی بادشاہت اور اس کے بیٹے یزید کی موروثی سلطنت میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی وجہ سے امام خمینیؒ نے اپنی تحریک اور انقلابی جدوجہد کی بنیاد ہی شاہی نظام اور بادشاہت کی مخالفت پر رکھی۔
یہ اس دور کی بات ہے جب 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں "بادشاہت خدا کی عطا ہے" اور "بادشاہ خدا کا سایہ ہے" جیسے نظریات معاشرے پر حاوی تھے۔ یہ سوچ نہ صرف عوام میں بلکہ حوزہ ہائے علمیہ اور جامعات کے بہت سے علماء، دانشوروں اور خواص کے ذہنوں میں بھی راسخ ہو چکی تھی۔ اس غلط ثقافت نے لوگوں کے دل و دماغ میں اتنی گہری جڑیں پکڑ لی تھیں کہ ظلم اور استبداد کے خلاف جدوجہد کو انتہائی دشوار بنا دیا تھا۔
جون 1963ء میں مدرسۂ فیضیہ پر حملے، عوام اور طلاب کے قتل عام اور مدرسے کی بے حرمتی کے بعد امام خمینیؒ نے تہران کے علماء کے نام ایک تاریخی خط تحریر کیا، جس میں انہوں نے کھل کر شاہی حکومت کی مخالفت کی۔ اس خط میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ شاہ کی حمایت دراصل لوٹ مار، مقدسات کی توہین، اسلام کی بے حرمتی، مسلمانوں کے حقوق کی پامالی، علمی مراکز پر حملہ، قرآن و اسلام کے وجود پر ضرب لگانے، اسلامی شعائر کو مٹانے، روحانیت کو کچلنے اور رسالت کے آثار کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
بعد کے برسوں میں بھی امام خمینی نے متعدد مواقع پر یہ بات دہرائی کہ "سلطنت" بذاتِ خود عقل، منطق اور انسانی شعور کے خلاف ایک نظام ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد امام خمینیؒ نے اس غلط ثقافت کی اصلاح کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ انہوں نے "بادشاہ اور رعایا" کے فرسودہ تعلق کو "امام اور امت" کے زندہ اور اسلامی رشتے میں تبدیل کیا۔ انہوں نے ان اسلامی اور شیعی اصطلاحات کو ان کے حقیقی مفہوم کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جو وقت کے ساتھ اپنی اصل روح کھو چکی تھیں یا تحریف کا شکار ہو گئی تھیں۔
خاص طور پر انہوں نے غدیر کے حقیقی پیغام کو معاشرے میں اجاگر کیا۔ شیعہ روایات اور فقہ کی روشنی میں غدیر صرف ایک تاریخی واقعہ یا جشن کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کی صحیح قیادت، امت کی ہدایت اور اسلامی حکومت کے عادلانہ نظام کا عنوان ہے۔
امام خمینی نے غدیر کو صرف "عیدِ سادات" کی محدود حیثیت سے نکال کر اسے تمام انسانوں کی ترقی، سعادت اور خدا کی حاکمیت کے زیر سایہ معاشرے کی صحیح تنظیم و مدیریت کے ایک جامع تصور کے طور پر پیش کیا۔
شاہی دور میں عیدِ غدیر کے موقع پر مذہبی افراد ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہوئے یہ جملہ پڑھا کرتے تھے:
"الحمد للہ الذی جعلنا من المتمسکین بولایۃ علی بن ابی طالب علیہ السلام"
لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ کلمات محض زبان کی حد تک محدود رہ گئے تھے۔ ان میں روح اور حقیقت باقی نہیں رہی تھی، کیونکہ عملی زندگی میں لوگ طاغوتی نظامِ حکومت کو قبول کیے ہوئے تھے اور اسی کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے۔
امام خمینی نے نہ صرف عملی میدان میں لوگوں کو غدیر کی حقیقت اور اس کی شیرینی سے آشنا کیا بلکہ فکری اور نظری سطح پر بھی اس کے صحیح مفہوم کو واضح کیا۔
ایک موقع پر اسلامی نظام کے ذمہ داران اور حکومتی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت سے حقیقی وابستگی کا مطلب یہ ہے کہ حکمران اور ذمہ دار افراد اپنے طرزِ حکومت میں امیرالمؤمنینؑ کی حکومتی سیرت کو نمونہ بنائیں، عوام کی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھیں اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے کوشش کریں۔
امام خمینی نے مزید فرمایا: "اگر حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ اس حقیقت سے غافل ہو جائیں اور روزانہ ہزار مرتبہ بھی یہ کہیں کہ خدا ہمیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت سے وابستہ افراد میں قرار دے، تو یہ محض جھوٹ ہوگا اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔"
آج جب عیدِ غدیر امام خمینی کی رحلت کی برسی کے ایام کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے اور ہم ان کے اس تاریخی خط کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ایک طرف ان کی غیر معمولی بصیرت، دشمن شناسی اور سیاسی آگہی کا احساس ہوتا ہے، اور دوسری طرف یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جن خطرات اور اوصاف کی طرف انہوں نے شاہ پرستی اور سلطنت پسندی کے حوالے سے اشارہ کیا تھا، وہ آج بعض سلطنت پسند حلقوں کے رویوں میں پہلے سے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں بعض سلطنت پسند عناصر نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات، ملک کو تقسیم کرنے کی تجاویز، مختلف حملوں، سیاسی و عسکری شخصیات اور جوہری سائنس دانوں کے قتل اور قومی تنصیبات پر حملوں کی حمایت کی اور ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔
ان عناصر نے وہی طرزِ عمل دوبارہ اختیار کیا ہے جو ماضی میں شاہی دور کے حامیوں کا تھا، بلکہ بعض پہلوؤں سے یہ رویہ اس سے بھی زیادہ سنگین اور نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔
آج کے حالات میں مشکلات اور بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ غدیر کے اس حقیقی مکتب کی طرف واپسی ہے جسے امام خمینیؒ نے اپنی فکر اور عمل کے ذریعے زندہ کیا تھا۔
سیاسی اختلافات، گروہی کشمکش اور بے فائدہ تنازعات سے اوپر اٹھ کر قومی اتحاد، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔ ملک کی قیادت اور ذمہ دار اداروں کی حمایت کرتے ہوئے سب کو مل کر معاشرے کی ترقی اور استحکام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
اگر غدیر کے پیغام کو اسی روح کے ساتھ زندہ رکھا جائے اور عدل، خدمتِ خلق، دینی قیادت اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے تو اسلامی معاشرہ نہ صرف سیاسی اور سماجی میدانوں میں کامیاب ہوگا بلکہ دفاعی اور عسکری محاذوں پر بھی کامیابی حاصل کر سکے گا۔









آپ کا تبصرہ