بدھ 18 فروری 2026 - 11:17
ذکر قرآن و امیر المومنین علیہ السلام

حوزہ/ اہلِ بیت علیہم السلام سے توسل واقعی سعادت کا راز ہے—کیونکہ یہ ہمیں خدا سے جوڑتا ہے، اس کے محبوبوں کی محبت عطا کرتا ہے، اور ہمارے ایمان کو فکری استحکام، روحانی حرارت اور عملی کمال بخشتا ہے۔

ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ‎(سورہ بقرہ، آیت 124)

اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعہ ابراہیم علیہ السّلام کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کردیا تو اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں. انہوں نے عرض کی کہ میری ذریت؟ ارشاد ہوا کہ یہ عہدہ امامت ظالمین تک نہیں جائے گا۔‌

مفضّل بن عمر کا بیان ہے کہ ہم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اللہ عزّوجلّ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: "اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات کے ذریعہ آزمایا"

تو آپؑ نے فرمایا: یہ وہ کلمات ہیں جو حضرت آدمؑ نے اپنے رب سے حاصل کئے تھے، پس اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ وہ یہ تھے کہ آدمؑ نے عرض کیا: “اے میرے رب! میں تجھ سے محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول فرما لے۔”

پس اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بے شک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

میں نے عرض کیا: اے ابنِ رسولِ خدا! پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے: “پھر ابراہیم نے انہیں پورا کر دیا”؟

آپؑ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کلمات کو قائم علیہ السلام تک پورا کیا، یعنی بارہ امام؛ جن میں سے 9 امام حضرت حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

مفضّل کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابنِ رسولِ خدا! پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے کہ “اور اس (کلمہ) کو اپنی نسل میں باقی رکھا”؟

آپؑ نے فرمایا: اس سے مراد امامت ہے، جسے اللہ نے حضرت حسین علیہ السلام کی نسل میں قیامت کے دن تک باقی رکھا۔

میں نے عرض کیا: اے ابنِ رسولِ خدا! امامت حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں ہی کیوں قرار دی گئی اور حضرت حسن علیہ السلام کی اولاد میں کیوں نہیں؟ حالانکہ دونوں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند اور نواسے ہیں، اور جوانان جنت کے سردار ہیں؟

تو آپؑ نے فرمایا: بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں نبیِ مرسل اور بھائی تھے، مگر اللہ نے نبوت کو ہارون علیہ السلام کی نسل میں رکھا، نہ کہ موسیٰ علیہ السلام کی نسل میں۔ اور کسی کو یہ حق نہیں کہ کہے: اللہ نے ایسا کیوں کیا؟

اسی طرح امامت اللہ عزّوجلّ کی خلافت ہے، کسی کو یہ حق نہیں کہ کہے: اسے حسین علیہ السلام کی نسل میں کیوں رکھا اور حسن علیہ السلام کی نسل میں کیوں نہیں؟

کیونکہ اللہ اپنے افعال میں حکمت والا ہے، اس سے اس کے کاموں کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا، جبکہ لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔ (الانصاف، جلد 1، صفحہ 425)

پس آیۂ امامت اور روایتِ مفضّل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام سے توسل نہ صرف ایک مشروع اور مستند عمل ہے بلکہ ایمان کی روحانی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ توحید کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اللہ کے مقرب بندوں کے ذریعہ اس کی بارگاہ تک رسائی کا راستہ ہے۔

امامت ایک الٰہی عہد ہے، اور توسل اس عہد سے شعوری وابستگی کا اعلان۔ جو دل اس نورِ امامت سے منور ہو جائے، وہ ضلالت کے اندھیروں سے نکل کر ہدایت کے افق پر طلوع ہو جاتا ہے۔

لہٰذا اہلِ بیت علیہم السلام سے توسل واقعی سعادت کا راز ہے—کیونکہ یہ ہمیں خدا سے جوڑتا ہے، اس کے محبوبوں کی محبت عطا کرتا ہے، اور ہمارے ایمان کو فکری استحکام، روحانی حرارت اور عملی کمال بخشتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha