منگل 2 جون 2026 - 14:45
مکتبِ غدیر کی تعلیمات ہی امتِ مسلمہ کی مزاحمت کی بنیاد ہیں؛ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے دوسرے بین الاقوامی "غدیر و مقاومت" سیمینار کے نام اپنے پیغام میں عیدِ غدیر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکتبِ غدیر صرف شیعہ عقیدے کی بنیاد نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور استکبار کے خلاف استقامت کا سرچشمہ ہے، اور آج عالمِ اسلام میں مزاحمت کی جو روح دکھائی دیتی ہے وہ اسی مکتب کی تعلیمات کا ثمرہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غدیر و مقاومت کے موضوع پر منعقد ہونے والے دوسرے بین الاقوامی سیمینار کے نام اپنے پیغام میں آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے مکتبِ غدیر کی فکری، اعتقادی اور تمدنی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی بقا، وحدت اور عزت کا ضامن قرار دیا ہے۔

پیغام کا متن حسبِ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

(سورۂ آل عمران، آیت 200)

میں اپنی گفتگو کے آغاز میں عیدِ سعید غدیر کی آمد پر تمام مسلمانوں اور شیعیانِ عالم، بالخصوص آپ عزیزان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس سیمینار کے تمام منتظمین، معاونین اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ امید ہے کہ یہ گراں قدر کاوش اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور ترویج کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگی۔

مکتبِ غدیر کی تعلیمات، برخلاف اس تصور کے جو بعض تنگ نظر افراد رکھتے ہیں، امتِ مسلمہ کے اجتماع، ہم آہنگی اور وحدت کے اہم ترین محوروں میں سے ایک بن سکتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کا اعلان کرکے اور آپ کی محبت و پیروی پر زور دے کر اسلامِ ناب کی بقا اور تسلسل کا راستہ انسانیت کے لیے روشن فرمایا۔ یہی الٰہی معارف تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلامِ اصیل کے روشن راستے کو محفوظ رکھنے اور اسے تحریف و فراموشی سے بچانے کا سبب بنے ہیں۔

اس مکتب کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک امامِ معصوم علیہ السلام اور ان کے نائب کی حیثیت سے امت کے فقہاء کا مقام ہے، جو اسلامی معاشرے کی ہدایت اور رہنمائی کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو ہمیشہ ظلم، استکبار، نفاق، جہالت اور دنیا پرستی کے مقابلے میں استقامت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں اور امت کو فکری و عملی انحراف سے محفوظ رکھتی ہیں۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی بہت سی ناکامیوں اور پسماندگیوں کا سبب ایسے حکمران رہے ہیں جنہوں نے ذاتی مفادات اور آسائش کو امت کے مفادات پر ترجیح دی یا دشمن کے دباؤ اور لالچ کے سامنے جھک گئے۔ بعض نے مایوسی اور کمزوری کو فروغ دے کر اسلامی معاشروں کو دشمن کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اسلامی اصولوں سے دور ہونے پر آمادہ کیا۔

اگر خدا ترس، ذمہ دار اور باعمل علماء اور دینی رہنماؤں کی استقامت نہ ہوتی تو اسلامی تشخص کا بڑا حصہ مٹ چکا ہوتا اور عالمی کفر و استکبار اسلامی سرزمینوں اور وسائل پر مکمل تسلط قائم کر چکا ہوتا، جیسا کہ بعض اسلامی ممالک میں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہی حقیقت دینی قیادت کی پیروی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے، جس کا روشن نمونہ اسلامی جمہوریہ ایران میں امام اور امت کے باہمی تعلق میں مشاہدہ کیا گیا ہے۔

موجودہ دور میں بھی پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ مکتبِ غدیر کے پیروکار ہی ایران، عراق، لبنان، یمن اور دیگر خطوں میں دینی قائدین کی رہنمائی میں عقیدے اور عمل کے میدان میں ثابت قدم کھڑے ہیں۔ وہ ظالم اور استکباری قوتوں کی سازشوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس راہ میں اپنی جان و مال تک قربان کر رہے ہیں۔

بلاشبہ مؤمنین کی نصرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا ہے اور آئندہ بھی پورا ہوگا۔ عنقریب اسلام کی واضح کامیابی اور جبهۂ کفر کی ذلت آمیز شکست مزید نمایاں ہوگی، جبکہ اس الٰہی نصرت کا نقطۂ عروج حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور اور عدل و توحید پر مبنی عالمی حکومت کے قیام کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

اس حقیقت کی تائید دنیا بھر میں آزادی پسندوں اور حق کے متلاشی افراد کے بڑھتے ہوئے رجحان سے بھی ہوتی ہے۔ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر بلکہ دیگر ادیان کے ماننے والے بھی اس الٰہی پرچم کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں، اور یہ رجحان اس بات کی نوید ہے کہ دل حضرت مہدی موعود عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے عالمی قیام کے زیرِ پرچم جمع ہونے کے لیے آمادہ ہو رہے ہیں۔

میں ایک بار پھر اس عظیم عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے "غدیر و مقاومت" سیمینار کے تمام منتظمین اور معزز شرکاء کی کاوشوں کو سراہتا ہوں اور خداوندِ متعال سے دعا گو ہوں کہ وہ ہم سب کو امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے سچے پیروکاروں میں قرار دے اور ہمیں آپؑ کی شفاعت نصیب فرمائے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

قم

ناصر مکارم شیرازی

ذی الحجہ 1447ھ / خرداد 1405ھ ش

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha