حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس ادبی محفل میں پاکستان کے ممتاز شاعروں، دانشوروں اور طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد شہدا میناب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایران اور پاکستان کے درمیان دیرینہ ثقافتی رشتے کو مذہبی ادب اور قربانی کے اعلیٰ تصورات کے ذریعے اجاگر کرنا تھا۔
شعراء نے اپنے مرثیوں اور نظموں کے ذریعے ایثار، شہادت اور عاشورہ کے انسانساز مکتب کے گہرے مفاہیم کو ازسرِنو زندہ کیا۔
اس ادبی ماحول نے نہ صرف مدرسہ شجرہ طیبہ کے شہدا کے بلند مرتبے کو سراہا گیا بلکہ پاکستانی طلبہ اور دانشوروں کو مقاومتی ادب کے بلند مضامین کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور مسلم امہ کے درمیان یکجہتی و ہمآہنگی کو فروغ دینے میں ادب کے تعمیری کردار پر زور دینے کا موقع بھی فراہم کیا۔
اس پروگرام کا ایک مؤثر حصہ مدرسہ شجرہ طیبہ میناب پر مبنی ویڈیو کلپس کی نمائش تھی۔ ان دستاویزی مواد نے اس مدرسے کے شہدا کے حالاتِ زندگی کی وہ حقیقتیں پیش کیں جنہیں بینالاقوامی میڈیا کی معمولی رپورٹس میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

کلچرل قونصلیٹ اسلام آباد کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر مجید مشکی نے فن اور ہنر کو تاریخ کو دائمی بنانے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: آپ عزیز شعراء نے میناب کے معصوم بچوں کی شہادت پر جو نظمیں کہی ہیں، وہ ان بکھرے ہوئے پھولوں کے نام اور یاد کو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔
انہوں نے مزید کہا: یہ مظلوم بچے علم حاصل کرنے کے لیے ایک تعلیمی ماحول میں حاضر تھے مگر امریکی اور اسرائیلی مجرموں کے اجتماعی قتل کے ہتھیاروں سے شہید کر دیے گئے یہاں تک کہ بعض کے جسموں کا کوئی نشان تک نہ ملا۔
قابل ذکر ہے کہ اس پروگرام میں ادبی نشست کے علاوہ مدرسہ شجرہ طیبہ کے شہدا کی تصاویر اور ان شہید بچوں کے بنائے گئے فن پاروں کی نمائش بھی ترتیب دی گئی۔ یہ فن پارے ان کے معصوم جہاں کا آئینہ دار تھے اور ان بچوں کی امیدوں اور خوابوں کو ظاہر کر رہے تھے۔ اس نمائش نے حاضرین کے ذہنوں میں اس المیے کے مختلف پہلوؤں اور مدرسے کے پاکیزہ تعلیمی ماحول کی معصومیت کو نیا تناظر بخشا۔









آپ کا تبصرہ