تحریر: محترمہ سیدہ معصومہ شیرازی
حوزہ نیوز ایجنسی| اس وقت تمام دنیا جس عظیم الشان اجتماع کے انتظار میں ہے وہ تاریخ کا سب سے بڑا اور تاریخی جنازہ ہے اور ہزاروں انسان بلا تخصیص مسلک و ملت اس جنازے میں شریک ہونے کے خواہشمند ہیں۔
یہ ایک علامتی جنازہ ہوگا اسرائیل کے پچھلی نصف صدی سے جاری مجرمانہ عزائم کے خلاف؛ جسمیں ہر مذہب و ملت کے لوگ شریک ہوں گے اسمیں انسانیت سے محبت کرنے والے، انسانی حقوق کی بحالی کے خواب دیکھنے والے، ذلت کی زندگی سے بیزار اور سر اٹھا کر جینے والے لوگ تمام دنیا سے شریک ہو کر ہم آواز ہوں گے اور اس کا جائز میزبان ایران ہے۔ وہ ملک جس نے صدیوں سے جاری اس ذلت ناک غلامی سے بغاوت کر کے مشرق وسطیٰ کو آزاد اور خود مختار زندگی کا تحفہ دیا ہے۔
یہ ایک رجیم جینج جنازہ ہونے جارہا ہے جس میں خطے کی طرف سے ایک اعلان ہوگا نئے ورلڈ آرڈر کا!! نئی تاریخ کے آغاز کا۔۔!! ظلم ,جبر مکاری اور عیاری سے نسل انسانی پر قابض غاصبوں کے خلاف!! مشرق وسطی کا طاغوتی طاقتوں کے خلاف ایک عظیم الشان اجتماع جو اپنے کل کی نئی تاریخ لکھنا چاہتا ہے اور اس تاریخ میں ان آمروں قاتلوں اور لٹیروں سے اظہار برائت کرنا چاہتا ہے جنہوں نے اپنے اسلحہ ساز فیکٹریوں اور پیٹرو ڈالر کے لیے ہزاروں لوگوں کو خاک و خون میں نہلانے کا عزم کر رکھا ہے۔ اگرچہ آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کا خفیہ جنازہ اور امانتاً دفن ہونا ایک روایت کا حصہ ہے۔ ہمارے ہاں برصغیر میں بھی اکثر عاشقان اہل بیت چاہتے ہیں کہ انہیں مقدس مقامات پر دفنایا جائے مگر انتقال کے فوراً بعد انہیں ان دو دراز مقامات پر لے جانا ممکن نہیں ہو پاتا تو انہیں امانتاً سپرد خاک کر دیا جاتا ہے اور وقت آنے پر اور امور کے آمادہ ہونے پر انہیں اُن باعظمت قبرستانوں میں دفن کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کی طرف سے وصیت کی گئی ہوتی ہے۔ گویا آیت الله العظمیٰ خامنہ کے جسد مبارک ایک عظیم الشان اعلان کی صورت لوگوں کے کندھوں پر اٹھے گا جہاں حسینیت کا پرچم سربلند ہوگا اور فرعونِ وقت کا زور توڑ کر حزب فقط حزب الہٰی کا اعلان ہوگا۔ یہ جنازہ نہیں اعلان فتح مندی ہے۔ دنیا کا ہر با ضمیر انسان اس مظلوم اور پاک خون کے لیے سراپا احتجاج ہے۔ یہ عظیم اجتماع استعارہ ہے آزادی امن اور عزت نفس کی بحالی کا۔ اس وقت امریکہ اور اسرائیل کا زعم فرعونی خاک میں مل چکا ہے اور یہ بہترین وقت ہے کہ اس رہبر حریت کا سرخرو جنازہ اٹھا کر اسے خراجِ تحسین پیش کیا جائے؛ جنہیں اکثر یہ کہتے ہوئے پایا گیا کہ انشاءالله جلد شیطان بزرگ اپنی طاقت کی نابودی دیکھے گا۔ فقط یہ کہ اس وقت میں آپ کے درمیان نہیں ہوں گا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سرخرو شہیدوں کا لہو ہی انسانیت کی نجات کا نوشتہ بنتا ہے اور یہ لہو ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں جذبہ بن کر زندہ رہتا ہے کبھی نہیں مرتا۔ خود آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای فرماتے تھے کہ شہادت کا ظاہر لہو اور غم ہے مگر اس کا باطن بہت عمیق اور لذت آمیز ہے۔
بے شک شہید کی موت انسانیت کے لیے نجات اور حیات ہے۔
امام حسین علیہ السلام نے خطبۂ عاشوراء میں فرمایا تھا یہ طوق جبر توڑ دو! ستم کے وار مت سہو! ہمارا ساتھ دو نہ دو، لیکن غلام بن کے مت جیو!









آپ کا تبصرہ