تحریر: سید قمر عباس قنبر نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی I حضرت فاطمہ بنت اسد بنت ہاشم بن عبد مناف ایک جلیل القدر، صاحبِ کرامت اور عظیم المرتبت خاتون تھیں۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنو ہاشم سے تھا، جو شرافت، توحید پرستی اور دینِ حنیف یعنی شریعتِ ابراہیمی کا امین سمجھا جاتا تھا۔
آپ حضرت ابو طالب بن عبدالمطلب کی زوجہ، رسولِ اکرم ﷺ کی شفیق چچی اور حضرت علی بن ابی طالب کی والدہ معظمہ تھیں۔ اس اعتبار سے آپ کو اسلامی تاریخ میں ایک نہایت بلند اور منفرد مقام حاصل ہے۔
امتیازات
حضرت فاطمہ بنت اسد پہلی ہاشمی خاتون تھیں جن کا نکاح بھی ایک ہاشمی شخصیت سے ہوا۔ مزید یہ کہ امّ المؤمنین خدیجہ بنت خویلد کے بعد آپ پہلی خاتون ہیں جنھیں رسولِ اکرم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت نصیب ہوئی ۔
حضرت فاطمہ بنت اسد کا شمار اسلام کی ابتدائی اور مخلص خواتین میں ہوتا ہے ۔ آپ مکہ سے مدینہ پیدل ہجرت کرنے والی اولین خواتین میں سے تھیں، اسی نسبت سے مؤرخین انہیں “اوّل المہاجرات” کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔
تاریخِ اسلام میں آپ کی شخصیت خدمت، ایثار اور ایمان کی ایک درخشاں مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی پرورش
حضرت رسولِ اکرم ﷺ کی والدہ آمنہ بنت وہب اور دادا عبدالمطلب بن ہاشم کی وفات کے بعد حضورِ اکرم ﷺ اپنے چچا جنابِ ابو طالب کی کفالت میں آ گئے۔ اس وقت حضرت فاطمہ بنت اسد نے رسولِ خدا ﷺ کی ایسی شفقت اور محبت سے پرورش کی کہ تاریخ نے دیکھا آپ اپنے بچوں سے سے زیادہ رسولِ اکرم ﷺ کی خدمت اور پرورش کی،
رسولِ رحمت ﷺ آپ کو ماں کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی بے مثال محبت و خدمت کا ہمیشہ تزکرہ فرماتے تھے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ: انہوں نے مجھے اپنی اولاد پر ترجیح دی، خود بھوکی رہیں مگر مجھے کھلایا، اور اپنے بچوں سے پہلے میری خبرگیری کی۔
اسی محبت اور احترام کے باعث جب بھی حضور ﷺ انہیں دیکھتے تو احتراماً کھڑے ہو جاتے۔
ولادتِ علیؑ کے موقع پر دیوار کعبہ کے شق ہونے کا عظیم واقعہ
حضرت فاطمہ بنت اسد کا ایک عظیم اور منفرد امتیاز یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ شرف عطا کیا کہ آپ کے بطنِ اطہر سے حضرت علیؑ کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔
روایات کے مطابق جب دردِ زہ شروع ہوا تو آپ خانہ کعبہ کے پاس آئیں اور دعا کی:
" خدایا! میں تجھ پر، تیرے تمام رسولوں پر اور صحیفوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ تجھے اس گھر کا اور اس کے معمار کا واسطہ اور اس مولود کا واسطہ جو میرے شکم میں ہے، میری مشکل آسان کر دے ۔"
تاریخ گواہی دیتی ہے کہ کعبہ کی دیوار شق ہوئی اور آپ اندر داخل ہوئیں، جہاں حضرت علیؑ کی ولادت ہوئی۔ آپ تین دن تک خا نہ کعبہ میں قیام پذیر رہیں۔
آپ کا گھر گہوارۂ اسلام کہلایا
آپ کا گھر حقیقت میں اسلام کا ایک گہوارہ تھا۔ جہاں ایک طرف آپ کے اپنے بیٹے طالب، عقیل، جعفر اور علی اور بیٹیاں اُم ہانی اور جمانہ پرورش پا رہے تھے وہیں دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کی شخصیت بھی اسی گھر میں موجود تھی۔
حضرت فاطمہ بنت اسد ہمیشہ رسولِ خدا ﷺ کو اپنے بچوں پر ترجیح دیتی تھیں۔ آپ پہلے حضور ﷺ کو کھانا کھلاتیں، ان کی خبرگیری کرتیں اور ان کی شخصیت کی دیکھ بھال میں خاص توجہ دیتیں۔
اولاد
اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہ بنت اسد اور ابو طالب کو چار بیٹے عطا فرمائے:
طالب بن ابی طالب
یہ سب سے بڑے بیٹے تھے اور انہی کے نام پر ابو طالب کی کنیت تھی، تاریخ میں ان کا تفصیلی تذکرہ نہیں ملتا، مگر ان کی شخصیت عزت و وقار کی حامل تھی۔ بعض روایات کے مطابق آپ کا انتقال جنگ بدر کے لیے جاتے ہوئے راستے میں ہو گیا تھا۔
عقیل بن ابی طالب
یہ انتہائی شجاع ،دلیر اور علمِ نسب کے بڑے ماہر تھے۔ ان کی اولاد میں مسلم بن عقیل خاص طور پر مشہور ہیں جنہیں امام حسین بن علی نے کوفہ اپنا سفیر بنا کر بھیجا تھا
جعفر بن ابی طالب
یہ رسولِ اکرم ﷺ کے نہایت محبوب صحابی اور عظیم مبلغ تھے۔ رسولِ کریم ﷺ نے ان کی قیادت میں پہلا اسلامی وفد کی حبشہ بھیجا، آپ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں اسلام کی وہ تبلیغ اور دفاع کیا کہ عیسائی دنیا میں تہلکہ برپا ہو گیا ۔ آپ نے جنگِ موتہ میں شہادت پائی۔ حضور ﷺ نے انہیں “طیار” کا لقب عطا فرمایا۔
حضرت علی بن ابی طالبؑ
جو اسلام کی عظیم ترین شخصیات میں شمار ہوئے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی طرف سے عطا کردہ آپ کے مشہور القاب باب مدینۃ العلم، شیر خُدا، مشکل کشا اور ابو تراب ہیں۔ حضرت فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام حیدر (شیر) رکھا تھا۔ اہلِ تشیع کے نزدیک آپ رسولِ اکرم ﷺ کے جانشین اور پہلے امام ہیں، جبکہ اہلِ سنت انہیں چوتھے خلیفۂ راشد کے طور پر مانتے ہیں۔ علم، شجاعت اور تقویٰ میں ان کا مقام بے مثال ہے۔ ان کے علاوہ حضرت فاطمہ بنت اسد کی دو بیٹیاں بھی تھیں: امِّ ہانی ایک باوقار اور صاحبِ ایمان خاتون، جن کا گھر مکہ میں رسولِ اکرم ﷺ کے لیے جائے پناہ رہا۔ اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺ کو معراج پر ان ہی کے گھر سے بُلایا تھا۔
جمانہ بنت ابی طالب
انہوں نے بھی ہجرت کی اور اسلام کی خدمت میں اپنا حصہ ادا کیا۔
حضرت فاطمہ بنت اسد نے اپنی اولاد کی تربیت ایمان، صداقت اور وفاداری کے اصولوں پر کی، یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر فرزند اور دُختر نے تاریخِ اسلام میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔
وفات
حضرت فاطمہ بنت اسد کی وفات 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی ـ جب حضرت علیؑ نے رسولِ اکرم ﷺ کو اس سانحہ کی خبر دی تو نبی کریم ﷺ بے حد غمگین ہوئے اور فرمایا:
علی! وہ تمہاری ہی نہیں، میری بھی ماں تھیں۔ پھر فرمایا اللہ آپ پر رحم کرے، آپ نے میری پرورش کی، خود بھوک کو برداشت کیا اور مجھے سیراب کیا، مجھے لباس دیا خود تنگ دستی میں زندگی گزاری۔
روایات میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کی تجہیز و تکفین میں خصوصی اہتمام فرمایا۔ اپنا پیراہن بطورِ کفن عطا کیا، تدفین سے قبر میں خود لیٹے تاکہ قبر ان پر کشادہ ہوجائے اور 70 تکبیروں کے ساتھ نمازِ جنازہ پڑھائی ـ آپ کی قبر اطہر مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں واقع ہے۔









آپ کا تبصرہ