حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رمضان المبارک کی مناسبت سے جامعۃ المصطفیٰ کراچی شعبۂ خواہران میں دعائے ابوحمزہ ثمالی کی شرح پر مشتمل ایک نورانی نشست، ثقافتی و تربیتی اور شعبۂ ہاسٹل کے تعاون سے منعقد ہوئی۔
اس بابرکت نشست کا مقصد طالبات کی معنوی و تربیتی رشد، دعا سے انس اور معارفِ اہل بیتؑ سے عملی وابستگی کو فروغ دینا تھا۔
نشست سے جامعہ المصطفیٰ کے پاکستان میں نمائندے حجت الاسلام سید علی شمسی پور نے خطاب کیا اور سامعین کو معارفِ دعا سے بہرہ مند کیا۔

حجت الاسلام شمسی پور نے دعائے ابوحمزہ کو عرفان کا سمندر اور معرفت کا چشمۂ رواں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انسان کو اس دعا سے انس حاصل کرنے کی توفیق مل جائے تو اس کا دل نورِ معرفت سے منور ہو جاتا ہے اور وہ قربِ الٰہی کی منزل سے ہمکنار ہوتا ہے۔ یہی تقرب دراصل تمام انبیائے الٰہی کی بعثت کا خلاصہ اور مقصد ہے۔
انہوں نے عبودیت کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور، سچا اور خضوع انسان کو رفعت اور سربلندی عطا ہوتی ہے، جبکہ تکبر — جس کی ایک صورت دعا سے بے رغبتی اور خود کو بے نیاز سمجھنا ہے — محرومی اور زوال کا سبب بنتا ہے۔ دعا کامیابی کی کنجی ہے اور بہترین دعا وہ ہے جو پاک دل سے نکلے اور ایسی زبان سے ادا ہو جو گناہوں سے آلودہ نہ ہو۔
پاکستان میں نمائندہ جامعہ المصطفیٰ کے نمائندے نے گزشتہ جمعہ منعقد ہونے والی نشست میں حضرت ولی عصرؑ کی غیبت کا ذکر کرتے ہوئے فراقِ امام پر اپنے قلبی جذبات کا اظہار کیا اور دعا کے اس فقرے «اِلٰہی لا تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ وَلا تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ» کی تشریح میں متنبہ کیا کہ سب سے بڑی تدبیر اللہ کی تدبیر ہے۔ بعض اوقات انسان غفلت کی راہ پر چلتا رہتا ہے اور اسے فوری سزا نظر نہیں آتی، تو وہ اسے لطف و عنایت سمجھ لیتا ہے، حالانکہ ممکن ہے وہ استدراج جیسے پوشیدہ امتحان میں مبتلا ہو چکا ہو۔

انہوں نے معارفِ اہل بیتؑ کی روشنی میں استدراج کو نہایت خطرناک قرار دیا اور کہا کہ یہ انسان کو توبہ اور رجوع سے محروم کر دیتا ہے۔
انہوں نے «مِنْ أَیْنَ لِیَ الْخَیْر» کی شرح میں واضح کیا کہ ہر خیر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اور کسی بھی خیر کو اس کی مشیت سے مستقل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر کوئی بندہ ہمیں فائدہ پہنچاتا ہے تو درحقیقت وہ عطیہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔
حجت الاسلام سید شمسی پور نے حسد کو جہالت اور باطنی بیماری کی علامت قرار دیتے ہوئے امیرالمؤمنینؑ کا قول نقل کیا کہ حسد سب سے پہلے اپنے ہی حامل کو ہلاک کرتا ہے۔ سب سے بڑا عذاب جہالت ہے، کیونکہ بہت سے گناہوں کی جڑ نادانی میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے دنیا کو آخرت کے لیے تجارت گاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذمت دنیا کی نہیں، بلکہ اس سے دلچسپی کی ہے۔
انہوں نے «أَدْعُوهُ فَیُجِیبُنِی وَأَسْأَلُهُ فَیُعْطِینِی… أَخْلُو بِهِ کُلَّمَا شِئْتُ» کی تشریح میں تین اہم نکات بیان کیے:
اول یہ کہ سب سے بڑی نعمت یہی ہے کہ انسان کو دعا کی توفیق ملے اور اللہ اس کی پکار سن لے۔
دوم یہ کہ دعا کی توفیق خود ایک عظیم عطیہ ہے جو بغیر کسی معاوضے کے عطا ہوتی ہے۔
سوم یہ کہ اللہ ہماری دعا قبول فرماتا ہے، مگر جب وہ ہمیں اپنی طرف بلاتا ہے تو ہم سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آخر میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ بعض اوقات دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ کہا کہ کبھی یہ ہماری مصلحت میں نہیں ہوتا۔ نیز امیرالمؤمنینؑ کے ارشاد کی روشنی میں یہ بتایا کہ دلوں کی خیانت عدمِ قبولیت کا سبب بنتی ہے؛ جیسے اللہ کو پہچاننا مگر اس کا حق ادا نہ کرنا، ایمان کا دعویٰ مگر عمل کی کمی، قرآن کو ماننا مگر اس پر عمل نہ کرنا، جہنم سے ڈرنے کا دعویٰ مگر گناہوں سے اجتناب نہ کرنا، نعمتوں پر شکر ادا نہ کرنا، شیطان کو دشمن کہنا مگر عملاً اس کی پیروی کرنا اور دوسروں کی عیب جوئی میں مشغول رہ کر اپنے عیوب سے غافل رہنا؛ لہٰذا دعا کی عدمِ قبولیت پر شکوہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ انسان اپنے باطن کی اصلاح کرے، کیونکہ اصل رکاوٹ ہمارے اپنے اندر موجود ہے.










آپ کا تبصرہ