حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے جامعہ آل البیت (ع) قم کے کانفرنس ہال میں منعقدہ اسلامی علوم کے اسمارٹ اور علم و دانش پر مبنی مصنوعات کی رونمائی کی تقریب میں ادراکی علوم اور جدید ٹیکنالوجیز کے حالیہ تغیرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو خیال آج جزوی طور پر مصنوعات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے وہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کا آغاز تقریباً بارہ سے تیرہ سال قبل ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا: اس منصوبے کا مقصد علمی سرحدوں پر ایک علمی تحریک کی بنیاد رکھنا تھا خصوصاً اسلامی علوم کے میدان میں جس کا بین الاقوامی نقطۂ نظر ہو۔
سربراہ حوزہ علمیہ نے کہا: اس تحریک کا آغاز ابتدا میں جامعۃ المصطفی اور مختلف حوزوی و جامعاتی علمی مراکز میں ہوا لیکن ان برسوں کے دوران ہم اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے جیسا کہ ابتدا میں تصور کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ہم مرحلہ وار اپنے ہدف کی جانب بڑھتے رہے ہیں اور اب دیگر اداروں اور تنظیموں کی جانب سے تعاون کے آثار بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

آیت اللہ اعرافی نے اسلامی علوم کے میدان میں قم کے ترقی یافتہ مقام اور اسلامی معارف کی ترویج و ترقی میں اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے مؤثر کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: تحقیقی مرکز نور جو مقام معظم رہبری کے فرمان اور رہنمائی سے قائم ہوا اب تک مختلف علمی اور تحقیقی شعبوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ یہ مرکز بدستور علمی سرگرمیوں میں پیش پیش ہے اور مسلسل مختلف میدانوں میں اپنی فعالیت کو وسعت دے رہا ہے۔
انہوں نے اس سلسلے میں اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں یہ علمی تحریک مکمل طور پر تشکیل پائے گی اور اسلامی علم و تہذیب کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے گی۔









آپ کا تبصرہ