ہفتہ 7 فروری 2026 - 06:00
ظلم و ظالم کی مخالفت، ایک اجتماعی ذمہ داری: حجۃالاسلام سید نعیم الحسن نقوی

حوزہ/عشرۂ فجر انقلابِ اسلامی اور ولادتِ باسعادت حضرت امام زمان علیہ السلام کی مناسبت سے ایک بصیرتی نشست، شعبۂ ثقافت و تربیت جامعۃالمصطفیٰ کراچی پاکستان کی جانب سے منعقد ہوئی، جس سے حجت الاسلام سید نعیم الحسن نقوی نے خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عشرۂ فجر انقلابِ اسلامی اور ولادتِ باسعادت حضرت امام زمان علیہ السلام کی مناسبت سے ایک بصیرتی نشست، شعبۂ ثقافت و تربیت جامعۃالمصطفیٰ کراچی پاکستان کی جانب سے منعقد ہوئی، جس سے حجت الاسلام سید نعیم الحسن نقوی نے خطاب کیا۔

ظلم و ظالم کی مخالفت، ایک اجتماعی ذمہ داری: حجۃالاسلام سید نعیم الحسن نقوی

سید نعیم الحسن نقوی نے ظلم کے خاتمے، امت کی اجتماعی ذمہ داری اور ظہورِ امامِ زمانہؑ کے فکری و عملی تقاضوں پر جامع اور بصیرت افروز گفتگو کی۔

انہوں نے اس سوال ”کیا ظلم کا خاتمہ صرف ظہورِ امامِ زمانہؑ کے بعد ہی ممکن ہے، یا امت پر ابھی سے ظلم کے خلاف قیام فرض ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امامؑ کے ظہور کا انتظار محض زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ ظلم کے مقابلے میں عملی مؤقف اختیار کرنا ہی حقیقی معنوں میں لبیک ہے۔

حجت الاسلام سید نعیم الحسن نقوی نے واضح کیا کہ وہ علم جو ظلم کے خلاف انسان کو کھڑا نہ کرے، درحقیقت بے اثر اور بے فائدہ ہے، کیونکہ انبیاءؑ اور ائمہؑ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہمیشہ ظالمانہ نظاموں کا خاتمہ رہا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے واقعے اور سورۂ قصص کی آیات کی روشنی میں یہ اصول بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوت اور نعمتوں کا صحیح استعمال یہی ہے کہ ظالم کی اعانت سے پرہیز کیا جائے اور مظلوم کی حمایت کی جائے۔

انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور آپؐ کی مسلسل جدوجہد کو ظلم کے خلاف عملی قیام کی روشن مثال کے طور پر پیش کیا۔

ظلم و ظالم کی مخالفت، ایک اجتماعی ذمہ داری: حجۃالاسلام سید نعیم الحسن نقوی

حجت الاسلام نقوی نے قرآنی و حدیثی اصولوں کی روشنی میں انبیاءؑ اور ائمہؑ کی اطاعت و پیروی کو امت کے لیے رحمت قرار دیا اور کہا کہ وحی صرف قرآنِ مجید تک محدود نہیں، بلکہ احادیثِ معصومینؑ بھی ہدایت کا معتبر ذریعہ ہیں۔ امام علیؑ کے خطِ مالک اشتر، امام حسینؑ کے قرآنِ ناطق ہونے کے تصور، اور مجرموں و ظالموں کی پشت پناہی سے منع کرنے والی قرآنی تعلیمات کو نظامِ عدل کے بنیادی ستونوں کے طور پر بیان کیا گیا۔

نشست کے آخری حصے میں سورۂ توبہ کی آیات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی گئی کہ دین کے مقابلے میں خاندانی، معاشی یا سماجی تعلقات کو ترجیح دینا بذاتِ خود ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔

خطیب نے اس بات پر زور دیا کہ تشیع محض ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے اور ظلم، فکری یلغار اور باطل بیانیے کے مقابلے میں اجتماعی طور پر دین اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کا دفاع کرنا امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ظلم و ظالم کی مخالفت، ایک اجتماعی ذمہ داری: حجۃالاسلام سید نعیم الحسن نقوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha