حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شیعہ جامع مسجد کو دوران نمازِ جمعہ دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے پر دنیا بھر سے مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
ان بیانات میں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر شیعہ علماء کونسل کے رہنما قاسم علی قاسمی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں، لیکن دہشت گردی سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلبیت محرابپور سندھ پاکستان کے مرکزی صدر ایاز علی خاکی نے کہا کہ اسلام آباد مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ قابلِ صد افسوس ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد خدیجہ الکبریٰؓ پر نماز جمعہ کے دوران حملہ کھلی دہشت گردی، سفاکیت اور انسانیت دشمن سوچ کی بدترین مثال ہے۔ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا نہ صرف بے گناہ نمازیوں کے خون سے کھیلنا ہے، بلکہ ملک کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی وحدت پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہم حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر، دیرپا اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
جامعہ روحانیت خیبر پختونخوا نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جامع مسجد حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے کو ایک انتہائی افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور قابلِ مذمت واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہ اور نمازیوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔بہم اس بزدلانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ واقعہ سیکیورٹی اداروں کی کمزوری پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

تنظیم نے کہا کہ یہ حملہ صرف مکتبِ تشیع پر نہیں، بلکہ پورے پاکستان کے امن، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی پر حملہ ہے۔
جامعہ روحانیت خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ ہم حکومتِ وقت اور ریاستی اداروں سے یہ واضح بتانا چاہتے ہیں کہ اس واقعے کے مجرموں کی فوری نشاندہی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
واضح رہے اسلام آباد دہشت گردانہ واقعے میں شہید ہونے والے شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کے انجمنِ امامیہ بلتستان نے تین روزہ یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے اور آج نمازِ ظہرین کے بعد یادگار شہداء چوک پر احتجاج بھی کیا ہے۔
سکردو میں انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آنے والے المناک سانحے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث دہشت گردوں کو فوری طور پر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے زخمیوں کے فوری اور مکمل علاج معالجے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔
جلسے کے اختتام پر انجمنِ امامیہ بلتستان کے صدر آغا سید باقر الحسینی نے متفقہ قرارداد پیش کی، جس میں واقعے کے خلاف شدید احتجاج اور متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔










آپ کا تبصرہ