حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ مین نماز جمعہ کے دوران، نمازیوں پر ہونے والے دلخراش دہشت گردانہ خود کش حملہ اور دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں سرگرم تکفیری گروہوں کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور مؤثر کاروائی کی جائے!
انہوں نے مزید کہا کہ اس سفاکانہ اور بزدلانہ کاروائی میں نمازیوں کی شہادت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر ہم گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں؛ یہ انسانیت دشمن فعل نہ صرف پاکستان، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ صدمہ ہے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ہم شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتِ کاملہ نصیب کرے، اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ ہم متعلقہ حکومتی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس افسوسناک واقعے میں سامنے آنے والی سیکیورٹی کوتاہیوں، خصوصاً ملک کے دارالحکومت میں موجود سیکیورٹی اور حفاظتی خلا و کمزوری کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے! ذمہ دار عناصر کا فوری تعین کیا جائے اور عوام بالخصوص عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر، عملی اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔
آغا جواد نقوی نے زور دے کر کہا کہ محض رسمی بیانات نہیں، بلکہ زمینی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں سرگرم تکفیری گروہوں کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور مؤثر کارروائی کی جائے! خصوصاً دارالحکومت اسلام آباد میں ان پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ان کے فکری و عملی نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جائے، تاکہ آئندہ ایسے المناک سانحات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
سربراہ تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ نے واضح کیا کہ ایسے دہشت گردانہ حملے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ قوم کو چاہیے کہ اتحاد، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ان سازشوں کا مقابلہ کرے اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ ربّ العزت پاکستان کو امن، سلامتی اور استحکام عطا فرمائے اور ہمیں باہمی وحدت کے ساتھ ہر فتنے کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے۔










آپ کا تبصرہ