حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی نے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جامع مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے افسوسناک دھماکے پر دلی رنج و غم اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، مسلک یا جواز نہیں ہوتا اور عبادت گاہ کو نشانہ بنانا پوری انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے؛ یہ افسوسناک واقعہ پوری قوم کے لیے ایک قومی سانحہ ہے۔
پی ٹی آئی قیادت نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ وفاقی دارالحکومت جیسے حساس علاقے میں اس نوعیت کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان اور وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔









آپ کا تبصرہ