ہفتہ 7 فروری 2026 - 15:36
امام خمینی کی انقلابی تحریک میں امام خامنہ ای کا کردار

حوزہ/آیت الله العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای نے ۱۳۴۱ ہجری شمسی سے شاہ ایران محمد رضا پہلوی کی امریکہ نواز، اسلام مخالف اور استبدادی حکومت کے خلاف حضرت امام خمینیؒ کی انقلابی تحریک میں عملی طور پر شرکت کی۔ آغاز ہی سے آپ اس تحریک کے سرگرم، باہمت اور فکری رہنما بن کر سامنے آئے۔ پندرہ سال سے زائد عرصے پر محیط اس جدوجہد میں آپ نے گرفتاریاں، جلاوطنی، اسیری، تشدد اور سخت مصائب برداشت کیے لیکن کبھی بھی انقلابی راستے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

تحریر: عامر عباس

حوزہ نیوز ایجنسی| آیت الله العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای نے ۱۳۴۱ ہجری شمسی سے شاہ ایران محمد رضا پہلوی کی امریکہ نواز، اسلام مخالف اور استبدادی حکومت کے خلاف حضرت امام خمینیؒ کی انقلابی تحریک میں عملی طور پر شرکت کی۔ آغاز ہی سے آپ اس تحریک کے سرگرم، باہمت اور فکری رہنما بن کر سامنے آئے۔ پندرہ سال سے زائد عرصے پر محیط اس جدوجہد میں آپ نے گرفتاریاں، جلاوطنی، اسیری، تشدد اور سخت مصائب برداشت کیے لیکن کبھی بھی انقلابی راستے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

۱۳۴۲ شمسی (محرم ۱۳۸۳ھ) میں امام خمینیؒ نے آپ کو ایک اہم خفیہ ذمہ داری سونپی، جس کے تحت آپ کو ایران میں شاہی حکومت کی امریکہ نواز پالیسیوں کو بے نقاب کرنا، عوام میں بیداری پیدا کرنا اور قم سمیت ملک کے حالات سے علما کو باخبر کرنا تھا۔ اسی سلسلے میں آپ نے مشہد، قم، کرمان اور زاہدان سمیت مختلف شہروں میں مجالس اور خطابات کے ذریعے عوام کو شاہی مظالم سے آگاہ کیا۔

پہلی اور دوسری گرفتاری

آپ کی انقلابی تقاریر اور سرگرمیوں کے نتیجے میں ساواک (شاہی خفیہ ایجنسی) نے پہلی مرتبہ آپ کو گرفتار کیا۔ ۱۵ خرداد کے خونی واقعے کے بعد آپ کو فوجی جیل منتقل کیا گیا جہاں دس دن تک شدید تشدد اور اذیتیں دی گئیں۔

دوسری گرفتاری رمضان المبارک کے دوران زاہدان میں ہوئی، جہاں آپ نے شاہی حکومت کے جعلی انتخابات اور ریفرنڈم کو بے نقاب کیا۔ اس مرتبہ آپ کو تہران منتقل کر کے تقریباً دو ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا، مگر آپ نے اپنے انقلابی موقف سے کسی قسم کی پسپائی اختیار نہ کی۔

تیسری، چوتھی اور پانچویں گرفتاریاں

تہران اور مشہد میں نوجوانوں کے درمیان آپ کے درسِ قرآن، حدیث اور اسلامی افکار کی کلاسیں بے حد مقبول ہو گئیں۔ یہی مقبولیت ساواک کے لیے خطرے کی علامت بن گئی۔

۱۳۴۵ سے ۱۳۴۹ شمسی کے دوران آپ کو بار بار گرفتار کیا گیا۔ ساواک کو یہ شبہ تھا کہ اسلامی افکار کی یہ تحریکیں مسلح انقلابی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہیں، اسی لیے آپ کو شدید تفتیش اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچویں گرفتاری (۱۳۵۰ شمسی) میں جیل کے دوران سخت ترین سزائیں دی گئیں، لیکن رہائی کے بعد آپ نے تبلیغی سرگرمیوں کو خفیہ انداز میں مزید وسعت دی۔

چھٹی اور سخت ترین گرفتاری

۱۳۵۰ سے ۱۳۵۳ شمسی کے درمیان مشہد کی مساجد (مسجد کرامت، مسجد امام حسنؑ اور مسجد میرزا جعفر) میں آپ کے درسِ قرآن، تفسیر اور اسلامی آئیڈیالوجی نے بیدار اور روشن فکر نوجوانوں کو بڑی تعداد میں جذب کیا۔

آپ کے دروس جدید، فکری اور انقلابی انداز کے حامل تھے۔ انہی دروس کے نوٹس بعد میں “آفتاب نہج البلاغہ” کے نام سے عام ہوئے اور پورے ایران میں پھیل گئے۔ ان ہی سرگرمیوں کی وجہ سے ۱۳۵۳ شمسی میں ساواک نے آپ کو چھٹی بار گرفتار کیا، آپ کے گھر پر چھاپہ مارا اور علمی نوٹس ضبط کر لیے۔

یہ گرفتاری سب سے طویل اور تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ آپ کو تقریباً ایک سال تک قیدِ تنہائی، تشدد اور سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خود امام خامنہ ایؒ کے مطابق یہ مشکلات وہی سمجھ سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزرا ہو۔

رہائی اور جدوجہد کا تسلسل

۱۳۵۴ شمسی میں رہائی کے بعد آپ دوبارہ مشہد واپس آئے اور علمی، فکری اور انقلابی جدوجہد کو نئے عزم کے ساتھ جاری رکھا، اگرچہ ساواک نے آپ پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے باوجود آپ کی مسلسل جدوجہد، فکری تربیت اور عوامی بیداری نے بالآخر اسلامی انقلاب ایران کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا۔

یوں امام خامنہ ای کی یہ طویل جدوجہد امام خمینیؒ کی تحریک کا ایک مضبوط ستون ثابت ہوئی، جس نے انقلاب اسلامی کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha