حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ حسینی بوشہری نے 17 شعبان المعظم کو مصلیٰ قدس قم میں نماز جمعہ کے خطبے دیتے ہوئے انقلاب اسلامی کی 48ویں سالگرہ کی مناسبت سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کا آغاز 12 بہمن کو امام خمینیؒ کی تاریخی واپسی سے ہوا اور 22 بہمن کو کامیابی نے دنیا کو حیران کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ انقلاب سے پہلے ملک غیر ملکیوں کے زیر اثر تھا اور عوام کو ذلیل کیا جاتا تھا، مگر انقلاب نے قوم کو سیاسی شعور دیا اور عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملا۔ آج ایرانی قوم سیاسی شعور اور دشمن شناسی میں دنیا کی باخبر قوموں میں شامل ہے۔
آیت اللہ بوشہری نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں میں ایران نے جنگ، سازشوں اور فتنوں جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن عوام کی استقامت اور قیادت کی رہنمائی سے ہر مشکل پر قابو پایا۔ انہوں نے رہبر انقلاب کی قیادت کو انقلاب کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے اور اپنے طرز عمل میں بہتری لانے پر توجہ دیں تاکہ عوام کا اعتماد مضبوط ہو۔
امام جمعہ قم نے سائنسی اور دفاعی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے طب، خلائی ٹیکنالوجی، ادویات، کمپیوٹر سائنس اور دیگر شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر دشمن ان ترقیات کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے حالیہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن نے نفسیاتی جنگ اور افواہوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، مگر قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے قرآن کی آیات کی روشنی میں افواہوں سے بچنے اور بغیر تحقیق کسی خبر کو پھیلانے سے گریز کرنے کی تلقین کی۔
آیت اللہ حسینی بوشہری نے جوہری مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ایران نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی برادری پر حجت تمام کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا ہے۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 22 بہمن کو بھرپور شرکت کے ذریعے انقلاب سے اپنی وابستگی کا اظہار کریں اور خدا اور امام زمانہؑ سے مضبوط تعلق قائم رکھیں۔









آپ کا تبصرہ