حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبۂ طالبات کراچی کے شعبۂ تحقیق و تربیت کے اشتراک سے ’’بصیرتِ انقلابی خواتین؛ موجودہ حالات میں قیادت سے تجدیدِ عہد‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان فکری و تربیتی نشست منعقد ہوئی، جس میں اساتذۂ کرام، مسئولین اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جبکہ طالبات نے انقلابی ترانہ پیش کر کے محفل کو روحانی رنگ بخشا۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض خواہر دعا سجاد نے انجام دئیے۔

جامعہ کی پرنسپل محترمہ ڈاکٹر سیدہ تسنیم زہراء موسوی نے نشست کے آغاز میں طالبات کو انقلابِ اسلامی ایران کی برکات کی طرف متوجہ کرواتے ہوئے کہا کہ آج آپ سب جس قرآنی، تربیتی، علمی، تحقیقی اور فکری ماحول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، یہ سب اسی انقلاب کی برکتوں میں سے ہے اور ہمارا یہ ادارہ بھی انہی ثمرات کا ایک روشن نمونہ ہے۔

انہوں نے اس موقع پر اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جب ہم ایران میں ہماری رہبرِ انقلاب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہمیں اپنے ’’فرزند‘‘ قرار دیا تھا؛ لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اندر ایسی اہلیت، لیاقت اور اخلاقی و علمی پختگی پیدا کریں کہ واقعی اس نسبت کے حق دار بن سکیں۔
انہوں نے موجودہ حالات میں بصیرتِ انقلابی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بصیرت محض معلومات کا نام نہیں، بلکہ حق و باطل میں فرق، دوست و دشمن کی پہچان اور ولایت کے راستے پر شعوری استقامت کا نام ہے۔

ڈاکٹر سیدہ تسنیم موسوی نے قرآنِ کریم کی آیت “قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ...” کو محورِ گفتگو قرار دیتے ہوئے کہا کہ فتنوں کے گرد و غبار میں بصیرت انقلابی ہی راستے کو روشن کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب با بصیرت خواتین میدان میں آئیں تو تاریخ کا رخ بدل گیا۔ حضرت خدیجہؓ کی مالی و معنوی حمایت اور حضرت زینبؑ کی جرأت و خطابت اس کی روشن مثالیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم بابصیرت خاتون حق کے تسلسل اور بقاء کی محور ہے۔

خواہر موسوی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آج مسلم بابصیرت خواتین جہادِ تبیین، انقلابی اقدار کے تحفظ اور نئی نسل کی تربیت میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ دشمن کی فکری یلغار عقائد، ثقافت اور مسلم باشعور خواتین کی شناخت کو نشانہ بناتی ہے؛ اس لیے باشعور خواتین اور مضبوط خاندان کسی بھی معاشرے کی حقیقی قوت ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای مدظلہ کے افکار کے منظم مطالعے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی قرآنی کتب میں اسلامی طرزِ تفکر کے بنیادی خدو خال، انقلاب کا دوسرا مرحلہ اور ڈھائی سو سالہ انسان کے مطالعے کو مفید قرار دیا؛ جبکہ تحقیقی استفادے کے لیے ’’حدیثِ ولایت‘‘ سافٹ ویئر اور Khamenei.ir ویب سائٹ کی جانب رجوع کرنے کی ترغیب دی۔

محترمہ ڈاکٹر سیدہ تسنیم نے اس علمی و تربیتی نشست میں اس بات کی وضاحت بھی کی کہ رہبر کی حمایت محض نعرہ نہیں، بلکہ ایک فکری اور شرعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای مدظلہ کی ہدایات کی روشنی میں طالبات کی ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہوئے درج ذیل نکات بیان کیے:
1۔ علمی و اخلاقی بنیاد کی تقویت
2۔ بین الاقوامی سطح پر افکار کی تبیین
3۔ اسلامی وحدت کا فروغ
4۔ سیاسی شعور اور بصیرت
5۔ ایران کی درست تصویر پیش کرنا
نشست کے اختتام پر تمام طالبات، اساتذہ اور مسئولین نے رہبرِ معظم آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے ساتھ وفاداری اور تجدیدِ عہد کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علمی، فکری اور اخلاقی میدان میں اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں ادا کرتے رہیں گے اور تجدیدِ عہد کے عملی تقاضوں میں انقلابی اقدار پر پابندی، علمی و اخلاقی مضبوطی، سماجی میدان میں مثبت کردار اور شہداء کے نظریات کا دفاع شامل ہیں۔

پروگرام کے اختتام پر رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای مدظلہ کی صحت و سلامتی اور حاضرین کی بصیرت و استقامت کے لیے دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ