تحریر: عاصم علی جامعۃ المصطفی العالمیہ(واحد برادران) کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی I اسلام کی ابتدائی تاریخ ایسے عظیم نفوس سے مزین ہے جنہوں نے اپنی جان، مال، عزت اور سماجی مقام کو خطرے میں ڈال کر پیغامِ توحید کی حفاظت کی۔ ان ہی عظیم شخصیات میں ایک نمایاں اور درخشاں نام حضرت ابو طالبؑ کا ہے، جو نہ صرف پیغمبرِ اسلام محمد کے چچا تھے بلکہ ان کے اولین محافظ، سرپرست اور مدافع بھی تھے۔ تاریخِ اسلام میں اگر رسالتِ محمدی ﷺ کے تحفظ، ابتدائی دور کی مشکلات، اور کفارِ قریش کے مقابلے میں استقامت کا تذکرہ کیا جائے تو حضرت ابو طالبؑ کا کردار ایک مضبوط قلعے کی مانند نظر آتا ہے۔
حضرت ابو طالبؑ نے ایسے دور میں رسول اکرم ﷺ کی کفالت اور حمایت کی جب مکہ میں اسلام کی کوئی سیاسی یا سماجی طاقت موجود نہ تھی۔ قریش کے سردار آپ ﷺ کو تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر ابو طالبؑ کی شخصیت ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔ انہوں نے نہ صرف خاندانی غیرت بلکہ ایمانی بصیرت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں “مدافعِ رسالت” کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ حضرت ابو طالبؑ کی سیرت، ان کے کردار، ان کی قربانیاں اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ان کا کردار کس قدر اہم تھا۔
نسب اور ابتدائی زندگی
حضرت ابو طالبؑ کا اصل نام عبد مناف تھا۔ آپ کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے: عبد مناف بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔ آپ بنو ہاشم کے معزز اور محترم فرد تھے۔ آپ کے والد عبدالمطلب قریش کے سردار اور نہایت باوقار شخصیت تھے۔ عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سالہ محمد ﷺ کی کفالت کا ذمہ حضرت ابو طالبؑ کے سپرد ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ میں قبائلی نظام رائج تھا، اور ہر شخص کی عزت و حفاظت اس کے قبیلے کے سردار پر منحصر تھی۔ ابو طالبؑ نے نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ اپنے بھتیجے کی پرورش کی۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز رکھتے تھے۔
کفالتِ رسولؐ اور محبتِ پدرانہ
حضرت ابو طالبؑ نے رسول اکرم ﷺ کی کفالت نہایت فخر اور محبت سے کی۔ وہ سفر و حضر میں آپ ﷺ کو ساتھ رکھتے۔ ایک مشہور واقعہ شام کے تجارتی سفر کا ہے جب انہوں نے کم سن محمد ﷺ کو اپنے ساتھ لے جایا، جہاں راہب بحیرا نے آپ ﷺ کی نبوت کی علامات پہچانیں۔ ابو طالبؑ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ رات کو رسول اللہ ﷺ کو اپنے بستر پر سلاتے اور کبھی کبھی حفاظتی تدابیر کے طور پر ان کی جگہ تبدیل کر دیتے تاکہ اگر کوئی حملہ ہو تو رسول ﷺ محفوظ رہیں۔ یہ محبت محض خاندانی نہیں تھی بلکہ اس میں ایک روحانی شعور بھی شامل تھا۔ ابو طالبؑ جانتے تھے کہ ان کا بھتیجا کوئی معمولی شخصیت نہیں۔
بعثت کے بعد ابو طالبؑ کا کردار
جب رسول اکرم ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں نبوت ملی تو مکہ میں شدید مخالفت شروع ہو گئی۔ قریش کے سردار اسلام کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے۔ ایسے حالات میں حضرت ابو طالبؑ نے کھل کر رسول اللہ ﷺ کی حمایت کی۔
قریش کا دباؤ اور ابو طالبؑ کا جواب
قریش کے سردار بارہا ابو طالبؑ کے پاس آئے اور کہا: “اپنے بھتیجے کو ہمارے معبودوں کی توہین سے روکو، ورنہ ہم سخت اقدام کریں گے۔” ابو طالبؑ نے رسول اللہ ﷺ کو بلا کر معاملہ بتایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “چچا جان! اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں، تب بھی میں اس پیغام کو نہیں چھوڑوں گا۔” یہ سن کر ابو طالبؑ نے فرمایا: “بھتیجے! جا کر اپنا کام کرو، میں تمہیں ہرگز دشمنوں کے حوالے نہیں کروں گا۔” یہ جملہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ابو طالبؑ نے کھل کر اعلان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے محافظ ہیں۔
اشعارِ ابو طالبؑ اور ایمان کی گواہی
حضرت ابو طالبؑ کے متعدد اشعار تاریخی کتب میں محفوظ ہیں جن میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شعر میں کہتے ہیں:
ولقد علمت بأن دین محمد
من خیر أدیان البریة دینا
ترجمہ: “مجھے یقین ہے کہ محمد کا دین تمام ادیان میں سب سے بہتر دین ہے۔”
یہ اشعار اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ابو طالبؑ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے حامی تھے بلکہ ان کی نبوت پر یقین بھی رکھتے تھے۔
شعبِ ابی طالب: عظیم قربانی
اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب “شعبِ ابی طالب” ہے۔ جب قریش نے بنو ہاشم کا سماجی و معاشی بائیکاٹ کیا تو حضرت ابو طالبؑ نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر ایک درّے میں پناہ لی جو بعد میں “شعبِ ابی طالب” کہلایا۔
یہ محاصرہ تقریباً تین سال جاری رہا۔ اس دوران:
خوراک کی شدید قلت رہی
بچے بھوک سے بلبلاتے رہے
تجارت اور معاشرتی روابط منقطع رہے
حضرت ابو طالبؑ اس تمام مصیبت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ وہ راتوں کو پہرہ دیتے اور ہر ممکن تدبیر اختیار کرتے کہ دشمن رسول اللہ ﷺ تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ابو طالبؑ کا تعلق صرف رشتہ داری تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ رسالت کے محافظ تھے۔
ایمانِ ابو طالبؑ: تاریخی و اعتقادی بحث
اہلِ تشیع کے نزدیک حضرت ابو طالبؑ مومنِ کامل تھے۔ متعدد شیعہ علماء جیسے شیخ مفید اور علامہ مجلسی نے اپنی کتب میں ان کے ایمان پر دلائل پیش کیے ہیں۔
دلائل میں شامل ہیں:
ان کے اشعار
رسول اللہ ﷺ کی مسلسل حمایت
حضرت علیؑ کی تربیت ایک مومن باپ کے گھر میں
اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے کہ ابو طالبؑ نے بعض حکمتوں کی بنا پر اپنے ایمان کو مخفی رکھا تاکہ وہ قریش میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکیں اور رسول اللہ ﷺ کا بہتر دفاع کر سکیں۔
حضرت علیؑ کی تربیت
حضرت ابو طالبؑ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے محافظ تھے بلکہ وہ علی بن ابی طالب کے والد بھی تھے۔ انہوں نے حضرت علیؑ کو ایسے ماحول میں پرورش دی جہاں حق، صداقت اور شجاعت کو بنیادی اقدار سمجھا جاتا تھا۔
حضرت علیؑ بعد میں اسلام کے سب سے بڑے علمبردار بنے۔ یہ تربیت ابو طالبؑ کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
عام الحزن: وفاتِ ابو طالبؑ
سن 10 نبوی میں حضرت ابو طالبؑ کا انتقال ہوا۔ اسی سال حضرت خدیجہؑ کا بھی وصال ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سال کو “عام الحزن” یعنی غم کا سال قرار دیا۔
ابو طالبؑ کی وفات کے بعد قریش کے ظلم میں شدت آگئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک ابو طالبؑ زندہ تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک مضبوط ڈھال تھے۔
کردار کی خصوصیات
استقامت: شدید دباؤ کے باوجود حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔
شجاعت: قریش کے سرداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔ وفاداری: زندگی کے آخری لمحے تک رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔ بصیرت: نبوت کی حقیقت کو پہچانا۔
قربانی: شعبِ ابی طالب کی تکالیف برداشت کیں۔
تاریخی اثرات
حضرت ابو طالبؑ کی حمایت کے بغیر ابتدائی اسلام کی بقا مشکل تھی۔ ان کی موجودگی نے:
رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ کا موقع دیا
مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا
بنو ہاشم کو متحد رکھا
یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اگر ابو طالبؑ نہ ہوتے تو اسلام کی ابتدائی تاریخ کا رخ مختلف ہو سکتا تھا۔
نتیجہ
حضرت ابو طالبؑ کی زندگی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کے چچا نہیں تھے بلکہ اسلام کے ابتدائی اور نہایت نازک دور کے سب سے مضبوط محافظ تھے۔ جب مکہ کی فضا شرک، قبائلی تعصب اور سیاسی دباؤ سے بھری ہوئی تھی، اُس وقت حضرت ابو طالبؑ نے اپنی سماجی حیثیت، قبائلی اثر و رسوخ اور ذاتی وقار کو رسالتِ محمدی ﷺ کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا۔ اگر وہ قریش کے دباؤ میں آ جاتے تو پیغامِ توحید کی ابتدائی اشاعت شدید خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ ان کی زندگی سے چند بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں۔
تحفظِ رسالت کا تاریخی کردار
جب کفارِ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو خاموش کرانے کے لیے ہر حربہ آزمایا، تو حضرت ابو طالبؑ ایک مضبوط دیوار کی طرح سامنے کھڑے رہے۔ ان کی سرپرستی نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کو وہ عملی تحفظ فراہم کیا جس کی بدولت دعوتِ اسلام جاری رہی۔ ان کی وفات کے بعد قریش کے مظالم میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی موجودگی ایک مؤثر رکاوٹ تھی۔
ایثار اور قربانی کی مثال
شعبِ ابی طالب کی تین سالہ محصور زندگی صرف ایک سماجی بائیکاٹ نہیں تھی بلکہ ایمان اور استقامت کا امتحان تھی۔ اس دوران حضرت ابو طالبؑ نے بھوک، پیاس، اقتصادی دباؤ اور سماجی تنہائی کو برداشت کیا، مگر رسولِ خدا ﷺ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ یہ قربانی ان کے اخلاص اور وفاداری کی عملی دلیل ہے۔
ایمانی بصیرت اور فکری شعور
ان کے اشعار اور طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ رسالت کی صداقت کو پہچانتے تھے۔ ان کا ایمان مسلّم ہے اور ان کی ساری جدوجہد اسی ایمان کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے حکمتِ عملی کے تحت اپنے مقام کو محفوظ رکھتے ہوئے رسالت کا دفاع کیا، تاکہ دشمنوں کے مقابلے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
تاریخی تسلسل میں اہمیت
حضرت ابو طالبؑ نہ صرف رسول اللہ ﷺ کے محافظ تھے بلکہ وہ اس گھرانے کے سربراہ تھے جس سے بعد میں علی بن ابی طالب جیسی عظیم ہستی سامنے آئی۔ ان کی تربیت اور ماحول نے آئندہ اسلامی قیادت کی بنیاد رکھی۔ اس طرح ان کی خدمات کا اثر صرف ابتدائی دور تک محدود نہیں بلکہ بعد کی اسلامی تاریخ تک پھیلا ہوا ہے۔
عام الحزن کی معنویت
ان کی وفات کے سال کو رسول اکرم ﷺ نے غم کا سال قرار دیا، جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کی شخصیت پیغمبر کے لیے کس قدر سہارا اور تقویت کا ذریعہ تھی۔
مختصر یہ کہ حضرت ابو طالبؑ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کا دفاع صرف زبان سے نہیں بلکہ کردار، استقامت اور عملی قربانی سے ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایمان اور وفاداری اگر مضبوط ہو تو شدید ترین دباؤ بھی انسان کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ مدافعِ رسالت ہونے کا اعزاز انہیں تاریخ نے عطا کیا ہے، اور ان کی سیرت ہر دور میں اہلِ ایمان کے لیے حوصلہ، وفا اور استقامت کی روشن مثال بنی رہے گی۔









آپ کا تبصرہ