حوزہ نیوز ایجنسی |
ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا " (سورہ نساء، آیت 59)
ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو جو تم ہی میں سے ہیں پھر اگر آپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹا دو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہو- یہی تمہارے حق میں خیر اور انجام کے اعتبار سے بہترین بات ہے۔
أبو خالد الكابلي بیان کرتے ہیں: میں اپنے آقا علي بن الحسين زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "مجھے ان ہستیوں کے بارے میں خبر دیجیے جن کی اطاعت اور محبت کو اللہ عزّوجلّ نے واجب قرار دیا ہے اور اپنے بندوں پر لازم کیا ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کی پیروی کریں۔"
آپؑ نے فرمایا:"اے کابلی! وہ اولی الامر جنہیں اللہ نے لوگوں کا امام بنایا ہے اور جن کی اطاعت ان پر واجب کی ہے، وہ امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں، پھر حسن بن علی علیہ السلام ہیں، پھر حسین بن علی علیہ السلام ہیں، پھر امرِ امامت ہم تک پہنچا۔" اس کے بعد آپؑ خاموش ہو گئے۔ میں نے عرض کیا: "اے میرے آقا! ہم سے روایت کی گئی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: بے شک زمین اللہ کی حجّت سے خالی نہیں رہتی؛ تو آپ کے بعد حجّت اور امام کون ہوگا؟ آپؑ نے فرمایا: "میرے بعد میرا بیٹا محمد ( باقر علیہ السلام)ہوگا، جس کا نام تورات میں باقر ہے، کیونکہ وہ علم کو اس طرح شگافتہ کرے گا جیسے کوئی چیز پوری طرح چاک کی جائے۔ وہ میرے بعد حجتِ خدا اور امام ہیں، اور محمد (باقر علیہ السلام) کے بعد ان کا بیٹا جعفر (صادق علیہ السلام) اہلِ آسمان کے نزدیک صادق کے نام سے معروف ہے۔"
میں نے عرض کیا: اے میرے آقا! ان کا نام خاص طور پر صادق کیوں رکھا گیا جبکہ آپ سب ہی صادق اور راست گو ہیں؟
فرمایا: میرے والد نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جب میرا فرزند جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب پیدا ہوگا تو اسے صادق کہا جائے گا، کیونکہ اس کی پانچویں نسل میں ایک اور شخص ہوگا جس کا نام جعفر ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ پر جرأت کرے گا، اس پر جھوٹ باندھے گا اور امامت کا دعویٰ کرے گا۔ وہ اللہ کے نزدیک جعفر کذاب اور اس پر بہتان باندھنے والا ہوگا۔ وہ ایسے مقام کا مدعی ہوگا جس کا وہ اہل نہ ہوگا، اپنے باپ کا مخالف اور اپنے بھائی سے حسد کرنے والا ہوگا۔ وہ غیبت کے زمانے میں اللہ کے ولی کے راز کو فاش کرنے کی کوشش کرے گا۔"
پھر امام علی بن الحسین علیہ السلام نے شدید گریہ کیا اور فرمایا: "گویا میں جعفر کذاب کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے زمانے کے سرکش کو اللہ کے ولی امر کی تفتیش پر آمادہ کر رہا ہے، جو اللہ کی حفاظت میں غائب ہوگا اور اپنے والد کے حرم کا نگران ہوگا۔ یہ سب اس کی ولادت سے ناواقفیت اور اگر موقع مل جائے تو اسے قتل کرنے کی حرص اور اپنے بھائی کی میراث پر ناجائز قبضہ کرنے کے طمع کی وجہ سے ہوگا۔"
ابو خالد کابلی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے فرزندِ رسول! کیا یہ امور واقع ہوں گے؟
فرمایا: "ہاں، میرے رب کی قسم! یہ سب اس صحیفہ میں لکھا ہوا ہے جو ہماری والدہ کے پاس ہے، جس میں ان مصائب کا ذکر ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم پر آئیں گے۔"
ابو خالد نے عرض کیا: اے فرزندِ رسول! اس کے بعد کیا ہوگا؟
فرمایا: "اس کے بعد اللہ کے ولی کی غیبت طویل ہوگی، اور وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصیاء میں بارہواں وصی اور آپؐ کے بعد کے ائمہ میں سے ہوگا۔ اے ابو خالد! اس کے زمانۂ غیبت کے وہ لوگ جو اس کی امامت کے قائل ہوں گے اور اس کے ظہور کے منتظر ہوں گے، وہ ہر زمانے کے لوگوں سے افضل ہوں گے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ایسی عقل، فہم اور معرفت عطا کرے گا کہ ان کے لئے غیبت ایسی ہی ہوگی جیسے مشاہدہ۔ اور وہ اس زمانے میں ایسے ہوں گے جیسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تلوار لے کر جہاد کرنے والے۔ یہی لوگ حقیقی مخلص، ہمارے سچے شیعہ اور پوشیدہ و آشکار اللہ کے دین کی دعوت دینے والے ہوں گے۔" اور فرمایا: "انتظارِ فرج بہترین اعمال میں سے ہے۔" (کمال الدین، جلد 1، صفحہ 319)
سُلَیم بن قیس ہلالی سے روایت ہے کہ میں نے علی بن ابی طالب علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "اپنے دین کے بارے میں 3 قسم کے لوگوں سے بچو:
اوّل: وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے، یہاں تک کہ جب تم اس کے چہرے پر قرآن کی رونق اور اثر دیکھتے ہو، تو وہ اپنی تلوار اپنے پڑوسی پر کھینچ لیتا ہے اور اس پر شرک کا الزام لگاتا ہے۔" میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! ان دونوں میں سے شرک کا زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا: "الزام لگانے والا (یعنی بہتان تراش)۔"
دوم: وہ شخص جسے (جھوٹی) باتوں اور افواہوں نے ہلکا کر دیا ہو؛ جب بھی کوئی نئی جھوٹی بات گھڑی جاتی ہے، وہ اس میں اس سے بھی زیادہ اضافہ کر دیتا ہے۔
سوم: وہ شخص جسے اللہ عزّوجلّ نے اقتدار دیا ہو اور وہ یہ گمان کرے کہ اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور اس کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔ وہ جھوٹا ہے، کیونکہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہوتی۔ مخلوق کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ کی معصیت میں کسی سے محبت یا اطاعت کرے۔ پس اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں، اور جو اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بھی کوئی اطاعت نہیں۔ اطاعت تو صرف اللہ، اس کے رسول اور اولی الامر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کا حکم اس لئے دیا ہے کہ وہ معصوم اور پاک ہیں، اور اللہ کی نافرمانی کا حکم نہیں دیتے۔ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم اس لئے دیا ہے کہ وہ بھی معصوم اور پاک ہیں، اور اللہ کی معصیت کا حکم نہیں دیتے۔" (الخصال، جلد 1، صفحہ 139)
مذکورہ آیت و روایات کی روشنی میں درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
1. اولی الامر کی اطاعت مطلق ہے اور مطلق اطاعت صرف معصوم کے لئے معقول ہے۔
2. اہل بیت علیہم السلام نے اولی الامر کے مصداق معین کئے ہیں۔ جن میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے لے کر بارہویں امام حضرت مہدی آخر الزمان عجل اللہ فرجہ الشریف تک تسلسل پایا جاتا ہے۔
3. امامت منصبِ الٰہی ہے۔ یہ عوام کے انتخاب یا سیاسی اقتدار کا نتیجہ نہیں، بلکہ الہی انتخاب اور نصِ نبوی سے ثابت ہے۔
4. دین میں ہر صاحب اقتدار واجب الاطاعت نہیں۔ بلکہ معیار عصمت، حق اور عدمِ معصیت ہے۔
5. غیبت کا زمانہ امتحانِ بصیرت ہے اور منتظرین کو فکری، اخلاقی اور عملی طور پر دین کا پاسبان بننا ہے۔









آپ کا تبصرہ