کلام: مولانا سید شفیع حیدر بھیکپوری
حوزہ نیوز ایجنسی|
وارثِ زھراء بچا لو آکے توقیرِ بقیع
پھر فدک جیسے لٹی جاتی ہے جاگیرِ بقیع
ہے یہی عرشِ زمیں کچھ سورجوں کی جلوہ گاہ
آسمانوں کو ضیا دیتی ہے تنویرِ بقیع
داستانِ غم سرِ قرطاس جب لکھتا ہوں میں
سرخ ہو جاتا ہے خود ہی رنگِ تحریرِ بقیع
گر دکھانا ہو جہاں کو چہرۂ اہلِ نفاق
ہو غدیر و کربلا کے ساتھ تشہیرِ بقیع
دیکھے اولادِ اُمیّہ عشقِ زھرا کا کمال
ہو رہی ہے ہر زمینِ دل پہ تعمیرِ بقیع
ہر صدی میں تم پہ لازم ہے ولایت کا دفاع
دو زمانے بھر کو یہ پیغامِ دلگیرِ بقیع
لڑ کھڑا کے گِر پڑوں میں قبرِ زھرأ کے قریب
کاش یوں اُلجھے مرے پاؤں سے زنجیرِ بقیع
ہے یہاں پہ جب سے قائم، روضۂ اُختُ الرّضا
حق نے بخشی ہے زمینِ قم کو تاثیرِ بقیع
گنبدِ خضرا سے جو نظّارہ کرتے ہیں شفیع
خون رلواتی ہے ان لوگوں کو تصویرِ بقیع
از قلم: مولانا سید شفیع حیدر بھیکپوری









آپ کا تبصرہ